ین وی
٢ ا ا ا ا یا یا یا ال مر تا
با
و
دا دا دا دی دا تو دو د1 دا کو دا دا گر دا کا سی کے نو ا کا کا ا تب کا نا ئ تا نت بپرسر
8 ااؤطۂ۸ عددلۃ )د8 سا 018 ۳٣۰1۷5۵۸۳۷۳۰۱ 5اا 2 0800 ۰٣ك۳۳٣۳ اق 5 - ملہوہد8
لہہمہممہ مہم مہم مہم مم مہمہم ہم ہف ہہ ہف ف ہہ ہف وف ہف ہف ہف ہہ ہہ ہمہ مم ہم ہم مہم مہ ہہ ہم مم مہ
مکنا ہہوں ےکی ےکیڑیں ؟
امزیں حضرت مو نا متیشج شیب اردان صاحب متا گی دامت پرکا تم ای ونم لاعت الاسلا می العلوم لور
الجامعة الاسلامیة مسیح العلوم بنگلور
مفہہمہمہممہہخمہمہہ ہمہ مہہ ہہت ےے مم مم ممممہمممہمہمممہۃ مح ظ٣ صظ۰ صۃ7۶ق ب۸ وص ہہ مہ مہم مم مہف
ہممہمم ہم مہہ ہم مہہممممہممہہہ ہہ ہہت ھت ہہ ہہ مہ ہہ مہہ مہ مم مہم ہہ ہہ ہہ ہہ ہہ ہہ ےت ہہ ہہ مہ مہ ےم تہ ہے ہہ ممد مم مھ مہ ممممہ۔ مخخہھہھہھ ہہ ہہ ہہ ہہ مہہ ےم ممحخہخہخمۃمتمخعقفقفع مغ مم مہم مہ مم م مم مہم ہم تم مم ہم مم مم مم مم مم مم ہمہ مم مہم مہم ممہ ہم مم م ہہ ہ ظ مم مختف
وھ بے قوچ
ا
پل
عنوان صفحه
مقرمہ ۸ طاعت وصحصیت کے اط سے انسا نکی جا ڑنھیں 1 گناہ سے بنا سب سے بڑاواچھمکام ۳۲ گنا وکچھوڑ نے وال ادگ ار ےآ گے ۳ کنا کلف وی تک نکی :اک اق ےا انان فرشتوں ےک ہترباجانوروں ے بدڑ ۸ گنا ہیں کے را تۓے ۹ مگمرابی کے دوراتۓے شبات و گہوات اك
یں اورنظر 0 برای کے تح حییع انز صاحب کے اشعار ۲۳۴
.ٔ ۵ 72 ھ ٹراہ 2
حصم
گنا وی روحا ی آفتٍں 0 یمان کے لک خطرہ ٰ" نعل بن حاط بکا عہرت ناک واقعہ 7
دےٗءٰسی چوچو ت ووچ ے
سو ء ناخ کا ان شہ
اہر تھویت ۳۵ د لکالا ہو جا اے ۳۸ ول برمہرلگادی جای ے ۳ ذ ات ونواری ٢ وشن داوس مششن رکز دل برموت م۳" مناجات وطاح تک لزت جرد زگ ولوں 702900 نرعاین ےأ عم ےجرد 22 ال الپرے وحشت ۸أ گناہ کےا ہرکی ماب وآفات 69" گنا بہوں کے اشر ات او رتچ ر اسوو ۵۰ س نائی اورزل ےکیو ںآ تے ہیں ؟ ۵ لن و پلاکت ٹج ومیوں کش ۵۵ زق زار ےرت ے۵ انا کا دائسن کے پرابر ے۵ الیک کا ےی کاو ںکادودھ ۵۸ وشیروا ںکاقصہ ۵۹
مخلو کادل پچ رجا جا ے ۰
سی ووو لے ووچ دم
مت دشو تک ب بادی
ایک نو جوا نکاعبرت ناک واتھ ٦ ٦ 7 عبات سگمناوگارو ںکوشائی مت "۴
گناہ سے پ ہی کیو ںگیں؟ 4۷ مو نکنا کو پپاڑاورفاسکھ تا ے ٦ یرد وی ر وکنا ہکیا ے؟ ۸ راک بڑا یھن وا گنا ءک یھو نی ں بیج سکتا 7
گنا وچھوڑ نج سک مخالئشت تضروری ے ٣ے گنزابٹس بن وا ل ےکی ایک جیب شال “٣ے
اس رائ٘یل کے ایک راہ بکا عبرت ناک واقعہ ٢ے
پہلاف دم تو لصو ۸ے ہی فخیلت ۸ے مازوہ ۹ے وب کافاندہ ۸۰ و کاایل واقعہ ۸ ضصو ںکی یں ا۸ انی پر خداکی عفایات ۸۲
رت اش رعاثی کی نو پک واقعہ ۸۲ ایک ہیاس رانک یکاہ ۸۳۲
دٗے سی و٭إوچ ری ووچ دم
جخرت وی کے مانے کے ای کفکمنا کا رک نب دمناجات
ایک نو جوا نکی الد کےحضورمنا جات ے۸ شماعرا اون ا سک نو برومناجات ۸۸ ایک نو رب مناجات ۹۰ فو بکرنے والوں پران دی خثایات ا۹ ایک عدادشت لو ہارکاتصہ ۹۲ ایک نصا بکاداتعہ ۹۳ گنا گچھوڑنے کے لئ چنداہم لے "۹ دشرم وحیاء ۹۳ حیاءکی فضیلت ۵ حا ءکی تفیقت ۹۵ ے حا یکانتصان ٦ شیاءکی وین ے۹ حیاءپراک بر کےاٹوال ۹۸ ہمارےئی عگ یلیب یحاء ۹۹ ضر ت1 د مکی حیاء ١ حخرت بیسف علپاسلا مکی مہ 5 ضرت داودعلی السلا مکی حیاء ۰۳ ظرت الو روا لو و کی حیاء .- ایک جاء دارکاواتے سس
اید کے حا ضروناظھرہہو ےکا نین ۳
در سی و 3ث بن ووي ہجئگیں مرا کہاں سے؟ ایک واقعہ ۴ میں عمرکا خدراجا ضا ے ۵ ایک درواز واج یکھاا ہوا ے 5 ای کعبرت ناک داقہ ۷ ایک الد دا ن ےکینشبحت ۹
ال رکا غوف خخت ے٭ خوف خی تک فلت ے٭ خوف خداب ما کےاقوال ۹ کل ےےشوفباوات ٢۰ ایک عابدکا مکنا اورخوف ےل .گرا ۳' عق فلام ےخو فکاواتعہ سا ارک کاخ فخراونری ”۳ ایک و جوا نکاخوفی سے نر کگزاداورمو ت کا وات ٦ك نت مراونر یکا خضار ِ۸ ابرا ڈیم بن ادن کے با برای ککنا ہکا رن ہہ ِ۸ لمت خداوندی کے احصائسس پر ایک شرا یکاہ ۷۹ موت .کہ وصنش کے ہہولناک احوا لکا مرا قہ ٢ ٢ - 0 , >۲ ,0 ست
کیا نت یت لا نک ریا ع نگ اکر ۳۵
ے هوچ
ہز رگا ن امت کے ارشادات غ صحفر تیگ رین ہدالعزی ہانگ رآ خرت کی عمری نعپرالمت زی کا ایک اورواقعہ ۸ امام لوعل یف ہاور رآخرت اع حفرت رق بن یٹ میا حال ۳۴ سلمان ہک یکپر الٰل ککاواتے ۳ پارونالرشیدکا خو فآخرت سےگر یہ ۳ عمبرانن بن مرز و نکی رآخرزت ۳۳٣ پت جمتلوگوں کے لے حضر تیم الام تکا ناس شفاء ۳۳ 2 یں مایا یع مخت صا حب دامت برکاتکم ۳۵ امہ ع۳
ووو ے هوچ
سیل نم
7پ سی سی متاتو(لمہ
الحمد والثناء لولیه والصلاة والسلام علی نبيە ء ومن تبعه من اسعار آرامہ ماد
موججودہ دور میں ججہاں ظاہری دمادیی یں عیرت اگییزعد تک تز یکر ی اتی میں اورروز بروزاش یل اضافہ مشاہ ہود پاے ہو ہیں ریگھی پالئل واسح طور بر دکھائی دےد پا ےکہانسائن ای انسانییت وروعاحبیت کےلھا با سے ا ای بجی وزات کی ططرف جار راے؛+اوراس میں بھی لبقات کے انسان شائل ہیں :یس روگ رت وا تاب ہیں استجاب وتیر تکا موقہل یر ےمد دانسا نچھی ا سچپستی دخواربی کے گھڑ ھھے میں دکھاکی دےر اے جوسلما نکہلا تا اوراڈدورسول پرایمان رگتااورقر ک وحعد بی ٹکو ماضزااو رآخرت ء ساب وکتاب ہس زاوجتز اک سلی رکرتا ے۔
ادورا یلت یک وجہ بی ےک ایک گچھو لے سے می ےکوگھو کر مت کے اکر وشن رلوگوں ٹیس ایک طرف طاعات وعبادات می ںنفلت و ستقی ےو دوسریی جاب
4 بن ٭قق محصبیت کےکا موں میں رت ود ہے۔اور برای کتقیقت ےج سکاکوکی انار تی ںکرسل اک ہآ جلوگوں می سگزا وکا سلملہ بہت زیادہ ہوگیا ہے ء اور عام سے عام بنا جار ہا ہے بش کہ السا گنا ےک گنا ہک وگناہ نے وانے اور ا سکونقصالن دہ خیال کر نے وا بھی ناپبید ہو تے جار سے ہیں ہ بللہاس ےھ یآ کے صصورت عال یہ ےک یٹجتض لو کن ہو ںکویک مال تخرد اکن منائش ہن رن کے ہیں ۔ بافض و کالچوں اوراسکولو ںکا ماحو لگناہہوں کے لئ ایک ین کی حشیت رکتتاے او رگنزاہ ایک معمو بات سو ںکی جالپی ہے یجس پرکوئی خقرت وجب ہونا ان لوگوں کے ند یک خودقای جب وقائل رت ے۔
اور ا ںصور کو پر رنے ین در اسباب کے سا مو جودہ دور میں لَٰ وی ء انٹرشیٹ اورکتل فو نکواولی تکا متقام حاصسل سے اوران چچیزو ںکی وج ے محصبیت گناو کے اس سلملکومز بروسععت وبپچھیلا و عاصل ہ گیا اور کہا جا سا ے ک ہآ بنوں یز ںمناہہوں کے سب سے زیادہ طافتذر و مث ومضبوط وو فان ارات بن سے ان ان انا ا کی اس اک دے شی ءوغیرہ خیابت اپنے عرونع و انا ءکوکیغ گے ہیں جو در اصل ایک خطرہ کا سائرن سے ںگراس میں لوگو ںک یفلت وٹ ےی اس فند رعام وتام ےکا جاخب قجردلا بھی جانی اذ لو تو می کر تے_
اوراس صورت عال کے نا پاک اشثرات وخط راک ج رانیم یہا ں تک تن رہے ہی ںکہ ہی وطاع تکر نے وا نے لو کب گناہ سے بین میں وقتگس و ںکرتے ہی ء بل۔رطا لم یلم وغل کہا نے وا بھی ان می مو نظ رآ تے ہیں ۔ ایک ز مان تھا کہ مدارس ود نی عکقتوں میں شائل ہونے وا نے اولیاء ال"
4 تك وق ہوتے تھے می رےحفر تک الاممت شا ہج اللہ خان صاحب رح اتا ی تر ایا کرت تھےکہ پیل ہرمدرس اق ہنھی ہو اکرتا تھا لہ اجودہاں داشل ہوتاء دوولا بت کے درجا بھی ٹ ےکرتا جات تھاءمگر اب حال مہ ےکہ مدارش می بھی کاکوں و اسکولو ں کا ماحو لن ظ رتا 2 7ئ اکنا ہہو کا ا یک سلسلہ ہل ر ہاے۔
ان حالات کے یی ظز مرلنظ رت رم می گنا ہکی قباحت وشناعحعت اس کے خنتصانات ومصا تب ءا بے ۓ کے دک نظ رن ور یۓ او رسلف انی کے الال داحوال وا لات تناما کی رش یس بی نک ےک ی ہشن کی گئی ہے ۔اور یچ دراصل اپنے مطالعہ کے دوران وف تا طور یادواشت تح کرتار پااورساتج بی سات ملف مالس ٹیس ان امورکوبدر سے کے اسا تجذ ورگ رام اون عوابی میلس میں عوام کے سام بلاگسی خائص ترتییب کے با نکر ن ےکا بھی موقہمتتار با ء اوران امورکوئ کر ن ےکا اصل مقصرسب سے بین خووکوفا ند انا تھا ؛کیونکہ بار بار ا نکو پڑ نے سے ہوسلنا ےکہاپنے اند کی غفلت و بے شی دور ہوجاۓ اوردوسرا مقص ناو بی در ہچ میں بجی نظ رق اک خمام ابل اسلا مکوائسں سے فاکدہ یج ۔ بی رخیال ہواکہ ان امو رکو چیک اص ترحیب کے ساتلکحددیا جا ۓ تذ اختفادے ۰ی ںآسمالی ہودگی بل اودی ا مور ایک نماض ترجیب کے ساتح یش عکمر کے یی گے جار سے ہیں ۔ااشدرب العز تک بارگاد فرش بی دعاء ہ ےک وہ بس بکو ایام ضیات پر چلاۓ اورا نی نامضیات سے بچاۓ-
۳۰ / ادگ الا زھ۷ ٣۳٣۱ھ نت مطا لی ٣۳: ی(۳۰۱ء رشب الخان
لیمعت الاسلام تچ اعلوم, بنگلور
وق قوج
ہرسلمان نیہ بات جا :نا چگی سے اور ما تنا ھی ےکانسا نکی د یوک صلا و کیا میا لی اوراخر وگ غجات وسر غرازکی الیدورسو لکی اطاعت وف مائبرداریی اوراا نکی محصہیتٹ وسنتی سے پرئجز وروری مین ارہ ے۔اور پیعقیدسوئی 7٦ ےاور مات میں سے ے ۔ہٰذا +-, ا جات ےک دہ اروسصل٣ی اطا عحت دخ رمانبردارک یکر ے اورگزا وو حصیت ےکی لور بر پر ہی زکرے۔
طاعت دش حصیت کلفاظط سے انسا نو ںکی جا میں
گرجب ا ملوگوں کے حالا ت پنو رک تے ہیں معلومبہوتا ےک ہرطا عت ومحصیت کےلحاظط سےلوگو ںکی جا ڑممہیں ہیں:
رک رن ای طرز یک ات یفالت و رازہ نواٹ واذ ار ہخلاوت دم رانقبات وخ رکا ا ہت (کمر تے میں دوس بی طرف محصیت وناہ سے یی ےکا بھی پودا اما مکرتے ہیں ۔ ہلوگ سب سے زیادہ اگ اور ایرد رسو لکیظ ری ںٹحروب ہیں
(۴) دوسرے وولوک جو نت طا عت ونگی اضجام دیے ہیں اور صحصیت و
لو بی ووی برائی سے نے میں ہلوگ اللدودرسول کے نز د بک سب سے زبادہم یخوش میں اور سے .تر کلت
(۳) تیسرے وولوک جوطاعحت کا و جھر پوراتما مکمرتے ہیں ء طاعت و بی نمازروزہ ہر ور ءذکر وتلاوت سب ٹیل بڑکی بابندی دکھاتے یں پگ رمحصیت سے یی کاا تما نی لکرتےء بللہ طاعتول کے ساتدسا وڈ وشیطا نکی ما نک گناہ ھی برامرکرتے رتجے ہیں۔
(۴) چو تے دو لوک ہیں جو طاع تکا زیادہ اجخما مکی ںکرتے ملا ذکرو اذکارہ یا طلاوت وڈواش لک یکشزت وغی رہ کاکوکی خائص اجتماع نی ںکرتے ء بللصرف ف راس وواجبا تکاا ہا مکر لیے ہیں ان متصیت وگناہ سے :یی ےکا خوب ا ہام تن
یییسرے اور چو تچ ےعم کے لوک ء ان مس سے ایک فم لی طاعت ئُل چوس ویقست ےگ رمحصیت سے بے بروا وسر اور ایک ف ریش اس کے برخلافصحصبیت کے بارے می ربق ط و پا بند ین طاعت میں ٹل وست۔
مم جا ایک بات یاد رک ےکی ےک ہمحصیت میں اڑا ءطاععت مل فلت سے زیاد جخت و برک بات ہے ء اس لئے طاععت کے سا تج دسا تق ھ اہ سکاب ڑا امام جات ےک ہگنادومصبیتکاکام نہہونے پائے-
گناہ سے بنا سب سےا چم دب ایام
ای لے حضرت ازان ع اس دش العنہ سے ایک ٹیس نے لو چھا کہ ایک آدٹی وہ ے ج گنا وگھ یگ مکرتا سے اور یپ یکم ءاوردوصرادہ ے ج وکنا وجھی زیاد کرتا
(قأػھ بے ووپی ہے اود بھی ذزیاد ان یل سےآپ کےنز دی ککوان پپند یرہ ے؟
حخرت امن ع اس دصی ال نہ نف رما اک
* اغدل بالش مد میا“( سلائتی سے برا می کی سکھتا) (الترھد لا بن ا ارک :۴ اءادب الد نیاوالد ی نک کماوردی:۹۸)
ین گناہ سے مک ر اتی پالینا دم 9 برا کوئی اور ل نہیں ہوسکنا۔اہز اگناء سے کی ےکوتر نید ینا جا ہے خوا ون ال وا کا رکی پا بندگی نہہد-
چی ودبات سے جن سکوٹنن زاہد بین نے فرماا تھاء جب ان سے لو امیا تھاک ہآ پ را تکی نمازجچن یتید کے بارے می ںکیا کے ہیں ؟ نان ہوں نے ف رما کہ تی الا بالشار و نَم باللیل “ (دون شی الد سے ڈرتے رہواور را ت گر سِچاو) (ادب الد یاوالد ین )١۱٤/۱:
یی بےکہنا ات ہی ںک اگ دن میں خوف خداوندی وخثیت ال یکا ھاظ کرتے ہوتۓ زند یکی ف بچھ راس می ںکوکی حلاص تن کردا تگھرسوجا 5او رظ ہر ےسخوف دخش تک زنک یگنادے پاز ر 0 ے۔اگ رکوئی نخس اس ط رح خوف وخشیت سےد نگمز ار ےگا تو ا سکوڈوائل کے نہ پٹ ھن برکوئی ملا ت کیل -
ای طرں مقول ےک ایک مرگ ن ےس یکوس کہا اقوم سے ب یکہدد ا ےکہ :لگا مکوخیند نے ہلا کفکردیاءنذ دہز رک فرمانے گ ےک :نیس ہ بللہا نک بیرارگ نے ہلا گکپاے- (ادب الم یاوالد إی:۱/ے۱١)
نی را کواش ےکر نوائل نہ پڑ ھن سے ہہ ہلا ک یں ہو بللہدن یل 0 000 پا و الو نے ےب رودیا یی ےک ہگنادے بازآجاتیں-
چو ) و(۵و گنا وکچھوڑ نے والاعپاد تک اتآ گے بلراحادیث سے بیجحی معلوم ہہوتا ےک گناہ سے نے وا ن ےکومھاہر کر نے والے کے پرابر دج متا ے_۔ ایک عدیث میں ےک ححخرت الد ہری ورشی ااڈدعن سے ہی ںکہرسول الد ضأی کم نے فرمایاکہ کون ہے ج میرک یہ پا اق نے اوران پل کرے اوردوص رو ںکوھی سکھا ۓ ؟ ظرت الد ہرس :ری ارڈرع ند کت یس یمیا نے عون لکیاکہ می کرو ںگا ۔آپ قآ فلکم نے میرا ات لیا ادر یہ پاچ با تل این ا :۸ ً- لْمَحَارم کو انا هوَارْض کاک الله َكَ تَگُنْ غَى النَاسِ ہو أَححیسْ لی حَارك تَگنْ مُمنوَ اجب لاس مَاتَجبٔ لِتَفَيِك تَگنَ مُسلماوَلَانَکِالضْحَكَ فان کثرة ( فو ترامکا موں سے ی لوکوں یس سب سے ڑ اعابدہوجا ےگا ؛اور دی تیم پرراشی ہوجاءسب سے بڑالفی ہوجا ےگا :اوراپنے دی سے اما نکر ہم ومن ہوجاےگا؟اوراپینے لئے جو پہنرکرتا سے دی لوگوں کے لئ پہنرکرمسلمان بہوچائے گااورزیادو نہ سنا ؛کیونکہزیادہڈسناد لکوھردوکرد یتاے) (تیذی: ۲۳۰٣۰۵ ند ا ۸۰۸۲,م دا گی :۹۳ش یبط رالی:۱۹ ۳۹۵۸ شب الا یمان:۹7۳) ورک رن ےکی بات ےکراود کےرسول حی دی کم نے اس عدیث شی ایک اب جب تک تے ہو ئے ف رما کہ
زوقؿق ری وؤوی 5 لَمَحَارِم تَگنْ أَغبَدَ لاس“( ترام کاموں اور گناہہوں سے بیغ بن سب ے بے اعیاد تگز ار بن جا تن گا ) اس سے معلوم ہہوتا ےک گنا ہکا چھوڑ نا انسا نکوسب سے بڈاعابد بنا د یتا ہے ؛کیوں او رکیے؟ وہ اس طر کہ جب انمان الد کے لگند وترا میا مو ںکو چھوڑد ےگا اہر ےکیفرلنض دواجباتبھ نہیں کچھوڑ ےگا ؛کیونل یڈ وواجب کوئچھوڑ کچھ یمن دورام سے مہ اجوجج یکنا ہکوکچھوڑ ےکا ووفرالحُل وواجہا تایشرور ار ےگاء اننن ظ رر این کے نے اخال می ایآ جاغٹ فرالح ذو دبا تا ابا مھا ہوگانذدوس بی جن بگنادپالینل نہہوگا ءال رح دہ بنلدوسب سے بڑاعابد ہوجا ۓگاء نی جب دوگناہ سے ہے ےگا فذ ا سکو اد ےج٥کق پیا ہوگاء وا کو انل داذکا رکا ھی پابند بناد ےگا ء اس رح دو عابدول میس انی ایک اقیا نکی شالن د بان قا مر لےگا۔ ایر ایک اورحعد بیث می لںحضرت عا ہیی اڈ عنہاے مردی ےلہ رسول ال عَلی فلس نے فرمایاک/ہ: الأُتُوبِ “ ( ےب بات خئ کر ی کر ا میا ۓآ اض جاے نوا ںکوچا ت ےک و گنا ہروں رق رج) (الترھد لا بن ا سارک :۲ا ء ات براین ای الدیا:۹) اس حدی کرت غحکرتے ہو نے ش جو ر مارح حد بیث علامکپڑ اروف المناوی کت ہی ںک:
رر لشکو رہ ”ان هُومَ الُنوب یور الجرماد ویْعَقْبْ الخْذلان وہر الحَْسران؛وقیڈالذنوب یمنع من المشی الی الطاعة ومسارعة الخدمة؛و ثقل الذنوب یمنع من الخفة للخیرات والنشاط فی الطاعات ۔والدینُ شطران:ترڈ المناهی وفعلُ الطاعاتءوترك المنامی وھو الُشلّغمن کف عنھافھومن السابقین المحدیْنَ حقا“(وجہ یہ ےک گنا ہو ںکیحوست محردمی پیداکر تی ءرسوائی لاقی اورکھا ناد سارہ ظا ہرکر تی سے نی کنا ہو ںکی قی دنگ یکی جاب می اورغدم تک طرف لیے سے رولقی ہےءاورگنا ہو ابو چو خی رک ےکا موں کیآسا نی اورطاعات ٹل نشاط سے ر وکماےء اورد بین کے دو جے ہیں :ای کگناہ چھوڑ نا اوردوسرے طاعات الا ناءاو رگن کچھوڑ نا ز یاددمشکل سے لہ اج گنا ورک کردا ود ننٹی می 8 کے ۷٦ 06 والوں میں رے ہے (ٹیش القرم:۳۷۸۷) یڑا یں حدریث میں الد کے ول تل کلک( نےگنادے نے وا تی مجن کے برا برق اردیا ہے مبذ امگمناہ سے ہ ےگا نواشل واذکا رکی پا نکر نے وا ل ےکا اج وم نیل جات گا ض ون الع کی ےرا اکر 2۶7 فائرمن خرن 7ت وھ للا2“ (عباد تکرنے والوں ن ےکوی عبادت ال کیٹ خگکردہچیزوں سے نے وکچم و نے سےزیادہ کہ ری ںکی) (جامح امعلوم وم :۹۷) اورتحخرت ائن ا سارک ن کہ اکہ: اک خبرم لن ےکوکپھوڑ دوںء یہ بے اس سے ریادہ اور ےک مس ایک اکدد رہ مکا صدقہ دوں ءاس طرح سے سکجتے انہوں نے جب کو تک شار
کسی ووق رے يفأع - ےکی
- (جامح امعلوم و اکم (۹٦: او رتضر تگمری نعبدالع زی کے ہی ںکہ: ”مس چاہتاہو ںکی فرش وت نماز کے علادءکوگینفل نہ پڑعوں ء کو کے سواکوگی صرت دددوںء رشان کے٤ روڑوں کےسسواکوٹی ربڑے وگین َء ارچ فیس کےسواکو ڈنل ری ز.کروں ء بل رمیرکی و ریقوت وط ق تکوا کی ترا مکردہ چیروں سے نے بیس لگادوں ۔ (جامح امعلوم وا م:۹۹) ان سارےاقوال ےت ی بی معلوم ہوتا ےک ہآ دی یکوگناہ سے سی ےکا ڑا اما مکرنا جا تئ اگرف رئش پرآ دٹی اکننفاءکر نے اورسماری ثوت دطاق تگناہوں سے نے میں لگاد ےا اس ک ےن 7 اکر ای ا2
ک گناو کےفتی دا تی نمقی۔ اک اق
ان ه٤ فااف کین فطاعاات غ رولت میاویک کنا کوک دتے یت رن ہوسلنا کیوقگہ ولایت ٹر ککگژاہ 7 می _ہذا واابیت کے لے ترک گناو لا زم ے۔
یق رآن می فرمایاکاے:
اِن أَولِيَاءُ ٥ال المتقونَ یہ زالانفال:۳۴] ( ال کے وٹ صرف وبی لوک ہیں جوف کی وانے ہیں )
اق کی یہی ےک کیوں وطاعنوں کے سات سا تج ترا ححم کےگمناہو ںکو وڑدیاجانے۔
قاصی اما معبد الواحد جن ز یئ نا ۰ین مل ایک بڑے در ہے کےصصوفیاء ےنارت یں اون کی ا کات کن دا رشن نت 39
زونح ین وی , ە- “2+ ت1ا ۶ن رڈ مقر کا ےب رات طارکی مگ ٹن نے درواز وگھواا یں ابٹھار ہآ دی داشل جہوۓ رشن پہ لو سے کےل ماس ے اوران کے پییروں میں افو رت اح دس وررےجوےے اورا نکیگمردفوں میں ق ران گے ہو ۓے تھے ۔ا نکی دوجس ببیت می فور ےھر گیا۔ان بیس پت نے ینف سے ےہاک بیعبدرالواحداما ما لاہ بن یں ےہ رالواحد سے ہی ںکہبیس نے ان سے عو سک اک می ںں مکواس ذا تکاداسطہدیگر بے پکتانہوں شس ےت مکو بک رامت دک ےک ہآ پکون لوک میں؟ او رکہاں ےآ ے ہیں؟ اور یہ ما مآ پ لوگ کو ط رع ما؟ اہول ن ےکہاکہ: سا سر را ار ھت* (اےپدالواعدر! کی ولابیت ا یکولقی ے جوخواہش لکوت کفکردیتاے ) اوربنتض ےکہا:”ما عرف الله عز و جل من لم یستحی منه في لاہ “( اس نے ایڈرلئیس پچ نا جس نے خلوت وتھاٹی جس اللد سے جیا کی سکی ) لئے پاکہ ٠: ان الَذِیْنَ یَحَشَوْد رَكَهُمْ بالْعَیْب لَهُم مَغفْرة وَآَجْر کبیْر ہہ (بلاشبروولوک جوخیب یج خلوت میں اپنے رب سے در تے ہیں ان کے ل مففرت اور بڑااججرے ) (التراہراا بین فرحون القرضٹی:۷٣٣-۴٣٣)
اسان اث رشمتوںل سے خر باجالوروں سے باظز جن ملا ء نے فر ما اک : الد تھا کی نے فرشتو ںکونٹل بلاشحجوت پیر اکیا سے اور جامورو ںکبوت باعل پیداکیاے اورانسا نکیل وشحبوت دونوں سے م رکب کیا ہے۔لبذاجھانسان اپن یخض لکوا ہن یگہوت پر غال بکر لیا سے ووفرشتوں سےکہر
(وقيق ری وؤوی رز بات ہے اور ج اٹ یشحو تکو اٹ یمٹنل پر غاا بک لیا سے دہ جانوروں ے بدز جا ناے۔
الفرت شلگنا ہوں وشہووں سے پچنا ضرورکی ےگ رافسو ںک ہآ گناہ سے ہی کاکوکی اہنما میں ا اھ وگوں می بھی ا کی جانبکوگی یش ے بغماز ھی جارکی ہے روڈڑوکھئی جارکی سے ایم بھی اری ہے :نہ ریس وختیق بھی اری سے مگرخمرت س ےک گناہ سے جیچ ےکوی ما اہ تما میں ے۔اورا ںکا امام اس ل نی سک ہگن ہوں کے رات ےکی میں جن سےا ینس وشیطا گنا کی رن ےا کے ین مان ن تنا بہت لوگو ںکویلم یئوس لہا بیہاں بیجھ یج لینا جات ےک یلگنا ہوں کے درواز ے پا راس کیاکی اورکو نکونع سے إں؟
من ہوں کے را ۓۓ
رفا نات لف راستوں وررواژوں عق [ارے ہیں اور ا یکی جانب اس حدبیث ٹیل اشمارد ےک رسول الد اذا .لم نے ارشادض مایا
۳
ا الہ یحْرٍیٌ مِنّ الإنْسَان مَجْرّی الڈم“ (کشیطالن انمان کے اندرخو نکی رر یا خو نکی رگوں میں ووڑ ےا روی وس وھ سس ال عدیث تُل ایل لف ظآیا ے ””مَجری الم ٴا ہے وومطلب ہوسے ہیں۔ )۱( ایک لو کہ رفظ مجْری “' مصدرہواوردوڑ نے کے مت میں ہو ال صصورت ٹیل ال عحد بی کات ہجحمہ بی ےک شيطائن اسان کے اندر اس ط رح دوڑتا
وق“ رے وؤوی سے جس رح اس کے اندرخون دوڑتا سے ۔ اور بے مَجْری “اس صصورت مل تریس عضو ل عطق ہکا
)۲( اواردوسرے بی کہ بے نم ری “اح ظرف ہو اوردوڑن ےکی مہ کے من بی ہہوہ انس صصورت بجی ال سکا مطلب مہہ وا کہ : حبیطان انسان کے اندرخون دوڑن ےکی کہ میس می ا سکی رکوں بی دوڑتا ے_
ہی صورت میں مہ بایا ےک شیطائن انساان کے اندردوڑتا سے مگ کہاں دوڑتا ے؟ رئیش بتا گیا ۔ اور دوسریی صصورت میس ہہ بتای گیا ےک حیطان انمان کے اند رکہاں دوڑتا ۓے؟ ون ےک کزان دوڑتا سے ءلچنی , ہیل ووڑتا
۔سے۔ 0
افش شیطائن انسا نکو ہہکانے کے واسٹے اس راس ط رع عحملکرتا ےک اس کےاندرتی داقل ہوچاتا ے_ تماق کے ورات مات شووارت
اورعالماء نےکھا ےک شیطان کے انان پر تل ک کئی رات ہیں اور بی راتۓ دراص لگن ہوں کے رات ہیں ۔اورعلا کھت ہی ںکہ رات دوط رع کے ہیں :ایک مہا تکا راست اور دوس اشحچوا تکا راستہءالن یل سے دماح ہآ نک کا لن ء زبان ء ہاتجھ اور پر ہیں جشیکن سے نیا طور پروہ انان رملہ/تا "یئ رات ہیں ء اوران کے علادہ بہت سے نار گی را تھی ہیں جیسے مال ودوات ء دنوب عہرے ومناصب ء ظا ہرک شحان بانء دخبرہ۔ بیہاں چند اہم امور پ رت رہکیا
جا اے۔
رج مشسشکو رہ آنھیں اونظر
آنعیں خیطان کے تیروں میس سے ایک تیر ء جوخط ناک حدتک انمان کےد لکو پر بادوتاءکر کےپچھوڑد ینا سے ۔اسی ل لن کو شیطا نکا قاصصدکہاکیا سے یکلہ اس کے ذر بج شیطان انسا نکوز ناو ہدک ری بیس ہت اکرد یتا سے ؟اسی لے قرآن میں نش رکا کی تفاطل تکاعم د نے ہو نظ ریچانے اور سکو یچ رک ےکا عم بھی داگیاہے۔
الدنتھا یکا ارشادے:
لُلللمویَْ تَمُسُوا مِْ اَنصَارِممَ وََحْفقُرا ُروْعَیُم
ڈلِك ای لَهُم ان اللَ بر ہما يَصعُون پ14الٹور:۰٣٦]
(پ من مردوں سےکہددہچ ےک دہ اپ گاہیں یئ ریس اور ابی شرمگاءکی فا تک بی ء یہ بات ان کے لے زیادہ اکم رگ یکا با عث ہے بلاشبراللد تا ی ان سب پاناں ے پاخمرمیں جود ہکرت ہیں )
اس کے بعد وا لی آیت یس بعونہ مھ یج عورن نکوجھی دی گیا ہے ء اوران آیات می ایک نز لگا ہو ںکو بت رک ےکا عم ہے دوصرے اس میں شرمکا ہو کی فاطت کا بھی دیگیا ے۔علماء نےلکھھا ےک دوفو ںکویک ساتقداس لے بیا نکیا گیا ےکہ پہلنم ذر ہے دوس ر ےکا مہ امو ںکو نیا کنا ش رگا ہکی جفاظ تکا ااوزر رے۔
ادرالیک عحدیث میں سےکہ آپ قألذق اکم نے حضرتلی ری اڈ نک رای اکہ:
وق بے وی تیم النَْرَهاتَّقرَهموتملَك الُوْلی وَلِسَت لَكٗ الاحِر٤ٴ“ (نظ کے بعد پل رنظرنہ ڈال ؛کر وک بی نظ رت تیرے لے (جائز) سے بین دوسری ترے لئ (جائز)گھھیں سے ) ( رر یی:ےے ٢٤ء الوراور:۲۱۵۱ءمیرامر :۳٣۱۳ء ہٹر ہزار:اءے) ایک اورحد بیث میں ےک ہآپ مآ لق کم نے فرمایاکہ: ”النطْرَةْ سَهْعٌ مِنْ سام ایس مَسْمُومَة من ترکھا ین وف اللہ ناب عَرَوََل مان يَجذُ حَلَاوَنة فِي قَلیہ“ ین کت ٹون یریک تھے لفن دنت ارت فک وج سے ا ںکوتر کفکرد یا ے الڈرعمز وچ ا سکوایے ایماانع سے ا کا دہع ارتا ہے سکالزت دہ این دل میسو کر ےگا-) (متررکعا ام :۹/۴ ۳۴ ہش مکی رطرای:۱۸۸۹) اس سےمعلوم ہواک نظ حیطا نکا بڑات ہاور نما نکو برا کی میس تل اھر نے کا کا ایک کیمتتھیار ہے ۔لہذ ااس سے پناض ری ہےت اق بکی دنیا بر بانہ 9+ + 4 9۶ تر ککرد یا ے اس ںکو ا تھالی ایا نکی علادت ےو ازتا ے_ حضرتت لی ری اللد عنہ سے مردکی ےک فرمایاکہ :”حون مَصَابد لان“ ( میں خحیطا نکی شکارگا ہیں یں ) (ادب الد تیاوال بین ما وردی:۰۸۸۱٥) ایرتخرتعیی تیالو سے مروکی ےک ہ: امم و النظْرَةَ بعد النظْرَةفَإِنهَا تر فی القلبٍ الشْهُوَةَء و کقی بَا لِصَاجبھا فتتة “.
وقذقھ ے ووی
(ایککظر(ا جا تک پٹ جانے )کے بععددوسریی بار بنظرکی سے چو ہبیوکلہ بد ری دل می ںشھو تک و گا پی ے اور بدنظری یمر نے وانے کے لے میفتد دی کاٹی ے) ( اد الد ناوالر ن:۲۰۸۸۱ء۱حء الوم )٦٠١٢١٣:
واٹتیانظرسے ول می ںتمہوتکا جوم تیارہوتا سے اورپ بے شما رخ ایا ں وجود سآ کی ہیں ءاس سے ول می ں پش پیدراہوااورانمان مردار پرھمرنے نے تیار ہوگیا اور ٹر ےعزت نے کے مل ےچیھ یآ مادہ ہوگیا۔
علامہالوطا ہربفدادئی نے اٹ یئ وعنظ بیس بدنظربی کے بارے میں بڑے حر داشعارسناۓ اوردە ہی ںکہ:
فألرُم الَْقَلبْ طرٔفي زقاق وی انت
و تو ر۴ ود تن نے میرییآنک کو اترام دیا اوراس کہ اکن یتو درمیان میس پیام پانے وا گی ءائس پرمیرییککھونے ول ےکہاککنجیس بلڈی انس میں وکیل تھا ۔لییں(جب میں نے دوفو ںکی بح کی )پان دونوں ےکہا 21 دونوں امش رہویقم دونوں نےکر یھ لک ر کےپھوڑا سے )
لفن ل نظ ر سے خحیطان اپنا شکارکھبلتا سے اوراس میں بہت عدک ککامیاب +وجا نا ہے۔اس ل ئن رک حیطالی ھ وں ٹیس سےایک بڑااورا م ذر لج مانا جانا ے۔
وو ے ووچ اہی کے ملق اشعار ححفر تیعم اخ صاحب داعت کان
اے خغداون چا لسن و 2 و میق بامرد٭ ہے تا اک عذاب عم سے اس واسے غض بھر بد اہی مت مبجھ کچھوٹا گناہ
ہو جھے کت لاک اس راہ شی کھو یہت اس طرح ےج رعز مز
چنلد دن کان ہے تن مجاز
یش جھ ہوتا ہے رنگ دروپ پہ مقال م لاناۓ اشرف تھا وی دل کا ہو مطل بکوگی خی رج گر تی کی طر فکوئی مجاز
ہوگیا زنرہ وہ گورتتازع سے مار سے رگ رگیااب سو ے یار زکرجی سے جج سکو لگا قرار
جخت فقنہ ے ممازی صن کیا سے درحقیقت سے سفق رات کاب ہہ تبرے بیسدباب 0700ھ ارب ظر دو لکو اک و مس بیکرپی سے تاہ کھوکے منز لگر سے وہ چاہ شی ھ ری تبجت سے مب ذکر عزیز
چتٹر روزم یں فنط ے سازو پاز
یہ مشن شس کا جو الو کر نی نا ی ے عذاب مممگا سی بت شراب ف رج
ہو رجوں و ہے دہ جان پاک باز آمم گھشن میں خارتان سے د یکنا ےقلب میں اب دو یار سا اس کے نز ا بھی سے بہار
سکھ رت نف کن فو کی ار سمحفن جات فخزاں فص ل بہار تک دل ہوتے ہیں لن تی خدغصض اور بے وفاہی ںگل دن ظز ال وغل زف7 یں ہو تے ہیں ہہ بت خ ہرو گھور پر یے ہوکوگی مہ زار تم دج وک کھاکے ہو اس کا شکار
تق کاول ے جن ماد - میں ہیی جن دا تک زار جان میں ہوگا ظلو وآ فآ اور حیات طی ہکا ٤ اب
جپلہ ہو شر خدا کا دول میں خار ہوگی اس برظللت ولف تک مار ا کیا دیکےگا دو روۓ بہار جن ہو پابند دکر و گر یار ع ربھرر ےکا ساٹی نشنہکام گر بے گا زہرنظر بد کا جام نیروں می بھی ہیشخول ول ةکروطاعت ہ سکہا ں تا ہے دل ول ٹیش تیرے سے چوگکر ابی وں اں لے 1م نہیں ے ور چاں ان
شیطا نک ایک ایم راس کان میں کان کے ذر اوہ کہ تکی کی با ںکو
رل میں اترتا ےاورد لکی دن یاکو بر بادوجاءکرد با سے ۔ نل گا نے سن مغببت و چٹلی ضءاوراسی طر حکی تام وندیی با نو ںکو سن ے سے انسا نک د ل خراب ہو چاتا ے۔اورآہتہآہستہ بر بادہو جانا ہے ۔ تی ےگا نا نننے سے دل میں نغا ت کیا بمارگ پیا موجا ی ے۔
ابودا و داو ای نے انی اپٹی من یل ححضرت عہ راید بن سحودرنی ال عنہ
٭زوڑ” رت وؤ(وڈ ے اورتتاتی نے شعب الا مان میں حضرت جار ے روابی تکیا ےکرسول الد نے ارشھادش رما اکہ: 220 رو لتاق تی اقب( گانادل میں نفاقی پیداگ تا ے) (ابودا :ے۲۹۲ سط ن تق )٣۲۳۱٣: اورخووضفظر تگپر الین س ود ے ٹر ا 8 ”اتا بت النفاق فی القلب کُمّا يُنبث المَاء الررٌُع 80 بت الايمَات فِي القلب کمَا یَنَبِٹُ المَاءُ الرّرٌ ءٌ“ (گانا ول میں ای رح نفاقی اگا نا ہے جس طرحع پا ی میتی گا تا سے اور ذکرول میس ای طل رح ایمان پیر اکرتا ہے جس ط رح پا یححیت اگ تا ہے ) (س مم ل:۳۱۰٣٣) علامہابن الیم نےلکھا ےک ینس عارششن ن ےکہا ےک گا نا سننا یش لووں میں زفاقی او رت میں عناو تح می ںچھوٹ بیض می رام وبو رحس میں رونت وگبر پیر ارتا سے اوراس سے زیا دہ تر صورت ںکاششق اور بے حبائ یی بانوں کی ند یدک پدا+وثی ے۔ (افا الاہفان:۲۲۸۸۱) ایر کان سے غیت کر بگال یگلورج سک رم یک ہجو برا ق نگ رانمان کے ول میں شبات پیدا ہو جاتے ہیں اور ا س کا ول ا سک وج سےگندہ ون پاک
جاناے۔ زہان
شیطان کے راستتوں میں سے ایک راست زہان ہے ء اس سے شیطان ؛ڈا کام لیا اورانسان پھل/اے۔
ووڑػق ےت وؤوی ای لئ ایک عد یت میں ہ ےک ہیک ما ی ن ےآپ نکی رے معلو مک یا جا تکیاہے؟ نز بان نبدوت سے اور بانوں کے سا تح ایک بات میفررالی گئیکہ: اش عَليك لٰسَانيكَ “ (انی ذبا نکوابو یں رکھو) (زڑ 1 0000 ۹٣۲ شححب الا پمان :۲۲۹۸۳) ایک دوسریی عدی یل ےک حخرت معاذ بن جل ری ارڈ رعنہ نے رسول الہ حایلذفا کم سے لہ ھا کیاان باذں پہکھی جھارکی بک ہوگی جوم ز پان سے کتے ہیں ؟ آپ تاأ فا تر نے ف رما اک ” کَلكَ أَتّكَ ء وَ عَل یب النَاسَ في النَارِ عَلَی مَناخجرِمِم ال حَصَائِدٌ الَيِتيِي“ زان از کو ں کو کی کان ان نع کے اکن کے عداے ا نکیاز پا نک یکیقیوں کے اورکون چک رای ے؟) (سم یکبری نما گی : ۴۱۶۳ا ءت نرگی: ۱۲٦۹۱٦ ءابن ما : ۳ے ۳۹ء متررل: ۴۳٤۲ء الا داب شی :ا ر۵ نا ءایاف الی روا ر۸) اس میں زبا نک یگیتوں سے مراد ہی ز بان سے انام دک جانے وا ی بر ائیاں ہیں ءاس سےمعلوم ہہوتا ےک پان سے صادد ہو نے والی یہ برائتیال زیادہ لوکو ںکوی نم میں نے ای ہیں۔ کیونکاس ایک ز بالنع سے بہت سار ےگناہ ہو تے ہیں ء تی ےمجھوٹ ای زبان سے بولا جانا ے غیبت ای ز بان سے ہو ٹی سے مجع اسی ز بان سےکھاکی جائی ے فو لگوئ یبھیااسی ے ہوثی سے یکواذیت دی یی بھی ا سکوبڑاہنل تی گا لی د ینا نو وی نکرناء ویر ءالفرنش اس رات ستےگناہ بہت وت ہیں ء
وت رت ووچ لزا الکو بہت زیادہ ابو ٹیں رک ےک یکوشن لک رن جا ہے ۔(ا سکااخحییل سے لئے امام فزا یکی امیا ءلعلوم بک )
٦ بہت با شیطالی راگن سے وہ انان مین زا ہوا اور | سو 27 خبائف یں بن ارتا ہے :شر کا ہے ۔ یفما یت خط ناک راستنہ ہے شس سے انسان شونوں ولزنوں میس یڑک رخدااورسول اورآخرت ب یکوھول جاتا ے_ ایک عدیث ضیف میں سے کہ رسول اللہ لاق ایک نے فرمایا کہ ”من وق شر ذنڈہ و لقلقہ َققی* فَ رفا شر مل “(جونں ذز بر لقاقہ او ریہ ےرس نے یا وو تھا شرور سے گیا ) مچلرفرمااکہ: لقاقہ زان ہے ذذ ہش رم گادہے۔ (شحب الا یمان :ك۲۹۱۸) ایک اور عدیث میں ےکہ رسول اللہ ایک نے ارشاد فرااکی:” مَنْ يَشمَنْ لِي مَا ین لَحيه ومَا تین رِحْليّه أَضمَنْلَه الَحَنةَ“ 7 اوک ضر کھت کت ک جزایرا کسموون ) کی نکی ء یس اس کے لے جن تکاضاعصن ہوں )۱٦٦۸۸: ہا ری :۹۴۲۳ء منرااو لت :۵۵۵ ےنت ول ( معلوم ہو از با نکی رح شش رگا ہکا فمادگھی مڑاخط ناک ہوتا ہے اور جو اس کےش رس مگیادہگویا تھا شرور سے جانا سے ملہر اس بھی خوب چ کنا
00
(وق رت وؤوی ۰- ایک بڈاراستے شحیطا نکا جن سے ووانسا نکوگنا ہہوں میں بڑ یسا ی کے 7 ك3 ا سے 2 زپرےقی وغی رہ تحد دک نا وم لین ہیں حد یت میں ےک رسول الیل یفاک نے فرمایاکہ: 7 العضتث من الشيطانءوان الشٔیطان خل ون نَ انار و 218 لنارُ مِنَ المَاوء فَِدَاغَضِب کے تا رت سے سے اور خیطاا نآگ ے ,وو ہے او رآنگ 0 سے بھاگی جا ی ے٤ لہذائم 2.۳ ۓےذ ا کووضوکرلناجا تے) (اپوداود:2۸۷ نام :۸۰۱۴ بج مکی رظبراٰی :۱ ۱۳۸۸) رت ااوسعید خدرگی ری ال عنہ سے ایل عد بہٹ ٹیش مردکی ےک الشد کےرسول عوآی دای تک نے خطیردبااوراس می ایک بات ہیٹگیافرمائ کہ 7 إِن الغضّبَ جَمْرَةٌ تَوْقَد فی حَوفِ ابْن آدَمَ ء اَم تَر لی تو عَيَو زَليقاع ر5ج (خجردارکہ باا شہخص ایک اہگارہ ہے جوام نآ م کے ان رجنٹرک اتا ےء کم یام ا سک یآ عمو ںکی سرتی اور رکوں کے پچھو ل لیس یھت (ترنری: ۲۲۸۲ء متررک :7 ۰ ۴ ۵۵۱ ءمصنف عبر ال رز اقی: ۸ے ۳۰ شعب الا یمان : ۱ء مترالوداووطالجی :۹۴ء مسنراپو ٹچ ی :۲ م۲ بصن راع ر:۱۱۹۰۴) علام ینز ای اورای نت رکی وغیمرنےکھا ےک :لن انبا نے ائٹس سے صوا لک یاک یو انمان رسس جج سح ال بآ تا ہے؟ اس تن ےکہاکمیس السا ناوقصہ
٭(حھ ےت وڑؤزوڈ کے وقت اورخوا مل میں تنا ہونے کے وقت پڑت ہوں یی اس بنا بآتاہوں۔ اورکہھا ےکہ ایک راسب کے سا نے ائییس اہ ہوا نے اس نے پ تچھاکمہ انس کا کون لق وصفت کے تیرےکام یس مدد یی ہے؟ نو اس ن کہ اک خص سے میرک مددہوٹی سے یوک جب ود خقص ریس ہوتا سے نو جم اسے ا سط رح انت لت ہیں جس ط رح ےکن دکوا لے پکٹتے ہیں ۔ (اجیا ءامعلوم :۲۹۴ ءال واجشن اتتراف ایام )٢١۷۸۱: علامہاء گرا گی الانئی ن ےکا ےک ایک مرتتب شیطان نے حضرت موی سے اس کےتن میں نے تو ل۷ر نے کے لئ الش کی جناب میں سفار شک درخواست کی بحضرت وی نے اید تھا لی سےا سک سفارشل فماکی ءاشدنتنا لی نف رما یاکنہ ہاں ء ا سک نو رقبول ہو جال ۓگی یش ریہ وہہ دمکوا نکی قب پر چاک جج ءکر نے ۔حخرت موی نے ا لکوئیہ بات ناد ہرد وخصمی ںآمگما او رن ےلاک میس نے آودکوان یا حیات مل بجروا ںکیاء اب تر کی ےکروںگا؟ کی نآپ نے می ری جوسفازش کیا ہے ا سک مھ پرت ہے .لہا تین موقوں پر جھے ارک ریش ہیں ان موقتوں پر سآ پکوبلاکت میس نہڈال دوں: (۱) ایک فص کے وفقت گے یا رین “یکلہ می لآپ کے اندداس طرح روڑژجاہروں ہر ون دوڑتا تھے (۴) دوسرے جہہاد یی سکفار سے مقا لے کے وقت کہ میں اس وقت انان کواس کے بیوکی چے با ددلا تا ہوں ت کردودہاں سے وائنں جو جا ے- (۳) تس رےاس وقت می کسی ای عورت کے سا ٹیٹھییں بکیوکک یں ا سکیا جا بآ پکااورآ پکیا جاخب ا لکاتقاصد نک رآ تاہوں-
ووقؿق رت ووی
(ال رواب ر:۸۱٢٢۲)
بفخلف رات یں ۱ جن سے شیطان انسان ب رت لہکرتا سے ء اوران کے
علادہنھی ملف را تن ہیں ء جیسے مال ودوات ہکورت ہکھان بنا دخیرہ ء ان سب میں بی ا قاط رکناجا نے ٦ اک حیطائن اہین گے می لکامیاب نہ کے
گنا كکی روا ی فی
او رگناہ سے پچنا ال قد رضروریی ہھون ےکی وجہ می ےکا نکی وجہ ے بہت سے خط ناک و ہولناک جسماپی دروعاٹی آغات ومصا بآتے ہیں ءاىی طرح گنا ہوں ومحاصح یکی وجہ سے بب تمیق ئی ولگ ءما تی دمحا شرتی آفات وب ایال بھی رونم ہوتے ہیں ء جو محانشرے وسما نج ء ملک دو مکوتیای کے نا رمیس ڈال دیے ہیں۔اوران س بکا ذک رق رآئن وعد یتم" لگیاگیاے-
یہاں ان می سے چندا ہم ا مو رکا تک وکرتا اہول تتاکہ “یں عبرت ہواور گنا ہکا تر کک رن آسان ہو
ایمانع کے لے خطرہ
گنا ہکا ایک انا کی خط ناک اث ونقتصان می ےکاس سے اما قکوخطرہ لان ہوجاتا ےاورینخ گنا وانما نکوکف تر یبکمرد نے ہیں -
7 مل رے کیہ رعول الد بتکم نے نماز کےکچھوڑ ن ےکو کفراجیرکیاہے۔چنامچفربا: "لیس بین العبد والکفرالا ترک الصلاة “(آوٹی اورکفرکےدرمیا نکوئی چزفر یکر نے وا لی یں سوا نماز کے )
وونيع رت ووچ ( نکبری ضا ئی:۱۵۳۸) ایک عدیث میں ائ سط حآیا ےک ” بین العبد والکفر ترك الصلاة “ (بنرے اورک کے درمیانص رف نماز کے تر ککافرقی ے ) (ت :۳۲۳۶ء ابوداود:۸ ے۳۷ ان ما :۸ے٠اء وا في:٤+ب۵۳) ان احادىیث می نرک نما زکوکفر ےی رک ایا ے ہنم سکیا وج یر ےکہ ترک نما زکاگمنا ہآ دٹ قکوکفرسےقری بکرد تا ہے۔ چنا مجر اس عد بی ککاتشرع یں لا وٹ حتاف جات کے مماخحایک بھی ے٠ "نہ قد یوول ای الکفر “(ل]نی تر کما زی ال سکوکف تک نے جات ہے )اس لئ حدبیث میس ال ںکوکفرقراردیاگیاے۔ تھا بن حاط ب کا عہرت ناک واقعہ
اس برایک واقکھی دلاا تکرتاے جوغس بین نے ای کآبی تکیفی می ںککھا خدمت یل حاض ہوک یہ درخواس تک یک ہآپ دع ای یکہ می مالدار ہوچاکں کپ تآی اذا یکم نے فر مایا :کیا مکومی را طریقہ پیندنیں ہے جم سے اس زا تکیاجشس کے قیضے میس می ری جانع ہے اکم یش جا تام بین کے پاٹ سونا بی نکر و ۱99 کم چلاگیا اور پھر زاوت لکل وڈاسوائ سک بقل نل 77آ رکال لاڈ یس جرف وا نےکواا ساط چاو ںگا۔
آپ قَای انف ِ کم نے دع اکمردی :ین س کا ار پیا ہرہواکہ ا سک یبر یوں ٹس بے پناہزیادقی شردغ ہوکئیء یہا ںک کفکہم بنہکی عوکراس برک ہوک ذو باہر
إوقذق( رے وويی چیا اورظہر تحص کی دوفمازیی عد بینم شاک رآپ مگ فیک کےساتھ بڑتا تھا اور اتی مز بھی جنگل میں جہاں ا سکی بر یا ںشھیں وہویں اداکرتا تھا ٥ 090108" اکر اورییل ہی ء دای تصرف بھعک نماز کے لئ مد بب ہآ تا ھا ءاور گا ننماز سی ہیں پڑ نے لگا ءچلراس ما لکی فراوای اور بڈ کنیفذ یھی کچھوڑ نی بی اود مد ین سے بہت دور چلاگیا ٤ چاںل مع اور اعت ےہحروم کیا مھ إعر رسول اللہ یلقتنم نے لوکوں سے ا کا حال ددیاف تکیا نے لوگوں نے ا اکرائ سکامال انقازیادہ موگیا کش رکےق ریب ا سکیمگٹوائیش ہینییں ؛اس لئے اس نے دور ج اکر قیا مکیا سے اور بیہا ںنظ ریس پڑتا۔رسول اللر کی ای .تم نے پیک نک رین دفصفر مایا ”نیا ویح نعلبة ]نی تھابہ پرافسوں سے تین بارفرمایا لے اف ات2 آید فلا ا بل شا ای ارس رسول تَأ ال َلي/ کومسلرائوں کےصدقات وصو لکر ن اعم دیاگیا 7 تی کات کلم ل را مو ںآزوا لصضرز یحور مسلمائوں کےمو بی کےصدرقات وصو لک۷ر نے کے ل گے دیا۔ اور نکوم دیاکہ ٹلب ین عاطب کے پا پھیپٹیں اور بی یم کےایک اوس کے پا جان کا ھی کم دیا۔ یردوٹوں جب اب کے پاس ین اوررسول ع گید اتل ماف مان دکھایا قو نا کن ےلاک ریو جز یہہ وگیاجوغی مسلمافوں سے لیا جا نا ے او پچ اکا مھا اب ر۲ آپ نان اور جب این ہوں لو 9 _ے دولوں ف گے اور "ری یی لت تَاول یئار ک ثرمان سنا و اپتۓ موبیکی اویٹٹف اورک روں شی جوسب سے مین رجالو رش نصاب صدقےہ کے مطا لی دہ
ووٛقھ رے ووی جاور نےکرخودان دوٹوں قاصدان رسول اللہ حی بک کے پا سپ کیا انہوں ت کہا یں حم ىہ ےک جاندروں می ای بچھاش تکرش ہیاس ء بل متوسط یصو لک یں ؟اس لے ہم نو بیکییں نے سک ببھی نے اصمرا رک اہ میس اپٹی خوگی سے کی یی ںکرنا چا بت ہوں می جا نو رقو لکر بیجئے۔
پچھر ہہ دونوں حعقرات ووسرےمسلمالوں سے صحرقات وصو لکراۓ ہے وا ںآ و تبیہ کے اس نے اس ن کہا ہک لا کذدہ نا نون صصدرقات بے دکھلا َء برا سکو کیرک کسی سے لکاکہ می ای کم کا جز یہ گیا جومسلماوں سے یں لدناجاٹئے ۔اچھا اب اذ آپ جاے می نو رکرو ںگاءبچلرکوٹی فیص کرو ںگا۔
جب پیدوٹوں محظرات وائوں مد یدب ینیج اوررسول یلیک 01
خدمت میں حاضر ہو ے آپ تَاو یلم نے ان ے عالا ت کپ نے سے پیل بی پیل رد ہکلم دہرایاجو پپیلےفرمایا تھا:” یا ویح ثعلبة ء یا ویح شعلبةء یا ویح شعلبة “ (مڑقی شبہ یرخت افسوں سے )مہ بھل یتین مرتب ار شادفرمایا بھی کے معاملہ پرخشل ہوکراس کے لے دھافرماگی ۔اس واقعہ پر یآ یت نازل ہوئی:”ومنھم من عامد الله“ ینی ان مس ےنس لوک ای ےکبھی ہیں جنہوں نے اود سےپ کی تھا اگ ال تھا لی ا نک مال عطافرما میں گےذد وصدقہ خیرات کم میں کے اورصاضسعین امم تک ط رح سب ائل تقو قی رشتدداروں اورفر بیوں کے وق اداکرسسں گے رجب الد نے ا نکو انل سے مال دی کن لکرنے گے اورایلداوررسو لکی اطامجت سے پُھ رگئے _ ”فاعقبھم نفَاقاً فی قلوبھم “ شی الد تالی نے ا نکی اس ہدگی اود بدعہوربی کےشیی ہیس ان کے دلوں یی نا یکو اص اپ 70ل ال نل:
وتۃ رت وچ
(تی این الی حاتم :۱۸۸۲7۹ء مع الم انز مل : رے ۸۸-۸ معارف القرآن:
۳ھ)( سد اض کان لہ گناہ سے ایک روا لی فنتصان وآ فت مہ ےکااسل سے سوء نا ےکا الد لیشہ ہے۔علامدابناشیم نےککھا ےکہ: ال االکب الھات- 2 کالیتکا- أُمْبابًاء وأعظمُھّا الانْكِبَابُ عَلی الأُنیّاء والاعَرَاض عن الاحْرٰیءوالقَدَامُ والجْرأءُ عَلی مَعَاصٍي لا 2ھ غُلَتَ عَلی الانسَان ضَرٌّبٌ مِنٌ الحْطیئةونوع من المَعصِیّة وحَايِب من الاعراضٍِء و نْصیبٌ من الجُرأةِ والا ام هْملَكَ فَلَههوَسَبّی عَقلَه وَأطفَا تُورَهُہ وَأرَسَل عَليه حُحبّەفلم تتفع فیە تذکرةہ وَلانْحَحَتُ فیه مَوعِظةً نرَلِمَاجَاءۂ المرث غلی ذللق۔“ (جاان لوک وع نماتض کےکئی اسباب ہیں *- ایل پییں اس سے اپنی بناہ یس ر تھے“ لن اسباب میں سے با سبب دنا یل اشھاک :آخرت سے اععرائ ء انل دکی محصبیت پر اف ام و جرات ہے اور بساادقات انسالن گنا ہک یکوئی ماع نم :محصرب تک یکوئی شحل ماع ا سک یکوکی جانب ء اورافک ام وج رآ تکاکوئی <ص زا لب ہو انی ہےء روہ اس کے ول پر ضہ جھا تی ہا سک ینف لکوقیر
وق رت وؤوی
کربیقی اوراس کے دل کےٹورکو بھاد بی اور اپنے بات ال پہ
ڈالی د بت ےہ س کا نیہ بر ےک پھر سکواوکی حچحت فائند ہیں
دیق اورکوٹی وعظظ وین دکا میا ب کیل ہوتاء اور بسا اوقات اسی حالت
برا سی ص٣ تآجا یے) (الجواب الا ٹیٰ:١۷٦٦)
اذ امناہ سے پر پیزاس ل بھی ضروری ےک اس خط رن اک صصورت عال سے بپچاجاۓ اورموت انی حالت مس وا ہو علاء ن ےگزااہوں سے سوہ ما جے کے پارے میں منددوا تا تأفل کے یہ یہاں دوچپارشنٹی ک٤ جاتے ہیں۔
ایکعبرت ایز حکایت
ایک کا تہ تعددا کاب بن ےأ لکیا ےک دو ایک اسلم نا یخس پرعاشن گیا :ادا نکی خت شس لھا گاء یہا لک کہ بہار ہ وکیا اوک کا ہوگیاء او را کا مصفوق برحالت دک وکراس نف تکرنے لگا اراس کے پا سآ نے سے در کگمیاء اس پراس عاش نے درمیان می کس یکوواسط بنا کرد وی ط رح ال کو بل لا ؛ ایک بارااس متتوقی نے وعد ہک رل یا دوفلاں د نآ ت ےگا ہم رعین وقت پر اس نے اکر دیا اورک اراس سے لو میرک بد نا ٹیا ہوگی ء یش ارک حجلین لآ کو ںگاء جب لوگوں نے اسے چ اکر بتا کی رے موق ن ےآ نے سے ائمکارکر دیا اور وہ وائیں ہوگیانذ اس پرمد تک علامات ظاہ رہ وی اوردواپنے مو قکوخطا بکرتے ہو تے رو ا
أُسلعُ یا راحة العَلیل وی شِفَاء المُدنَفِ انیل
رِضَا أقُھٰی إِلی فُوَادِي مین رَحْمَة الحَالِقِ الحَلیل
٤نو رت وؤوق (اےا لم !اے پیا ری راحت !اورک ورتشق کے پا رکی شفاء اتی رىی خوشفو دی
مرےنز دک الل الچ لکیارمعت ےڑیادەلڈیڑے)
فن یکین کرو فی ج+وکی ادا یکن کی ات من ھ دای تع ذارکی عبت مل خدا ےکی دورہوگیا_ (اتیزکررولمکسترٹی :۸۱ء الجواب الا )٦٦۸:
دبھئے ایک انی انسا نکی عحب تکاکیااش ہو اک خداکی عبت برا لکوت یی دیے لگا اوراا سکی معحب تکوخداکیارححعت سےگھی ز یاددلذ بڑ و پپند بد٥ خیا لکرنے اگااورای حالت مل موت واج ہوئی _
ایک او رت کا تق لھا ےک دہ اپ ےک کے تیچ ےکا ہوا تک ایک لٹڑک یکا 0س 00 اکیجما نیا بکہاں ہے؟ ا خی نے اپ ب یگ کی رف اشارہکرتے ہو کہ امام مخجاب بجی ہے ئ9 ےک میں دائل ہوئی نو ین بھی اس کے تی دال ہواء دوگ یک۔ہاس نے بے وک ہدیا ہے ؛لہائل نے اس پروی دسر تکامظا رہکیا او کہالکہ ہا ہارے لئے یسل کے ابیسے ایس سا مان ہہو نا جا ھۓے ۔ا سفن تن کہا کہ می ابھی سب 27۳ “ە75) و رت کی انس نکی لوک یی ا نک سے و گیا ۔ جب دای ہوا دیکھ اک و ہکم سے جا چیا سے ؟ اس بر دا ںکی عحبت ٹس بے قرارہوگیااورراستوں اورگیوں ٹیس اس سکوجلائ شک نے لگا اور یکنا جا تا تھا 3
یا رّبٌ فَائِلٍَ يَومَا وَفَدُ تَعَِتُ كَيْف الطَرِيق إلی حَمّام ناب (اے ایک دن تھے عال بس نے دا یمام منیا بکاراس دک دھرے )
وھ رت ھوچ ایک باردہ ای طر کھتنا جار ہاتھاکرایک با نکیا نے ا ےگھ کے اندد سے اس کاجواب دیاکہ:
رز عَلَی الدارِ أوُ قفا عَلَی لیا
(مینی نے جب ا لک پایا تھا نذ جلدی سےکیو ںگھ پکوگیآڑیادروازے پہ تل س٤ذ رٴ٠)
بی نک را ںکا 4ز2ت السا وااع لوا دنا یت گا اور اس رای ککور تک محبت می ا سکانام لے لت مرکیا۔
(العاقپ: پیٴ ذکرالموت لعد ان ایی :۹ ےاءلجواب ای : یکر د اما ق رچی :۸۱ء الشبا تکندا مات لا جن الو زی:۹ے)
اسی فو ں کا ایک فص بڑ ارت نا اکئیےآھر یی نیش بڑاعاپروز ابرتھا پیش حر میلر پاکرتا تھا ءاس پرعبادتکا ند راور ذکر کے افو ارمعلوم ہو تے تھے ء ایک باراذائنع دیے کے لص بمعمول سد کے منارے پر چٹ ھا اور نچ ایک محجیسائی کا مکان خھاء ا کی نظ را سح میس پڑ کی ءاودد یک ھک یسا کی کیاکی بہت من د یل سے ءدواس پرفریفتۃ ہوگیاءاوراذان دسینے کے ہیا وہا ںی سے اتک راس کےکھ گیا ان کی نے ہچ اک ہکیاے؟ ت کہ اک ہیس تھے چا ہت ہوں ١اا ت کہا کے فو لماع ہے او می ابا پ )ھی تھ سے می ری شماد یی سکرسکما نے اس نے ا میں فھرانی ہوت ہوں ءالغرنش وونص رای ہوگیا اورشادی ہوگٹی ورای و نیکم نے ئن نکی ےک 7 یھت پر چڑعا ہر یسا اورک رکراسی حالم تکفر: ںیما
(ا کرو ]ا ری: ۱ء العاقب: ٹی ذکر اکموت: ۱۸۱ء الکپائ: نشی : ۳۲ء الجواب
وقع رت ووچ اَائٰی:٦٦) افش محصیت وگنادبھی انساا نکوکفرد ہےایمای یں مت اکر دتے ہیں اوراسی عال میں دود نیا چلا جا ناے او چک رسیدہوجا تا ے- لم حُفَطْمَاِن هُرور تین ون سََّاتِأمُمَاَِا .
د کال ہو جا ڑے گنا ہکایک اش بی ہوا ےک ال لک وجہ سے د لکالا ہو جاتا سے ۔حضرت الو ہربروےرودایت ےک نخرترسول اللر ار 0020 ”ن الَوسی إِذا اذنپ دنا کانت نک سَودَاءُ في فَلبهِ فان تاب 0 و اسْتغفَرَصَقِل مِنھا قك وإن زَادَ زَادَثٌ ختی یَغلَقَ بھَاقَلبّهء فَللكٰ الرَاۃ الٰدی رہ فی قوله:ظ کل ٦ را عَلی قَلُوُبهِمْ مَا کانوا يَػیبُوَنَ کہ (م ومن ج بگناہکرتا اوہ اس کے ول بی سای ککالا کن بن جانا ےچ راگرف برک لیا او رگزاہ سے الک ہو جا تا اور اتغفارکر اتا ےنذ ا سکا دل صاف ہو جانا ے او راگ گناہ سے نذ ہہ کے ہیاۓ اس میں زیادکی کرتا ےن وہک بھی بڑستا چاتا ۓ بیہاں مت کفکردول اس ے بندہہوجاتا سے کی دو زنک سے جس کا ال تی نے اپنے اس ارشاد می ذکرکیاے:ط کا بل را عَلی قلْْهمْ ما كَالُوا يَکسبُوٰن ہہ (ہرگڑنہیںء لہ
دےسی وو٭و کے ووق ان کےدلوں پرزنگ پڑھگیاے ) (زرزری:٣۳٣م وا میتی ۴۰ء ولافظ لہ ہف نکبری لس گی :۱۸۳۳ی سن ۃابقی :۱۸۸/۱۰ ءال ید رک ےل کم:۸۱٣) اس سے معلوم ہو اک گنا وکا اٹ بیکھی ےکہاس سے دل میس ای ککا نر دا لُگ جا تا ے او راگ گناہ پراصرارکمر ے بی بڑھتا جا تا سے بیہا لک کک پوراول کالا جات ے۔
دل پرہ رلگادیی جای ہے
گنا ہکا ایک تیچ یہ ہےکردل پرہہ لگادکی انی ےجس سکی وج یکن و باضل فی رک رن ےکی صلاحیت سے انسا ن حروم ہو جانا ہے بت نکو ال اور با ل کون نے
رن پاک می ارشاد ےکہ: 2 َء يتَ مَنِ اتْحَد لية وه و َصَلَه الله علی لم وحم عَلی سی وَقلَبه وَحَعَلَ عَلی بَصَرِم غِشوَۃُ ََنْبهُدنهِ يِنٴ بَعداللہ فا تل کرن 4ہ
لیا آپ نے دریھا ا لںکویس نے اپقی خوائ سکوشدا ایا اوران نےعلم کے
پاوجودا ںکوگمراوکردیااوراسں کےکاوں اورول پرھ لگادکی اور ا لک یآلکھ پ پردوڈال دیاء یں الد کےگمراوکمر نے کے بحعرا کوکون ہدابیت د ےسا سے 6کیا غم نشویحت یں ک)
اسآیت سےمعلوم ہوا ےک انسان جب الد ےعھمکوسچھو کم انی خوا ہن پر چلتا اذ اس کے ول اورکاوں پرہہرلگادی جالی او رآگگھ پ پردہڈال دیاجاتاے۔
ای رب ایک عدیث مل رصول اللہ َال ِْْيیکٴ/ر کاارشمادھ دی ےک ہ:
(وآن( بت ووی ا اقوام عَنْ وَذَعَِھٰ الحَمُعَاتِ او لَبَعَيتَنٌ الله عَلٰی مم کو مِنَ الین“ (لوک پان جع چھوڑ نے حےضرود با جا میں پان و انڈدان کے ولوں پہ لگا دن گےےء ئن ذافلون مرو نہ این گے ) (مسل :۰۳۹+ مض نس تی ٣٠۰٠ ۱ض ن قاقی :کے ۳۸ء این حبان ۱١: ۲۲) ایک اورعد بیث ال رح ےک رسول الشد ).بک نف رمایاکہ: ٣3ھ 2 زنک تی کان ول کیاکی جال نادان ےد لتاق کادل منادیاجا٣ٴے) (اتماف اش رگم )٤۷۲ چم کا بچھوڑ نا ایک بد تری گناہ سے ؛کیوکلہ ىہ اہم الفرالل میں سے ہےءلہیذ ا ال کا تر کگناہکہبرہ ہے اور جوا گنا ہکو بار با رر ےو انس کے ول پر ہر گادبی جالی ے۔ ملوم ہو اک گناو محصبی تکا ای کے دا یھی نے سی بجرےولوں برک جا ے۔ ذات وخواری گناہ کے ٹج ٹیس یک دبال ری ہوتا ےکہ بندہ انی ڈگاہ ٹیس ذلیل وخوار ہو جانا سے ۔ اور ال کا اث ىہ ہوا ےکہلوگو ںکی ہڈا ہوں می ںبھی ذلت ورسوائی موا ی ے۔
ایک عدیث میں ےحضرترسول الد حا فذقایی کک نے فرمایاکہ:
ےِسی ھوھ كت ھوو دےگںن لاس رَجُلان: بر تھي کریم عَلی الله ء وَفَاجرٌ خَقِي مَينْ عَلی اللہ “(لوک دم کے ہیں: ایک و ہنی جو بی تی ایل ری نظ می سکرم ہے اور دوسراد٥چجوفا جرو بد رمّتء ال ک می ذلیل ے) (تنزرگی:۶ے۳۲ء مار یحہان:۱۳2۸۹) اس عدبیث می انسانو ںکی د شی با کی ہیں :ایک دہ جو کی وتوے لے ینان کے می و انآ ت تر لی ال 2ال کے ند یک گرم ہیں ءاوردد انم دہ جو و ٹور میں بت ء شم کی شکار ہیں ء اس کرے رن ا و لی ال کی نا وین یل آون۔ معلوم ہو اک گنا ہو ںکی وجہ سے انسان ای دکی لگا ہیس ذ یل ہوچا جا ےءاور کییوں نہ ہوہ رای خداکی ناف مالی بیس دہ بنا ے اورائ یکو نا راخ سکٴرر پا ےج سکو خوش یکرنے سے ند ہکا اکرام ہوتا ہے۔ یی اد تھی نے رآن میں ف رما اکہ: طاِن ا7ك عند الله اف (تم میس سے سب سے زیادہ اللہ ک٤نزدیککگرم ددے جوسب سےزیادہٰقی ہو) /'م"مھھ٭'+" مَنْ اب ان کون أَكْرَمَ الناس قلیتق الله “ (جونٹص ب چابتا وع نو ہت (متررک۲۸۰۸۳۴) ہز انا ہوں سے نے اورنق کی افخ رک نے برای کے نز کیک ارام ہوتا ہے اورگناءکرنے سے اکرام کے ہچاتے ذات ہوٹی ہے ۔ می وو ذات ورسوال یکا عذزاب ےجنس میں بی اس رام لکوگ رفا رکیاگیااورق رآنن یل ا کا ذک رک یاگیاے۔ چنا یٹ رمایاکہ
إتق ے ووپی لضْرِبَبُ عَلَيْهمَ الد وَالْمسكَمهُ پ8ڑاقرہ:ا٦] (ان برذات ومسکنت کا شیب لگادیاگیا) اور جب ال مدکی نظ میس انسا نگ جا تا ے اور ذات وخواری شیل بڑ جا تا ے خودازما نگھی ا سکوڈ بل جن گت ہیںہ بیہا ںک ککہ مال ددولت بعر وونصب ہونے کے پاوجووااقدا سکولوگو ںکی ڈگ ہوں میں ذ یک لکرد یا ے۔ او راگ رکوگی اہر اورسما سن ععزت وذ قی رک ھی اتا اذا کا ول اس ۔حلخر تک رتا ہے۔
وین کے راوس من دجن
گنا ہو ںکی وجہ سے ایک بات بی ہو ٹی ےک اث لفن اورم ومن حضرات کے ولوں می سںکنا ہار ےٹفض (ذخرت پیراہوعائی سے جن طرح می وق ھک کی وج سےائ لن کے دلوں می محبت پیراہوٹی ہے۔
مر ت برا نع پا کا وی ےک ہ:
” إِن لِلْحَسَنَة ضَيَاءَ فی الوَحْو:وَنو فی القَلِ وَسَعَة
فی الرَرقِءوَقوّة فِيِلبدنء وَمَحَبَة فِي قُلُوبِ الَلَقَِإنَ
. ٠ 0790-٦ ٰ ان نا
ومن فی البَدنہ وَنقَصا فی الرَزقِء وَبْفَضة في فُلُوبٍ
لعل“
فی یی کی یرت چرے ین یف پت گی ین ین دق ان کشادگی ء بن میس طاقت اور لوق کے دلوں میں عحبت پیدرا ہو لی سے او رگن کی وج سے ےم ے میں سای تی روول میں اعلتء بدن می سکنردری ء رز میں نقصان اور لوق سے ولوں می پش پیا ہوتاے)
(إوق بے ووی
(الجواب الائی:۵۱)
اورسا یمان الی الع کے ہی ںکحضرت ابوالدرداء حیلاہ نے فرمایاک ہآ دی
کو جات ےکدہ اس بات سے ےک ہمومنوں کے ول اس پرلحعن تک میں انس طرح
کرام کو پپیدگی نہ چیے ۔ مرف ماک ہکیاجاتے کہ بک طرں ہوگا؟ میس نے عوف کیاکی جوف رمای اہ
” ا ابد يَعلو بای اللہ قلقي اه نم حاو ثرت
] و میڈ
الموَمِيينَ من حَیْث لا یَسْعْر ( بلاشیہ بند وتائی میں دای مو ں میں تا ہوتا ہے لی الیل تھی اس ےجنس ونفرت موجن کے دلوں بیں ڈ ال د بنا ہےء ا سط رپ کہ اس سکو اس سکاشعور
ھی ہیں ہوتا) (حلیۃ الا وی ء:ا ۲۱۵۸ءا لجو اب الياثیٴ:۵۳) ول ہموت
گناہ کےخعبیت اشرات یل سے اہک بی ےکا لک وج سے ول برموت طاری ہوجالی سے تنعل عر بانین سککتے ہی ںکہگناہ سے دل پرمردٹی دموت طاری ہوعا ی ے کو ہاگ گا رکا ول مردوول ہوتا سے ند ود لی ہوتا۔
چنا نی نخرت اما مکبدالشدبن السبارک جو بڑےز بروست محرث وفقہ جےء رج جے
یم ھی ۔ و وہ و ے" 7 2 "ات مات وك بورثاالذل اِدسَا تھا نے وھ چھ ہے فغاظ ٦ت کی سے 3 7 وترك الذنوب حَیاۃ القلوب وغمیر لنفسلٰ غضیانيا
(میں ن ےگمنا ہو ںکود ریگ ھ اک دہ دلو لکومردہ بناتے ہیں ء اور اس پراصرار ذات ورواکی لات ے او رت رک گناہ دلو ںکی زندگی سے اور تی رے لے خر وچھلاکی
(وٛھ رہ وؤوی سکی ات من نے) ید الپ ںلر اماغمر می :۲۴۹ ءادب الد تیاوالد بن ماوردی:ےا١)
اس میس حطر تعپدر اد :کن الپ بارک نے ےگمنانہو ںکوو لکی موت اورطا عت کوو کی زنک یکراے اور بای کتقیقت سے ء خیالی فلسفنئیں ۔اس ل ےکک گنا گا رکا ول ان سار خ ہوں وکیفیات ہے خا ی وت سے جو ایک زند دو لکی ہوئی ہیں۔ اسے بین میں مرو کی ںآ جاءا سکوسکو نہیں طعییب ہوتاءاسے ہروفت بے گنی ہو لی ری ےءاس کے اوقات میس مکھانے ورزقی یل سے برکت اٹھالی جال ی سے اس جے گی و ایآ رات ای ےنام کر ال ان بت اوزککی و رک کیا موں ےیک وحش تس وی ںکرتا ہے پچ رکہاں سے اس سکو جج کا مز ہآ ن ےگا مناجات وطا حح کلت یئ ردئی
گزاہ کا اک بہت با وہل ےکہ طاعات وعادات یسوی ضہ وعلاو تنسو ںی ہہوٹی کون گنا ہکرت تےکر تے جب دل مردہ ہوچاتا ےو ا سکو طاعت وعادت مل موی ںآ تاءاورااس سے بردوا ت جن جاٹی ے اپ نماز ہو یا زکرہویا طاوت ہو سب١ کو ےئ ومعلوم ہوتے ہیں _
اورا سک دووج بات ہیں :
ال 727-62۴/0 دل مردہ ہو چکا ہے٤ ول ۳ئ" زدگی ہوثی نو ودان طاعات وعبادا تکا میسو ںکرتاء جب ول مردہ ہو کا تو اے کہاں ےم سوں ہوگا؟ دوسرکی وجہ یہ ےک گول زند وی ےو با روم رٹیٹش ہے اور پا رآوٹی
وو ےت وؤوی جشسطر حکھانوں اورخذ او لکاھز ویش پا تا ء بل مز ےکی مہا سکوان میں بھی معلوم ہولی سے اسی ططر گنا وگ رکوگھی روحالی صحت نہ ہو نے اور بعر ہون ےکی وج سےالن عبادات دطاعات میں میں معلوم بہوتا۔
امام جرح وتحعد یگل ان الی عاتم نے حضرت سفیان ٹور ی کاقو لاخ لکیاے 0ھ0ھ+ھء
سی 200 ول رق را ارت ان ات نا آئر الدنيا ان نع حَلاوَة مَُاحَاتی مِنْ قب“ (جھے مہ بات کی ےک راید تھا فرمات ہی ںکعالم جب دن یاکوتر ید ینا اذ یں کم ےم جواس کے سا تج کرت ہو دوب ےکمہائس کے وی سے ما جا تکیالذت وعلاو تثال لٰشاہول ) (ای رج والتمر بل )٣۳۱۸۳:
ای کے تیب تیب امام غزالی ن لھا ےک یجن اخبار بش ےک الد نا یف رما ہی ںکہ:
ان ای ما أضنع بالعَبِّ ادا آتر شَهُوَتَهُ عَلی طَاعَتی ان أَحْرمَہ تا اَی “(بندہ جب اپنی خواہشا تکومیری طاعحت پر زی د ینا ےو یں اس کے ساتھ جوم سک مکرتا ہو دہ یہ ےکہ اس ںکوطاعح تکی لت مرو مکردبتا ہوں)
(احیاءالعلوم :۵۳۶۴ مر مہم روما اب نیس ۷و یھو تک الم وضو حا ت للا مام طاہر انضی:۱۸۴)
اورا پوت رہ کے ہیں جوتضرتلی ری ااشدعنہ کے اصحاب میں سے ےہ رت لی ری الد عنہ نے فر ما اکہ :”گنا ہکی زار ےک عبادت می لکنروری پیا
ون( ےک وؤوق ہوجائی ہے معاش می ںی ہوجائی سےاورلزت ٹیل پر انی بوجانی ے“۔ ( تاب الو ہلا ب نع عساکر:۲۳۴) خر تکپدال بن ال بارک کت ہی سںکحضرت وحیب بن الوردے لی ھا ماک ہک یامنا وک نے والاعاد تکی لغ ت پا تا ہے؟ ان ہوں نے فرمایاکہ:” لا ء ولا مَِنْ يَهمْ بمعصیة الله “( یں ءگناءکر نے والا تق ایک طرف گنا وکا ارادہکر نے والائھی عباد کلذ ت کیل پ٦ ) (ذماللھوگی:م ۱۸ء اروا نکی :۳۸۱) اوراسی وج سےعبدالڈدالراز یکا یل ما تک بن د ینار نے لکیا ےکہ: ٭” ان سَرَّك ا تَجد حَاَوٰة العبَادَة وَتلمَ وِرُوٰهَ سَنَايهھَا َاَعَلبَينَكَ وَبیْنَ شُهَوَاتِ اذیا حَائِطأِنْ حَدِیدِ “ (اکر ھے می بات نو لک ری ےکن عباد تک علادت پاے اورال کی بلندگ کو نے نڈاپنے اورد یوک خواہشات کے درمیان لد ہ ےکا ایک د بوار بنادے) (ا ال لاد بوری:۵۳۲۳) اورصطرت بشرعاٹی کت ہی ںکہ بند وکنا ہک رتا اذ دورا تکی عادت سے تحروم۷ردیاجااے۔ ( زم افھوی:۱۸۳) ولوں رلئضش وعراوت اورائرعاپن ا کےحکسو کی پامالی ون فرماٹی کا ایک و ال بیکھی ےکہولوں بی پش و عدادت پیداہوجائی ادرظاہرئیہنحیں ہو نے کے پاوجودد لکی میں سلب ہوجائیٰ یں۔ ایک مل حد یٹ میں حظرتنسن لص رىی سے مروبی ےک رسول الد
(وخ”ق یہ وؤوی لس نف مایاکہ: دا أظهَرَالناس العلم وَضَيعُواالعَمَلَ وتحَابُوا بالأِنِ وتبَاعَضُوابالفّلُوبوَتفَاطمُوابالأرَام 2 الله عزوحل عند ذلكفَصمّھم واعلی أََصَارّهم “ (جب لوگ مکا ظا ہر ہکرس اور لکوضاّ کم میں ءاورزبانوں سے عحب تکا انہا رک میں اور ولوں سے ایک دوسرے سفن کم یں ء اور رش دار کوٹ ڑ یں اس وقت الد تعالی ان مرلعنت کرت ہیں اورا نکوہپرااورا نک یھو ںکوا ھا ہناد تے ہیں ) (التقو بات :۴اءالجواب الکاٹی )۳٦:
لم ےھ ردیی
گناہ ایک روحاٹی روگ یہ پیداکرد یا ےکآ دٹیعلم دربن ےیحروم ہو جاتا سے 1کیونیلم دبین ایک نور سے جو دی اب سےققلب می ڈالا جا تا ے ہاور محصیت ور اص لکلمت وان دج رکی سے جو اناو رکوبھاد تی ے۔
کہا جانا ےک۔امام شانئی جب امام ما لی ککی غدمت می لعل سنہ گے اور امام ما لک کے سان بی کر پڑ نے گے امام مائنک نے ا نک یکم لم وفطاشت و وفور بیدرارمخزک یکو د کیرک راع س ےہاک
انی ارّی الله قد آلٹی عَلَی قَلبكَ تُوْرا ء قَل (میں دکیوراہوں کاڈ رن ےتمہارےققلب پرفورڈال دیا سے م ہنا مگناہ
وق رت وؤوقی کہ کے اس ںکو بتھاشددبینا) (الجواب الانی:۵۳۴) اورخددامام انت ی کے ہی ںکہ: شکوتٹ إِلی و کیج سُوْءَ جفطِي قَأوْصَانِیْ إلی رك اکا ِن عغ کے رشن ا َنُورٴاللهِ لا بُعظی لِعَاصِی ہو ےت شس جج ےکناون ر کفکمرد تن ےکی وصحی تکی کین یلم اکا ایک ٹور سے اور ایل کا ورس یگناہ گکارلیل دیاجاتا) ائل الرے وعقت علما نےککھا ےک گنا وکا رکو اید بھی اور اس کے کیک بندوں سےبھی ایک ونشت ہوجا لی ے؟اسی لے ایےے لوک اٹل اش سے اوران کےعلنتوں مالس سے دور چھاگتے ہیں ۔اور بالاخ ران تٹحردم دہ جات ہیں ء نیلم ملا سے اویل ء لق کی تنا سے معرفت ء اس رع گنا ہی وج سے وحشت میں بنا ہوکردبین ہی روم ہو جات ہیں اور دوسرکی جانب مہ شیطان سے خریب ہو تے ہیں اور شیطائن ا نکواینے متقاصد میں اتا لکرتا ہے
گناہ کے روعالی مفماسد وآ فات کے بد ای کن راس کے ظاہرکی وجسائی مفاسدوآفات ھی ڈال شئیے اورک ناہ کے نا اک دنو اشرات وکیفیا تکو مک کی
وو رے وؤوڈ
ق رآ نکمم نے بقایا ےکنا ہو ںکی وج ے انسان پرمصا ب کییچے جااۓ ہیں۔ بی پے و ہگزاہ ومحاصی ہیں جن نکی وجہ سے دنا یٹس بڑکی بڑکی تو مو ںکو ہلاک رر کن
شر ما میں ےک
طِھَرَالْفَسَا فی ابر وَالْبَحْر بِمَا كَسَبَُ ایّدِی الا لیْذِيْقَهْمَ بعض الَّذِیَ عَطرَلَلیمَ مو ن4ڑا روم:۱٥]
( گی وسحندریی ضماویچیلگیاءلوگوں کےکرقذ تک ویجرے بتاک ہالڈران کوان کےپنتض اعم لکی سز اد :تک دولو ٹآ تی )
ایک اور موقعہ پر فرمایا ےکہ :فلا وَمَا اَصَابَكُمْ مِّنْ مُصِيْيِ فَمَا كَسَبَث اَيَدِیْكُم وَيَعقوعَنْ کیہ (الشورعا: ]٣٣
(اورجوگھ یکوئی مصییبتت مکوکی ےد ہار ےکرفذ تک وجہ سے ے ءاور ال بہت گنا معا فگردیتاے )
برفمادگیا ے؟ بے برک کا اٹ چان ءکحیقیو ںکا سوکھ چانایا بریاد ہو جاناء پارشو ںکانہہوناءاور شیا سا ی وضنک سا یکا ہوناءجواوشات ومصا کا می ںآ ناءجیزو تر ہوائو ل کا جانا سیا ب مطلوفان ہس ونا ھی ءزلز نےء رسب فسادات یں جواناوں کےگناہہو لک وج سے دٹیائی وائح ہوتے ر تی ہیں۔ گنا بہوں کے اش ات او رر اسود
گنا ای نات ےء ا سک یحم ت کا انداز و اس بات ے لگایا جاسکتا سے کعد یت میں فر ما گیا ےک جج راسود( کا( پچ مر )ججنت سے لا اگیا تھا اور وہ بہت
إوق رن وؤوی زیادسغیدتھاء بی آدم کےگنانہوں سے وہ کالما گیا ء ایک روابیت میں ےک ایل شرک ک ےکنا ہوں ےکالا ہہوگیا_
(ززری: ےے ۸ مر ا7ر: ۳۰۴۴ء جا ااصول: ۱۹۸۸۲ شب الا مان :۰۳۳۴م ءکنز الس ل :۲۷ی٣۳)
قامل کور بر ےلج بہجراسودنے انسمافوں کےگمنا ہک چوس وو خودا نکی مت ےکالا ہوگیا نو خودا مان کے ول برا سک ینلم تکاس فندراشر ہوتا ہوگا؟اور ا کا ول کس فرکالا ہو جات ہوگا ؟ ہنا انمان اگر نو یی ںکمر ےگا ے ا س کا ول گنا ہو ںکیئحلدت سےسیاہ ہوجا تا ے۔_
چنا نر ایک حدریث میس پیےشھو نآیا ےک رسول اللہ اذا کر نے فر ما اککہ جب بند گنا ہکرتا نے اس کے ول ٹیس ای ککا لاکن رلک جا تا اگر وہ نو رواستغفارکر لیا ےلذدودنل جا تااورصاف ہو جا تا ے او راگردوبار گنا ءکرتا ے ڈوو ا کت بی اضافہہوتا ہے ببہا لت کفکہ اپارے دل پہ بچھاجا تا ہے ہف رما اک ہنی وو زنک سے یس کا الد تھا لی نے ا سآبیت میں ذک رکیاے:ل کلا بَل رَاَ عَلی قُلََْيهِمْ گ سور زتطفیف:]( ہرک ڑنڑیںء ران کے ولوں بر زن گل کگیاے )-
(ت ری ۰۳۲٣۳۰۴٣۱ سض نکہری نسائی :۱۸۳۴ء ابکن جماان :ےھ ۲2۸)
اور بی مصمون حضرت ععبد اڈ بن مسحود بت جن بھی مردںی ےک ان ہوں نے فرما کہ :” بند ومپھوٹ بولمار تا ے اور اس کے ول میس ایک سا کت تا جانا ہے یوہاں ت کک ا کا پورادل سیاہ ہو جا تا سے اوردہ الد کے نز دی ککاذ بین ین بھوٹوں می ںلکد با جانا سے“( ماما لگف:۹۳ےاء) معلوم ہواک گناہ ای کتگمت ہے ء اورا س کا اث انسان کے ول پر بپڑڑتا سے
ووػق رےے وؤوی اوردہکالا ہو جا تا ہے الا دنو پر نے او گنا نہول ے با زآ جا ۓ- سوزا ھی اور زا کیو ںآ تے ہیں؟
لو کت ہی ںک۔سونا می اورزلز لے ای کنب ی بات سے اوران کے یی اسباب ہوتے ہیں جوسائٹس دافوںل نے بیانع گے ہیں ۔ میس کت ہی ںکہز بین یش ایک لاوا ار تا ہے اور جب اس کے سیک ےکی وجہ سے ز مین کے ان ری اپٹی عدک لغ بای ےنذ دہ باہ رلیننے کے لے مجبور ہو لی جم سکی وجہ سے ز بین میں کت ہوٹی ےءاورا یکنا 2 ےب
پهم کے ہی ںکہ یا ا ہرکی سجب سے :سوا رید ےکہ یر لاد اکیوں اتا ے اور کون پک تا سے اور یھ بھی او ری کی ںکیوں اس کو با رکال جا تا سے اور ا کی وج س ےکیوں زلزرلہ ہوتا ہے؟ اس کیو کاکوٹی جواب ان لوگوں کے پا نیس سے ال کا جواب دو دے کت ہیں جن سک ڈگ ہیں ظا ہرکی اسباب سکم کر الف یکواک کا بھی مطال کر کی ہیں ء اور دو نات اخیا ورکل اوران کے وا رشن
چنانچرامام این الی الد نیا نے اٹ یکتاب' العقو بات ٹس ایک مرل شش ح ین ٹیل زلزلہ ہوا ء آپ نے اپنا باتجھ ز من پر درکھا اوراس سے فرمایاکہ :”” انی مفانہ لئ ان لئ بَعڈ “( سان ہو جا ءکیون ابھی میرے لے وقت یں ۲ رپ نے سا کی جا ب نوج کی اورفر ما اکرائغم سے وب جا تا سے لہ اذ بہ کرو راوئی کت ہی ںک ہپ رحطر تعھ کے ہبی زلنزل ہآ با حطر تگھرنےف رما اہ ”یا ایّھا الناس ! ما کانت ھذہ الزلزلة إلا عن شیء
وق ںہ ووی اُحدثتمواہء و الذي نفسي بیدہ لن عادت لا أسکنکم سپ (اےلوگو! بے زلڑلہای وچ ے ہوا ےکم بجی بات ( گنا ہی کر نے گے ہو ا و وپ .لاک (التقو بات لا بن ا ی الد یا:٢٣) امام ح اکم اورامام ان الی لد نیانے ردای تکیا ےکححضرت اس بن ما تک کے ہی ںکہایک بارو و حضرت ما ئنشہ ریشی دع ہا کی خدمت میس گے اوران کے مات ایک اور بھی تھے ءانہوں نے حطرت جعا کشر سے ع سکیا کیہ اے ام الین !جمبی زلئر لہ کے بارے بی تا ئے ححخرت عا کیشرنے الع سے اپناچ ر موڑ نا رت تک و سکع زین لان کے پازر ےم نتر دہییے ؟ حضرت عائشہ نے فرما کہ اے الس اگ می تمکو بت ئوں نے اس ےت مک ز نکی پیم ہگ او جب قیامت میں اٹھا ے جا گے بکھ کین ہو ے۔ حر ال سککیتے ہی ںک ہیس نع سکیاکہراےائی ابناد چا حضرت عا کیشہ نے فرما اہج بکورت اپے ماون کےعلاو ہی اور کےگھ راپ نےکپپٹڑے اارلی ہے لے اپنے اورایند کے درمیا نکا تاب پھاڑ دبقی ہے ء اور جب ود اپنے ش ہر کن اور کے سل عط لی ہے اس بآ گ اورعار ہوٹی ےء 2 ”إذَااسُتبَاُواالزنَاءو شَرِبُواالخمر؛ و ضربُوا لہ" فی سمائهءفقال لأرض تزَرَلِي بھمُ فان تابُواونَرَُواءوإِلَاَدمَمَاعَليه“ (جب لوگ زن اکوعلا لک لیے اورشراب پٹے اورگانے بچاتے ہیں اوراڈد تھا یکو مان پیر تآکی ےو ز ین سےکتے ہیں :
وقؿق ۲ ووی
لوا نکو ولس و ناو اتد
+وجا یں فیک ء ورشدان پرز شا نکوگراد ین ہیں )
ححفرت ال سکککے ہی ںک ٹیس نے عت سک یاکہ:کیا یخذاب ہوتا سے :ذف مایا کہ بللمہ بی مذنژان کے لے عبرت ہ درجمت و کت ہہوتا سے اورکاففروں کے لے مصیبت عذ اب اورخ دای نارائی ہوتاے_
(المیج رک ح ای :۹۱۶۴ھ ءالعقو بات :۱۹)
امام اہن الی الد نیا کی“ التقو بات یس حضرت عا تہ کے رو کے چھملے ٹیس ہیں ءاورامام حاکم نے ا سکوپے سی ش یسل مکہا سے مکان حاخظ زی نیس الم رک می ںکہاکہ میس ا سکومووع خیا لکرتا ہہوں ء اور ال سکیا وج یہ ےکا کی سند یس چیم بن حمادرادگی میں جن برعلا ء نےکلا مکیا ے۔
رائم الھرو فکبتا ےکہ ظا ہر ےکم صرف اتی بات سے حدی کا موضوع ہونا اب ت یں ہوناء ج بت ککہراوک یکذ اب ہو ن خابت نہ ہواور برای "یکم بن ماوشیئخش کےنز دک نہ ہیں اورمنخش کے نز دی ک ضف اورخ فی وج حاف ظکی کٹروریی خطا کی زیادکی وغیرہ بتائی جالی سے ۔لہ ا ات کے نز دبیک اس حد بی ٹکو ضحی فکہنامنا سب سے نکی وضو وادڈ الم
(دیکھ وت یب الججز یب:٭۸۱٭۱۴-۴۱م)
ادن نے اف لکیا ےک حر تکحب نے فر ماکز ش عکوز للہا وقت ہونا سے جب اس پرمحاص یکا ارخکا بکیاجا نا سے میں ددخوف خدا تکا ہاقی ےکلہ اراس پیع یع ہوگا_ نیز نہوں ناف لکیا ےک حفر تع بن عبدالعزبی نے اپنے
وق ری ووی عم لکوشہروں می کی کی تھا :
”ا مابعد :بی زلزلہدراصل اش کا بندوں پرخخاب ے اور نے تما م شبرو ںکوکھا ہ ےک دہ فلال ماہ کے فلاں و ننیں ادہش کے پاس چو سے اس میں سے صددققہ و میں کیوکہ اد تھا لی ۰ پت فَصلی ( جس نے کو دیا اور ال ہکا ذک کیا اورنماز بھی وہ کامیاب ہوگیا )اور ىہ دعاءکر سی کے 21+ ِریَنَا ظْلمتَا اَنفُسِنَا وَإِ لَمُ تَعْفْرُ لَنَا لَنَگوْنَنْ مِنَ الْحَاسِرِيْنَ پچ ے ہہمارے پر وروگ ر! بحم نے اب ےلفسوں پر مکیا ہے ء اور اگ ہآپ جم ری مخفرت نکر میں نذ ہم یقیناگکھا نے یھ 0 رر و ...7 نے گائی: ٭ ولا تیر لِیٗ و تَرْحَمَییْ ان مَنَ الا مرن پ4(اور اگ رآپ نے میری مخفرت نکی اور بجھ پ رقم ہکیا ف بج شلگھائے والوں بی ے ہو چاو لگا )اور ہے دعاء ری جو حرت بلس نے کیک : پل اِلے الا اَنتَ ارت ئن گنت مِنَ الظْالِمیٰ ن4( کوگی معبو نہیں سدائ ےآ پ کے اک ہ ےآ پک ذاتء بلا شبہ می بی ظالآلوں گل ے ہوں )۔
(حلیۃ ال ولیاء۲۰۹۶۴:۶ءالجواب الا بی :۳-۳م) الفرن زلز نے ہہوں با اورکوئی مصبدبت وآ فت ء رسب ال دکی جاب ے
وق رے وؤوی عذاب کےطور پر یا تخب وخو یف کےطور بر تے ہیں ءتا کرلک ا" کت میں نت وپلاکلت پئجرومیوں سے شس
ای رع جب بند ےمنا ہکرت رتے ہیں اورنذ بی سکرتے نو ایل دکی رف ےلت ہلاکت پئھر وی کے شی کرد ۓ جات ہیں ۔
ایک عدیث میس حضرت ابو ہریرہ رسول اش عَاودِير سے روابی تک/ر تے ہی ںکررعول اللہ ت یرت نے فرما اک ہآ خر ز مانے میں یتوم ظاہرہوگی جودین کے نام سے یا طل بک ر ےکی بلوگو ںکوکھا نے کے لئے کبھرے کے پالو ںکا لاس اپ خی ظاہرکر نے کے لئ رپ گی ءا نکی زان شکر سے زبادوٰڑنشھیامیان ول پھیٹرریو ںکی طرں مخت ہوں گے ءال تھالی ان سےفرماتے ہی سک :کیاتم لیگ میرے نام پر دم کھاتے +و؟ یا میہرے او پر جمرآ تکرتے ئو؟ می ان لوگوں پرایک ایا نیو ںگاجس کے بارے میں ا ن انف دشھی تی ران رہ جا گا۔ (ترخریی :۲۸۰۴ بشرب التہ:۱۹۹)
ران یس ایک قو ما ذک کیا گیا ے جو بظاہ رمنواشحع ونم ء شی میں زہاں ہگر باعن کےلھاط ےجخقت 6 گی ۔ یکو نقوم ے؟ دہ جولوگو ںکو رین کے نام سے دموکہ د ےکی ء اور ایل دکی ناف اٹ یکر کے الڈد بجر تکمر ےکی ۔ ان سے انتا لی نارائش جہوں گے اورفرما میں گ کٹ ا نکو میس زادو ںگاکہان میش ایآ یں کا جا سک داد کے کے لئ ان کے نے 3ے کمن دی خران ومرگروال ہوں گے_
وق ری ووی ایک عد یث م۴ سآ تا ےک حطر تعبدایندامنعپالس رشھی ای رعنہ نے رسول اش تَاؤللفیکٰ سے روابی تکیاکہ:” ِذَا ظھر الرّنا َالرا فی فَریَِ فَق کل ھکیس غاب ال - وفی روایة الطبرانی -: کِتَابَ اللِّ“(جب یا ول شرٹی زناوسودعام ہوجاے ندال کےاوکوں نے الا خذاب اپ اد علا لکرلیاءایک روایت ٹیل ےک ران کاب ھت یکتتاب نفر سی ) عطا لک رک ). (مندررک ۲۳٣: بش ری رط رالی :۱۹۲۱ شحب الا یمان :ے۲۹۷۸) اورتخر تعہدارڈربنمسعووری | شع ےگھی مر نے ضضرت رسول الد تارلکیک/ 0+ ”ما ظَھَر فی قَوْم 3ف اَعَلُوْا بأفْيِهِمُ عِقَابَ الله 1 ) تی قوم می زناوسودعام نیش ہوانروہاں کےا وکوں نے اپے او بر اٹہ کے زا بکو علا لگکرلیا) ( ان حان: ۵۸۸۱۰۰) جب حخرت ام رمعاوی کے دورخلافت بیس ابل اسلام کے پاتھو ںقبریس ہوااوروہال سے بہت سا ما لنأیت لا یمیا اور بہت سے لام و با ند بھی تی می سآ و ضرت الو الدرداء زی الی دع کو د بیکھا گیا کہ دہ ای ککونے میں جیٹے رؤرۓ إن بححضرت تیرب نٹغی رن عت سکیاک ہآپ دور سے ہیں جی ہآ کا دن دہ دن ہے جس میس اشرنے الام اورائل اسلا مکوز ت دی ہے؟ ت2 آپ نےف رما اکہ: تراما ہو ءارے ب یق م ایک ز بردست تو می جس کے پا ملک وعکوت یھی رین جب اس نے اللہ کےا ہکا مکوضا کی ا کی یعالت ہ وی جوا رے سا نے سےکہ اد نے الع پر وش نکومسلطکردیا۔ (ا زکائل ا بن الا خی :۲۸۹۸۱ ءتا رن ری :٣٦۰٠ء البدرا ید التہاب:ے۷۸ء١)
ووھ رت قوج رزقی می کی د ہے مکی
یک نت کا ان دز نآ ا تی کے ان ان ے لق پیداہوعا ی ے۔
ایک عدیث میں ےک ہ:” اك الرّجْل لَيْحْرَمْالرْزقَ بالأُنِ الَذِيٍ بد( آ دی رزق حر کرد یا جاتا ہے ا گنا ہکی وجہ سے جودہکرتاے )
( یح اب ن ضبان :۳ر۵۳اءان ما :۰۲۴+م)
گنا ہو ںکی وج ےکھلوں اورمڑاٗں ٹل کماً ا کیفانقصان ال 9ت ےی ینک یت ا لی وا نا کر وا ہے او کو کی عائزت ان نے پورینئیں ہوتی ءا وی ا سک یکیفیت میں فرقی وگ یآ اتی ہے شس سے اس می وہ ثوت وطا قت وکیف ولز تی لق جواس بیز عاصل ہوناجا جۓ ۔
انا عکادانلانن کے برابر
امام ار امام این الی شبراور ایور الد یدرگ دخبرہ نے ای اپی سند کے ساتدابوقیزم تق لکیا ےک
یادیاائن ذیاد کے زمانے میں ای ککڑ ھاپایاگمیاجٹس
ایگ انا جع کا داضہ ای بسن کے برا رقھاء اس پرلکھا ہوا تھاکہ:
٭ھذا نبت في زمان کان یعمل فيه بالعدل“(ے ال
زمان کا دانہ ےجنس میں انصا فکوکام می لایا جاتا تھا۲ اور
ایک ددایت شی اال کر ےک :شض کان یعمل فیھا بطاعة
الله “( یراس ز مان کیا بات ےجس ٹیل الا دکی اطا عح تکوکام
وق ری ووی میس لابا جا تا تھا) (مصنفلن الی شد ۴۹۰۰۱۳ سندراتم ۲۹۰۷۳ الال ستطدر جورگل:۹۶٣) اورعلا ما بى| ہم نے“ الجواب الکا ٹج او رع ریش الد بن السفیر ى نے“ شر ایفاری می امامامدکی مندجی کے حوالہ سے ا سکوا سط رف کیا سے ےت کے پر برتھاءاوردوگہہول ای کجیگی می نی بس رھ ہوا تک :” کان ھذا ینبت في زمن من العدل“ (بعرل والےز مانے بی اگ اک رت تھا (شرح الفاریملسغی بی :۰۸۵ ءالجواب الکائی:۵٦) ایک کا می ںکگا نیو ںکادودھ "۰ء 0 یی نے ححضرت ابن عھااس سے لکیا ےکہ انہوں نے فر ماب اکک ہیک بادشاہنتھاء جوا یمللت کے عالات جا من کے لے پوپ کر _کتا تھا ایک مرحبردہ للا اور ای فآ دئی کے پا تق مکیاء شس کے پاش یک تھی جن سک گرھسو سب ا5ے ھکل ش ا کات ۓکواٹھا نے جان کا خیال پبیداہوگیاء پچ ر جب ال کا دودح کال گیا نو بہت تھوڑ اسائکماءبادشاد ٹ ےکہاکہا کا ددد بیو کم ہ وکیا ؟ کیا را مکی سج کا ار ہک اکر آگئی ہے جہا ںکمو انیس ج نی تھی ؟ ا آدٹی نے جواب می سک۰ا نیس لیکن میرا ضا ہےکہہمارےپاوشاد ےعمکااداد کیا ہگ جم ںکیاوجر ےا کادود ہک ہدیا ۔کیونکہ جب پادشا دم مکرتا پاش مک اداد ہکرتا ےو ہرک تتخ ہو جا کی ہے ۔ بی نکر دشادنے ول ول مم الل سے مع ہکا کرو کر ےگا ءاورس یک یکو چز ین ن ےگا اشن کےے حر بیئ ا نا ددد ند اما نمو لی خو پا لن
وھ كے موچ
دک بادشادنے اللدکی جناب می تو کی۔ (شرح الا ری مکی ری:۸۶۸۵)
وخیروا لکاقصہ
امام رازیی نے ان بی ر میس ای فو کا ایک قصہ امیان کے پادشادٹو شی ردان عاد لکاککھا ے٤ دہ ہکوہ ایک ہار شیا ین با ء اور دوڑ لگ جا ہوا گےننل گیااوراپنٹشکر سے جداہوگیا۔اسے پیا لک شدتیسول ہ ول ادروہال ایک با نظ رآباء وہ اس بی داقل ہواءد یک ھا کہ انار کے درخت ہیں اور ای کل ڑکا بھی وہال مو چجودے ء اس نل کے س کہ کیک انار مھ دو ء اس نے ایک انار دیاءبادشاہ نے ا سکو پچھیلا اور ا کا رس کالما اور الس انار سے بہت رن ھن یدرار رس لہااب الا بادشماہکو با نارکا ارح ہت پہندآ یا ول میس عمز مکل اکنہ مہ با انس کے ما کیک سے ھن لو ںگاء پچ را سلڑ کے سس ےکہا کہ ایک او رانا ما َء اس نے ایک انار لاک دیاء جب اس میں سے ری کال تق ہر تکم رس لھا ا ورسا تق یکا در ہدجھی ۔ سس نے اس ڑ کے ےہاک یانارایاکیوں ہے؟ لڑ کے نے جواب می ںکہ اکس شا ید بادشاہ نے شھکااراد کیا ہوال ہز ااس کے مک ینحوست سے انارالیمابدعزہ ہوگیا۔ےوشی ردان نے ول ول می ائ نلم کے ارادے سےا کی او کے ےکہ ام ایک اناراب لآ 5ء اب جوانار لا اق ا سکارس پییلے ےکھی زیاددحدہتھاء بادشاہ ن ےکہاکہاب انا رکی جاعاآو 7 اھت اکا ظا الس اطانتر با تیاور یبعال دیکھان آتندہ کے لئ بالکل گنا ہوں او رم سےا برک ری۔
(تی الرازی:۶۰۷۱) شحلو یکادل رجا نا ے ممیت کےآ ا ریس سے ایک یر ےک جب بن ہگن ہوکرتا سےا ححوقی کے
۵( ٥ت وؤوی دلو ںکواینداسں ےپرد ٹن ہیں۔
امام این الوزی نے ”زم لکھوئی مم اف لکیا ےک :
”حطر عا کنشر نشی اڈ عنہا نے حظرت ام رمحاو یہ ری اڈ رع کو ایک خی یں پگ اک :”” اما بعد فإن العبد إذا عمل بمعصیة اللاظاد عاتدہ ٣ 020 7/00 ےن لوگکوں ٹیس سے ا سک یت رای فک نے وا لے خودا کی براٹ یکر نے وائے بن جات یں) (زماغری:۱۸۳)
ایک مز رک ححفر نل من عوائن ن ےکہاکن جھ یجوز مان ےکاتقیراوراپۓے دوستو کی ےو فائی د کنا ہے بیرسب درائسل تیر ےگمناہکی وج سے ہے۔
او رجف ضثرات ن کہ اک ٹیش یر ےگنا ہکا اث مر ےگمد ش کی بی می بھی د بکساہوں۔
ایک اورالدوانے نے فربا ای لکنا کا مر ےگھرکے چو ہے می بھی دناہویں۔ (اضیاءامعلوم :۴ء۳ ۵ء الجواب الاٹی :۵۳ء ذم او لا بن الجوزی:۱۸۵) مت وق تک ب بادی
گناہ کے اثرات میں سے ایک ظاہری اث ونقصان بی ےک یٹم گناہ انما نکی صححت وتند رت قکو متا کر تے اورقوت دطا ق تکوضا جرد تٹے ہیں _
رت عحارب من دخار کے ہی سکہ :جب بند گنا ہکرت ے نو ان قلب مس ای ککروری پا ہے۔(ذم الم وی :۱۸۳) ۱
چنا ےہ جولوک دنا کی اور یہا ںکی عورتوں اورمردوں ک ےم میس بنا ہوتے ہیں ءان پیم وم طاری ہو جات ےء پل رکھا نا لی تچھوٹ جانا ےہ خی رترام
وق“ )٠( ووی ہوجاپی ہے بیہا لک کک کم چیلا پڑجا نا ہے اورقوت وط فت نتم ہو ای ےءاوروہ ا ب یکا کے قا یلیل ر بتا۔
ابی رع جو لوک نظ بازیی وزناوغیر شبائف میں متا ہو تے ہیں ودگھی ای مکی ببار یوں میس مبلا ہو تے ہیں اوردین ودنا کےتھاممکا موں سے ٹاکارہ رہ بالڈوں۔
نہ دا ہی لا ء ثہ وصا لم رااھرےرےء دااھرےرے
ایک و جوا نکاعرت ناک وات
چٹر۔ا 0 ے پاس حیدرآباد ےآیا اور جب ا کول نے دیکھا تو ایا معلوم ہوا یق ےکوگی مردہ أُشھ ھآ یا ہو ء انا کی یف وخزارآنکھییں سی ہہوئی بکال بے ہو ءالخ اس نے تے بی رونا رو عکردیاء میٹ نے با پاراں سے ا کاعال لے بچھا ذ راچ لک رسکی ےلاک می راحا لک سای سے یہ سے کرسوتے می مج الام ہو جانا ہے اوراس پ نینرنل جانی ہے اس وجس کی سای سے میں ٹڈ نک سے سوئیں کا جس سکی وجہ سے می رییصححت انا ٹی خر اب ہے بہت پر ان ہوں ۔ میں ن ےہاک ہکا آپ ن کوٹ علا نی کیا ؟ اس نے جب ان چا کرت فا کیا اک نے شیع اون بجی مک رک کی اک نیس ہوا۔ یش نے اس سےسوا لکیاک ہآ پکی مشقولی کیا رہقی ہے؟ اس راس ن ےہ اکمہ یں نے ڈگ رکی پا کی سے مگ رابچھ یہی ککو یکا میس ملاء اس لے پیک ری ہوں۔ میں ن ےکہاکہ میس بیکیل لو پا ء می نے یہ یو پچھنا اہتنا ہو کرد نگ رآپ
ےقخڑق ٢ ووی سکام میں مشغول رج ہیں؟ اس پردہ چو ڑکا اور ددم امش دہاء پچ ررونے لگا اورک ایس میا وت باونییں دک میںگز ارتاہوں_
ایس پر یش نے عون شک یاک۔ہائصل بای نآ پکا ىہ ہے خداکی نافرما ید محصبیت آ پکاائ٥ل روک ہے ءال نے تا کیا ے اورتہا ری یلحمت وقوت وطا قت تو ضا حکردیا سے ملہذ ا اس رو ککو باقی رھت ہو ۓکوکی ڈاکٹریا عائل ا کا کیا علا نکر ےگا؟ اور کا علا جع ان کے پان ہےجھیکیں -۔
کی ےلگ ایاسی ل ےکی نےآپ سے بن کا مخورددیاء یس نے عو سک اک موائے نو کےثر ماق او کی کی نذا ک ےکوی علا نیش ملہ اسب سے پیل ایل سے فو برک رواو رپ را پناوقت اڈ کے ذکریں اورنماز ونطلاوت میں لگا 5_
اس واق کا ذکرائی مقصھد ےک ایا ےک ہم یھی ںکٹتت کنا ہس طرح انسا نکی مت وقو تکو تما کرد تن ہیں _ کو 7
گنا ہکا یک ظا ہرکی اش یرس ےک"یک گار کے چچجرے پر اس لکینحوست وذات میں ہوا ی ے۔
حطر تمادن ز بد کت ہی سک جب بنددردات می کوٹ یگنا ہکرتا ےو کولس کے پچ رے برا سکی ذاتکا اش سس ہہوتا سے ۔(الزھ الا لا بن الج زری:٣۳)
انان ود کے سل ےگمناہکی لی تس و ںکرتا ہے:اس کے بعد یل تتت ہوجالی ےا رگنادکی اس فاپی لت کے بدا سکی دای محوست ہاتی رہ جالیٰ ے۔ رت سغیائن نو ری سے اوراسی طرح امام اج سے لکیاگیا کرای
(وقؿھ ٣ ووی می بیس بباشعار بڑھ ارت تھے: سی انا کے تال ا مِنَ الحرام و يَیقی الثم وَالعَارُ قبقی عَوَاقِبُ سُوٌوفِي مَعييَا حیرٌفی لَذّءْ من يَعَيْعَا الثار (جونف ترام سےلزت عاص٥ لکرتا سے اس سے لت نو حم ہو چائی سے ین ا سکامگمنادادرعار باتی رتا ےءاورااس کے ٹج می براانمجام باتی رہ جا تا ہے ,+0 جس کے بح ٹن مکی 5 (ذم لھوئیل بن الو زی ۷۰ء الا ب الش رع لابن را :۲۸۴۳ء خزاء لا لباب لاہفار تی :۷ر[٣۳) اورااڈستفمرالعدوکی نے بن بن مطیر کے بر اشعارسناۓ : ولا تَفرَبِ الأَمُر الحرامَ فَإنَه حَلَاوَنَه تَفٰی وَبیّقی مَيْرْمَا ( تا مکام کےقھر یج ببھی نہ جانا ؛کیونکہ ا سکی لت وش ہوجالی ہے اود ام کی کٹڑواہہٹ پائی رتقی ے) الفخ گناہ کے نیج ٹیل رع طط رح کے عرابات ومصاحب ظا ہر بھی اور انی بھی ءجسانی بھی اورروعالی بھی می لت ہیں ان سے پچنا ہتکن دک تل و دا کا تقاضاے۔
عزابات گنا وگارو ںکوخرائی مت
وق ری وی لوکوااب ذ را و رکرو آ رج جوحوادث وآفات ؛مصا تب وفمادات دثیا شش
یی ںآر سے ہیں٤ و ٥کیا اط0 کےکییں ہیں ج فا تو مو ںکو جلاک و تا ہر نے کے لے ہچیجلہز مانے میس بی ںآ ۓے سے اوراڈند تھا نے نے ا نکا مل جیا ن ق ہکن می سکیاے اور بقابا ےکہ بر سب دافقعات وحوادث ان لوگول ک گنا ہو کی وج ے ان پری یآ تھے جب ای رب کےدوحوادث تے اور نج بھی می ںآ ر سے ہیں کیا ہ مکوسو چنانییں اہج ےکہ بحوادث ومصدائب ء یآ فات و بلیات ہم پرکیوں لآر سے ہیں ؟ سونامی کے زنز نے ا بک ککئی مجن لیے ہیں میا بھم نے سوچ اک ہکیوں؟ سیلاب کے پچمیٹروں ت ےکئی لہ بستیو ںکوسا کرد یا ءکیا جم نےخو کیا کہکیوں ؟ زازلوں نے ملگو ںکو انی کے نار میس ٹڈ ال دیا مگ کیا ہمارے او پا ںکا کوئی اث ہوا؟ اوررھم نے کنا وکوکچھوڑ اور ایل کی جانب لیے تیا ہو ۓ؟
77-) جانب سے یہد نوک مزایں اور عذابا گنا دگارو ںکوضخبیہ کھرنے اور ڈرانے کے لے آتے ہیں ۷ اک گنا ہار ہندے اپ رع وت آرْ را ڑتین۔
قرآن ہحیداولدتھالی نے فرباپاکہ: ہا وَمَا ُرسل بالایت الا تَحْرِا پ (بنی اسرائیل:۵۹](اور ہنی کیج نشانیو ںکوگ رڈ رانے کے وا سے )
اورابیک دوس رےموقعہ بر ےک ہ:
لوَلَقَدُ ارَسَلنا إلی امم مْْقْلْكَ فَاَحَذلهُمْ بالَساءِ و الضراِ لَعَلَهُم بَضَرَعُوْن فَلوْلََ إِذُ و تر ہو قُلَْْهم و رین لَهُمُ الشَيْطنُ مَا کانوا بَعملونَبہ (ل1نعام:٣٣-٣٢] (اورھم نے رسولو ںکوآپ سے می امتوں کے پا بھی میتجاجب انہوں
(وأ”( بت وی نے ٹیس مان تق جھم نے ا نکومالی وجسما لی مصماب سے پکڑاءاکردہہمارے در بارشیں قےبرکرتے ہو ۓگیگھڑ اکیں ء یں جب جعاراعذاب ا نکو پا کیو ںنیں انہوں نکیا ؟ لن ان کے و لجخت ہو کے ہیں او رشحییطان نے ان کے برےاعمال کوان کے لے می نکردیاے )
دی ء ىآیت بت ری ےک اید تھا یکی پکھڑ ج بای مصاخب پا جسائی ما بفکیشکل یں ہوکی ہے ء راس لئ تاکمہ بنرے الد کے ساٹ ےکرگھڑ ہیں ء معای ماک یی ہگن نہوں ے پازآ چا میں اوراپٹی نگیو کوٹ کک ری
گرآ رج "م لوگو ںکا عال یہ ےکہگناہ گناہ ٢ئ جار سے ہیں اور ال کی جاب نے شا ضان ہے در پے ظاہرہورہی ہیں جن خرف ا عادقاتء راو نل ۳ ء۶ "ه“ میں بر یکووئی اما سبھینہیں ےکی کین ریخات و ےجا شال فان نکی یا نکیا ے۔
او لَقَدُ حَاعِمُم ٍِن الانباع مَا فَیه مُرْدََرٌ حَِکمة ۴ بَاِعة ما تعن انڈ ری رات ۵-7]
(ان ے پا گمزشندقو مو ںکی دوخب رم ھی ہیں ؛نشن میس خوف و ڈرےیڑحی اک ددج کی دَشمند یکا سا مان سے م مین اا کور خوف دلا نے والی چ سی کوئی فا مد ہیں ہیں )
لوگوا ہو می 11ء اوران حوادث ومصا تب پرفورکروہ اک رت حاصل ہو او رگناہ سے بنا آسان ہو ءاگ یں تو گناہ سے بین کے جاۓ اوران پردلر تین ےون دک یزاغ نے نات کر ےکی
وت دی قوج گناہ سے پر ہی زکیوںکییں؟
721 7 دی معخرفوں ویپ بینانیوں ورک ر ےکا وو وضرو رگنا وک وکچھوڑ نے کا مک لگا یوک جب ا کوا نکی خراباں ونقصانا ت کا عم ہگ کو وج تی ںکردوا نکوکچھوڑ دی کا ارادہ وعزنم نکر ےء تی اگ یی معلوم ہوک بیکھانا ہمارے لے “ضرم طیعت جا نے کے باوجودہم ال سکوگچھوڑ د نے ہیں تکاس کے لقصانات سےگڑیں۔
ایک بجز رگ ححخرت حماد بن ز یلد نے ای با تکو بڑےحمدہ پچجرائۓ میں ا نکیا ہے١ وہ کے ہی ںکہ:
عَجبْث لِمَنْيَحتمي مِنّ اَطيمَةِلِمَْرَيِهَا "سو َ "ھ0۳
( ےجب سے اس پر جوکھانوں سے ا نکی معخر تکی وجہ سے بی زکرتا ہے وہ کی ےگناہوں سےا نک یکاغنتوں ومصتی و ںکی وجہ سے بی زی ںکرتا)
(ادپ الد یادالہ ]یئ )١۱١/۱: زگ کعرموال عمال ظاری رض فضاا از رخ رن سےول میں ا نکوگچموڑ دی ےکا عزم پیراہوسکما ےکیونکہرانسا نکی فطر تکا یہ بھی ایک تقاضاہے۔ مو نکمنا وک پپاڑاورفامکن ھی تا ے
مَ مک نکاشھان بی ےبد وگنادومحصبیت کےکا مو ںکوا یک پہاڑ جھتاےء
مصعمولی بات کیو ں کت ءگزا وا عم وٹی بات بمناغاسقوں فا ججرو ںکا نظ رب ے۔
(وٌھ رن ووی عد بی مل ےک ححخرت حارث بن سو ید کے ہی سک ححخر تعپ الگ بن مسسحودپٹلندنے فر ما اکہ :نم ومن اتپ گنا ہو ںکو الما متا ےکدد ایک پہاڑ کے نے ٹڑھا ے+دوخوف کھا تا ےکہ پپالڑ اس کر پڑ ےگا ءاوفاس نآ دک ا گنا ءکو
اتا ےی ا سک ناک بر ےکم یکر (بناری ۹۳۹۰۸۰ءت نرکی:ے ۲۲۰۹ء مٹرام :۳۹۲۹ا زحد لا :ن الہارک )٠١: حضرت الس بن ما لک ڈطائدنے اپنے ز مانے کےلوگوں سے خطاب ے
ہوت کہا تھاکہ:
لک لتعْمَلونَ أغُمالا هي ان فی اك مِنَ الشْعر إِنْ كُنَا تَعُلمَا عَلی ءَ وو کل امن المُوَبقّات “ (ال تنم لوک پگ لکرتے ہو جوتہاری ڈگا و یٹس بای سے با ر یک ہیں پیم ا نکورسول الد اذا تک کے مانے میس تاہ کرے وا ےی لنٹ جے) (زنارل۹۲٥٦) اسی طرح حخرت ااوسعیرخدریی اورخرتعپادہ بن قر با ےگھی مروی ےک افھوں ن ےکہاکرتم لوک یی لکرتے و جوشخہارگی نگاہ میس بای سے با رکیک ہیں ء ہم ا نکورسول اللہ حا بتکم کے مانے میس ناوک رنے وا نے کھت تے_ (گنالزوکر:۳م۷م) لی ری الڈعفسےمر دک ےکآ پ نے فا اکہ : ”إ أغظمَ النُنٍ ان 0900 ٣ػ (سب سے اناو ری ےکآ دی ا سکوسعمولی تھے )
٭إۃ تن ووچ
(اگیالی: )٣۰٠٣: امامماوزاگی کے ہی سک کہا جا تا تھا ک کیب ر ہگنادری ےکہ بد وکنا وک کے اس لاتق رجے_ (التو ہہ لاب نک گر:۱۳۵)
اورائس کے متقا لہ میس فاسی وفا جر لو گنا وکس ق مو بی یھت ہیں ۔م من و انس کو پپہاڑ کے براب یھنا اورخو کھاجا 0+ ء0ء+ء+808یی)/ داد ولاک تکردےءاورفا تا ےک یکنا و ای ھی سے ناک ہرٹیھی اوراڑ کہ ایک با لک طر ہج کیکوئی حشی تنس مہ بال می راکیاہال ر اکر ریا ؟ آ ج ہم لو کچھ یمن وکواسی ط رح ایک “موب بک يہ بظار سے ہی ںک بح مبھی اس در کے مین یں ہیں ۔
جس لو کر ہوں می نید وی ک یف پیم می شخول ہو ات ہیں اور و نے ہی ںکہ ب گنا ءکونسا ےعخرہ یک رہ؟ علاء نے اگمہ چرائل پہ بج شکیا ہے ری و ات 1 ےت 0 ور اگی عادت بنالی جاے وہ بڑاہوجاتا ے۔
ا ںکو ایک حدریث می رحول الد تی یسک نے ایک مال سے مھا پاے۔ چنا خی تحضر تل ین سحد سےم وی ےک رسول اور یلیک نے فرما کہ مصسحھوٹ یکنا ہوں بھی پچ ءکیونکمجمول یکنا ہہو ںکی مال ای سے جیسے ولک ایک وادکی کے دا ان .۰ ص-,- 2 1 گڑالایا اوررورے نے ای کگٹڑالا اہ بیہا ںک کک رانہوں نے اتگکڑیاں شک ریس جوا نکی ردٹی انے
(ووػق رے ووی یش کا می اور بے تنک ا ن تق وسجمول یگنا ہو کیا جج بکمنہگا رارقا بکرتا سے ڈوو ا کو ہلال کفگ۷رد نے ہیں ( نم اک ےط رای :۲۹۵ شحب الا یمان ۰٦/۹: ءمنراجر:۳۳۷۸۵) اورنخرت عپد ارڈ بین مسحود بیتو نج نے گھی ای رح سے مبجھایا سے ء انہوں نے فر ماک :مصسعمولی وتقی کنا ہو ںکی مال ابی سے تی ے ایک مساف رقو م ایک گت کیہ جہاں ان کے پا ںکھان ےکا دسا مان تھا ج ھآگ کے بقی رکھانے کے قالینئیں ہوتا شی ا سکو کنا پڑنا سے یں لوک تقرق ہو گے ء اور یٹس ایک ُا لےآ یا اورایکپٹس پڑ کی لابا ءاور یگکڑئی لا یا ء یہ لت ک کان کے پا کھانے کو پانے کے قائل یہ چز مع ہولنی ہ یں اسی رح وٹ گچھو لٹ ےگناد والا ےک لک یکونتصان شہبیانے وال یکو گی )مجھوبی با تکہرد تا سے گنا ءکر تنا سے اور یس بح کرات ہو جا تا ےکا تھی ا ںکوا سک وجہ سے من کے ب لچم میں الد
)٠۰۳۹: صن عبرالرز اش :۱۸۳۶۱۱ شب اڑا پمان ( معلوم ہو اک گنا اگ ربچھوٹا بھی ہونذ ا سکوکچموٹا زہکھنا جا ہن ء بل ہوسا سے دہ باد پارکرنے سے بڈا ہو جاۓ اورجی ےگیموٹی بچوئی ہنگاریاں جح ہو جا میں نو بلڑئیآگ مین جالٹی ےءامی ط رب وہجھی جلا نے کے سل ےکاٹی ہوجائے۔ ای لے ایک عدبیث مل راگ یآیا ےک اگ رمچھوٹے سے بچھو ٹن ےگناہ یہ 7 اصرارکیا نوہ کچھونانیں ر بتا۔ دوعد بیث ہہ ےک ہرسول ال مَأٴل فیک( خطبدد بات اس میں بیشھیافرمایاکہ:
ووق رے وؤوی 71 و ٹا صَغِْرَفِي کت ٌ اه لا صَغِيرَة مع الاضرار وَلا كبیرَة مع ار “کس یبھ یکنا وق ستموی نہ جھوا جھ گا ہوں میں وہ بچھوٹا ہو ؛ کی وق لکوٹ یناہ اصرا رکرنے سے جوا یر جتااورکوٹ یگمنا وذ بکر لے سے بڑ ایس ر بت (الطا اب العالی: ۱۸۵/۳ اتحاف اخ رۃ:٣۹۳) شحلماء سے و چا گیا ککہلوگوں بیس سب سے زیادہ دوک ہکھانے والا کون ے؟ت ھک اکردہ جوگنا ہو ںکوسب سے پاکا موی بت ہوء یو اک میں کس بات پردوناجا نے ؟ت ہاگن ہوں می لگ رےلجحات پر یو پچھا کرس چیزبرہیں فسوی ںکرن جا ؟ ن کہا فلت می سک رےاوقات پر( لت لا ین اکر:۱۱٢) لہ انا ہو ںکوقی رومسعممو لی خیا لکمرتے ہوئےۓ ال کا اما بک تے ر ہنا ایک خط ناک وین جرم ہے اورتبا قکی طرف نے جانے والاراستہ ے_
راک ڑا یھن دال گنا وک یھو نانبڑی ںکچ سکا
یہاں ایک اور با تبجنھ ےک گنا ہکا کو ٹاڈ اہونااس بات برم قوف سے کس کی ناف ماف وکنا دکیا جار اے؟ج سک ناف رما یکی اری سے ود اکر پڑا نیم نذا کی بد نی بات نہ مان بھی بڑی ناف بای نصورکی انی سے+اوراگکروہمجمولی تخصیت وق ا کی بڑی سے بڑی نافر مال یکوشھی موی خیا لکیاجا تا ہے۔
لت کی یک ات ار ےی اتک ا نکی نافررا یکرت ےن سب لوگ بھی یلت ہی ںکیکوکی اص با تکییں ہوکی ؛امی طرح
ووؿق رے وؤوی ایک ےرا یک با تی نے یس مانی کوئی ا سکواہمی نیس دبتا؛ کیک او ںکی لاہ یس ان لوگو ںکووئی ویقعت حاص لیس ہے مل ہز ا نکی نافر ما یکو برانئی مھا جاتا۔ اوراگرشال کےطور برای ک ننس اپنے دوس تکی بات ئل ما تاذ ان سکو برا کچھا جاتۓ الین اس در برانہی جقن کاپ با پک بات نہ مان کو برا ھا جا تا ے۔ کیوں؟ اس سل ےکمہ باپ کے متقاٹے میس دوس کی یی تکگم سے
اذا با پکی ناف ال یکوزیادہ برا مھا جا تا ے اور دوس کی ناف بل یکم درج کی بھی 007 چرکردوس تک ناف مال کی بڑی بات ٹیل مواور ا پکامسی موی کیابات مل ہو۔
مال کےطور بر دوست ن ےہاک می سآ رج ت مکودکو تکھلا نا چا تا ہول :ہز | آپ ضرورمیر ےگ رآن می انیظارکرو لگا ۔ میایک بک بات ےگ اس کوآپ ن ےکی مانا اور دوست نارائش گیا ء اس کے بالتائل پاپ ن ےکہاکمہ ای ک گلا ا5ء ایک چو ٹ کی بات ہے ہگ رآپ نے کیل مانا او با پکونارائ کر دیا۔ نذا پکی چو بات نہ انتا تھی بڑ گناہ سے اور دوس تک بڑکی بات نہ بنا جھی وٹ اتد ے۔
اسی طر ایک ناف رما بادشاہ ہے اور ای کی عا مآ دٹ یکی ءدوفوں میں بڑافرقی ےء بادشاہکی نافرمالی خوا می تچھوٹی ےکوی بات ٹیس ہہدءوہ بی سے اورعا مآ وٹ یکی نا فرمالی بڑکی سے بڑی بات میں ہو دوئچھوٹی ے۔
جب یہ بات ہم نے بھی نذ ور برک رنا ےک اکم ہم نے خداۓ دو چہاں گی با تی مال تذکیادہ مو ٹاممناہ ہے؟ نیس بیس ا ند رب الحز تکی کوٹ سے وٹ بات نہ انا بھی بڑ گناہ سے ا سک وھ وٹا نی سکم سکتے۔
قح ے وؤوٹ ابی لئاف لک ایا ےک حضرت بلال بن سعدنے فرمایاکہ نت طز إلی صغُر الْحطیقذ لکن الْظر من عحضیت “لم ندد بن اک گناہ کچھونا ہے بللہیے د یھن اک و کی ناف ال یکررہاے؟) طظرو لوسصعواركموم ھم ون کت7 الخ شکنا ہو ںکص رہ پچ وک را سکی جر تی سکرنا جا ہ پلل شش یی ہو کرس یبھ ین مکا مکنا نہکرول ء ن کوٹ نہ بڑاء پیش ہرضرب مبیرے ال دکوراشی کمروں کول ا اڈ سب سے بڈاسے مل اا کی نافر می بھی بڑی ے۔ گنا کچھوڑ ن ےش سک الف ت ضروری ے ابد پا ریسا لکہگمنا وکس طط رح چچھوڑ یں ؟ ال کا جواب یی ےکرااس کے لے انسا نکوعمزم و جم تکرنا جاپنے ۔اس بہار یکا علانع کی ےکہ اس ںکوکھوڑدیا جاۓ ہفواہ بجی ہوجاے- اما مل بن عبدایڈنسنری کے ہی ںکہ:”مَوَاكَ دَاءُ كَءفَانْ خالفتۂ كوَاءُ ك“( گناہ ہی توری بیارکی ےءاگرف ال سکی خاش کر ےل وجی تیرکی دوا
ے)
ٴ
ایک داقعہ بھی ا کی جا تی ہوٹی ے٤ وہب یکیمشہورصوئی و بز رگ اھ بن الی اور سک می ںکہ ٹیل ایک دفعہ ایک راہب کے پا ےکم راءنذ یں نے دی ھاکنردہمابی یف وکنرورہ گیا ہے ۔ سے ہی ںکہ بیس نے پو چھاکیتم اس رر ٹج فکیوں ہو گن ہو ؟ ال ن ےکہاکہ جب سے شی نے می رخ کو جا نلیا سے یی ا کی شرارقوں وخراشز ںکو ان لیا ےق میس اس سک یگل می لیف دکن ور ہوگیا
ووػق رے ووی ہوں ۔اتھ بن الی الھواری کے ہی ںکہ بیس نے اس س ےکہ اک رم ا کی دواء وعلاہ کرو ۔ الس ن ےہاک یی ان لک دداء سے عا جن گیا ہوں ۔اوراب یل نے عز مک ریا ےکا لکوداغ دو گا ۔ ا ہن لی الھواری کے ہی ںکہ بیس ن ےکہاکہ ا کیا ے؟ ن ذکہاکہخواہشا تک مخالشت ۔ وانگی رخواہشا تک مفالشت اون سکو اس کے مطالبات سے دوررکھنا بی ا سکاعلا ن ے-_
گناہ یل سییننے وا ن ےکی الیک جیب شال
کین ہاگر بند وگزاو میس ملا ہوجا ےذدہ پچ رلا برواہ ہو جانا ےءاوریک کے بععددوس راگن کن ےکی جر کر ن ےگا 0ى 7ء ےکا نول کہ اکم :
” اك من غُقُوبَة السَّیقَِ السَیكَةَ بعدَمَا وَالَّ مِن تُواب الْحَسَنَة لْحسَنة بَعدَھًا “(بلاشبہکنا ہیی م انا کے بح کنا ے اور یکا لہ گی کے بعد ھی ے) (الجواب الال بنامٌم۰٦ھ۵)
یہ ریہ ےک گنا ہک ایک ہار جب جرآت ہوجالی ےن بی رآ دی گناہ کمرنے میں بعمت دکھا جا ہے۔
ا کی ایک جیب شال مج عارشن نے جیا نکیا ہےءانہوں ن ےکہاکہ ایک باردہ یڑ یل اپ ےکپٹرو ںکو یٹ ہوئے اور یروں کےکچسل چانے کے توف سے پور اخقاط سے پیل ر سے تے مگ ایک م یچس لگیا اور یڑ می سکم پڑےء پر ذر تج لکرانش ھکیڑے ہوۓ اور گے نے اب درمیان بی بی یں لے گے ء ؛کبوکمہ برخیال ہواکہ جب بچڑ دن وکپٹو ںکولک ب یگیا تذ ا بکیا ا عقیا کہ میں ؟ جب اس طرح بے اعقیاعی کے ساتھ جے او رآ کے بڑ ھ نو پچ رانہوں نے روتا
۵ؿو ے وقوی شرو عکمردیااورفرما امہ بند ہکا عا لچھی انی ےک گناہ سے پتمار بتاے اورایاا تار تا مان جب ایک دوگنا کر تنا ےو رکنا اہوں می ںو للگانا شر وع کردیتاے_۔ (احاماعلوم:۵۳۳) الڈراکبراہڈیی عبرت نیز بات ےہول میں خوب نٹھا لیے کےتقائل ےہا ا لکوواوں بیس جما لیے اکنا سے ین یں کا آۓ اورآسمانی سے پ میں ۔ تی اس انل کے ایک راہ بکاعبرت ناک واقعہ یہاں بی اس اتل کے ایک راہ بکا واقدیجج یمن یئ ء جو بڑاعبرت ناک ہے اورایک کے بحدرای کگناہ میس سن ےکی صور بھی سا نے لا ا سے ملس رب نک رام ہے ہت
سے ای عو اق ہ
بریة مُنك اِنیَ یھھ0" رب ک0
(یے حیطا نکا حتصر ےک انسان ےکنا ےک کاف رہ جا پچ ر جب دو کافر و جا تا ےن کہدد ینا ےکہ شی تھھ سے برک ہوں ء میں ذ درب العامٹن سے ڈرتا ہوں)
ای ںکینفی میس علا ہنی رن متتوددواقا کک ہیں ءائن یج سےایک بے ےکہ تی ارات لکا ایک راہب بر باریس سے ابی عیادتکگاہ ٹیش مشخول عبادت تق ۷ و تے اور کی عبادتکابڈاشبردھا اور اسیا ٥تقی می تن بھائی رج تے جن نکی ایک تہایت ین وش ہو ناھی اور پیا زی ۔ ایک باران پچھائو ںکوایک سفردریینش ہہوا نے ان لوگوں نہ یں بیس مور ہک یا کون کوکہاں تچھوڑ جا میں ؟ ایک بعائی نے مور ہد اکس فلاں راہب کے پائں کچھوڑ دبیی
ووق رے وؤوی کے جو بڑ اف وعباد تگز ارآ دٹی سے اس سے زیادہ قائل اعخاد بیہا ںکوگینییں - پزااں ے 1 2 0 ین رکش نکا راہب انا مکردےگااو راگ ری رج یو اس کی اف تار گا۔ چنا خر سب کگرداہب کے پا یچ اور اس ےگ اش لک یک بی ہھا دک بجن ار ےہ اور یں ایک سفردرییی ہے لہا ھم ا ںکوآپ کے جوا نےکر نا ا تے ہیں ٦اگ خدنخواستہ برمرجاۓ نے ٹر و شش نکا اتا مکرد میں اور اگ بی ردی تو ا سکی اط تفر انیس :بی لوک وا ںآرکر نے جانمیں گے۔
٦ 2 ہے ۔اور پلک رخصت ہو گے اورراہب نے ال لڑک یکا علاحع معا کی ند ٹیک ہہوگئی اور کان ددبالا ہوگیاءادرراہ بکوخیطاان ے پہکا ناش رو غکردیاکرااس کے سا تیز کمرے ہگ رداہب پتنار ہام رش طائن ا کو ری نکر کے سا مئے لامتار جتنا تھا ۵ بی ۰0 بنا ہموگیااوروولٹرکی عاملہہوکئی ۔اب ححیطانع نے اس ںکوشرم ولاک یکین ت ےکی کت گی ءیکیس ہونا جا ۓ تھا۔ ام بیرداز دوصر ںکواوراس کے پھ یو ںکومعلوم ہ گیا تو یکس ق سوا ہگ ؟ چورشیطان نے راہ بکواس رسواٹی سے پچ کا علا نیہ تھا اکا سپٹ یکو کردےتا اکس یکومعلوم بی ن ہو کے, ان کا نین یو وت غاطت ات
پناس راہب نے اس لڑک کون لکردیا اور ایا درخت کے بے لن کردیا۔ جب انس لڑکی کے بھائی سفرسے وائیل ہو تےفذ راہب کے پاس انی یو نک لۓآۓ:ایوے/ رزواقا لغ ارگ تے ا لافطا ٹن کردا نے بھائیوں ماک ہوگا اور چ ےآ تے ۔ادھ شیطان نے ان بھاتوں کے خواب میں اک رکم اک تار نم یکین نے بلکن ئن راب ے اشن اشنا
۵ؿ( ے وو9ی ار و کمردیا سے اورم کو لق نکی ںآ جا نو فڑاں ورخت کے اس کعدائ یکر وق مکٹھہارکی جو نکی اش یی جا ےکی ء دک ینا۔
سب بھائیوں کے خواب میں جب اىی ط رح نظ رآیا فو انہوں نے اس خوا بکو ٹپ ہچوک ردرخت کے پا ںکعدرائ یک اور دای وہاں سےا نکی و نکی تل لال برآ مد ہوکی۔ جب شحیطائنع نے اسرب بھائو ںکواس داقن ے پاخ٘ رکیا اوروہ اس شع ہو ۓ وا ناوخ ص ہآ باادرراہ بکو مار ن ےآ ۓے ء او رحیطان نے اڑھ رجب رات لاوکات و کا رت ےتاپ راب ۓے ہے لگاکہدکیداب میں بی بے بیچا سا ہوں ء اگ رذ میرک ایک بات مان لے تو میس اب تک مددکرو لگا ۔ راہب ن ےکہاکمہابچھاء ی٠ س تہارک بات ماد ں کا ء خیطان ن کہ اککہ بے ایک بد کہ یس ھے بجاو گا اس نے سید ہکان سن ےل کہ یں تھے ری ہوں اور مھ ا درب الھامژ نکا خوف ے۔
(تقیرطری :۴۳ ۲۹۷۹ء الد رلمٹو رص۸۸)
ال عبرت تفر واقعہمیس یہ بات دکعائی ےک ایک کے بعد دوصراءووسرے کے دس را گناہ اس ن ےم سر عکیااورایک سے بے کرای ککا ارجا بس طرح بوتاگیاءادلا نوز ناءز نا کے بل نی کے بحدشرک م سکس ط رب ملا ہوگیا۔ گنا ہک رنے س ےکنا وی ں پچھوٹا
ایس سے بیگھی معلوم ہوک اکنا کر نے س گنا ہیلا ت بی ں کچھ وٹقی بلہز اجھ کھت یں کن گنا نکر لت د لکوظ ارجا ےگا ء دز کی داز کر ن ےکوی بین جا ےگا ءال طلر مناہکر کے مگناہمچھوڑ بیس گے خیالل فیا خیالی سے ہتقیقت میں
وق رے وؤو9ی اییانئی ہوتاءکیوگر ہوسا ےک گناہ س گنا ہکی ات کچھوٹ جاۓ )رین لیا ہوا لی لے گ کہ میں بہار یکو بیارکی سے دورکمرو لگا ءکیا ایک ببادرگیا دوس رکی با رگی ے دور ہوئی ے؟ پیدراصل فاسقو کا نظریہ ے تی ے ای کع رپ شا عرن ےہاک کات اتی ھی ناف بک كُمَا يَتداوٴی شَاربٔ الحَمْر بالخحمر ( یت عی می ری دو وروی احی مب ری پیا رجگ یی شرا لی شراب سے انا ا عحمتاے) ای علر گنا ہی معحبت می کر رلوک ا کا علا گنا ہہوں ےکر نا چاتے ہیں مم پہغام خیالی ہےء بل ہگناہکرنے سے بات اورمخبوط ہوحالی ہے اور کا سچھوڑنا اورشفئل ہوجاجے_ امام وصی کین ان نتصیدہ برد ہیں ف رما اکہ: ا تم بِالمَعَاصی کسر هُھُوَتَها الطعَامَ يُقَویْ شَهَُوةَ النَھم او راس شع رکا منظو مت ج یت رم فیات الد بن نظا نے اسر حکیاے سی ا اق کی وو نوز سر جو ئ المقرمیں بیس ہوتا نم اہ ایام خیای ےک گناک لے س ےکنا ہو کے جباتصردہو جات یں ہیں پگکراوربڑھ جات یں ہعلامہاوصی کی نے ا کو ایک شال ےکی وا کیا ے۔ ۰ ی۶ 2 حُبّ الرّضاع وَإنُ نَفْطِمہُ بَنْفَطم
ەإوۃ رے 8ؤچ
تصیدوبردہ کےمنفلو مٹیم جناب فیائش الد بین لا ٹی نے ا لکا تر جمہ اس طر کیا
ىی ہیں واوتں اعد فل شرخوار دودھ پپاجا ۓگاج بک ک تن رانھیں کے ن ہم ا ںکا ٦ ,ری ء60 14ب یپ پ+ ہ؛ہ گےاس وف تکتک ددمتصیت وگنزاہ سے اورلز ات دخواہشات سے بے یں علزا سے شیرخوار پیکودودھ تچٹرایا نہ جاے نو و بھی ا سکوئیں پھوڑجاء بللہ ہوسا ےکی نا ہولرجھی اس سے باز ہے ۔اسی طرح نف سکویھ یناہ سے را وق چا نا او جچٹرانا ہا تتے۔ پسلاف رم نو زاصوح تر ک گناہ کے لے سب سے پہلا ف دم تو ہلصوح“ سے لب اس کے لے سب سے پہلاکام مہ ےکہاللدکی جناب میں فو فصو تی پی و کی فو ککرے اوراتھالی کےسا حنےخو بک کم اکراپنے تما مگمنا ہوں سے معائی اتک نے۔ ۹ تو فلت بک فضیلت ٹیل بہ تک احادیث وارد یں : () ایک عریث میں حطر تعبد الد بین مس جوددیی الد عشہ سے روابیہت ہےکرسول الد عای فک نے فرما اک یندہ جب تو بک رتا تو ا تھالی اس 7-, 9 ۶ی 7 ۷ت و سکھوجاۓ ء ببہا لیک ککہ ال ںکوشد یلد چوک و پیاس گے اوراس کے لن ہک یکوئی امیر نہ ہہ برا اتک ما لن ککودول جا نوکس فدرخنی ال سکوہوٹی سے اس سے
وق رےے وی زیاددخوشی ال تھا یکل کن بنرے کےا بر رنے سے ہوٹی انت ( بناری: ۱۳۰۰۸ ءن ری :۲۳۹۸ءاءںن ماج :۲۲۳۹ مٹرام :۳۵۲۸)
(۴) حرت ابومزی اشعری نے رسول اللہ عَی لیر ے 70ء ۹" "٦" )"ص9 8٤8۷ ۶" ٠ ۹ 2 الس من مَکِ ھا “ ( بے شک الدتھالی اپٹی ر۷ تکا اتد رات می ںسکھول دتے یں ت کرد نکامگمناوگارٹے کر نے اورون میس اپنا بات ھکھول دتنے ہیں تاکہدا تکا گناہ ارت بر نے( بسعلسلہ ایی در ےگا) بیہا تک سور مضرب ےت لو ہو)
) :۵ے تر ۹۵/27
ال ال سذ کر نے می کوکی پپہل وی نہ ہونا جا اور شر مکر کے الد کے در ہار عالی سے دورد ہنا جا یئ بلہحاضر ہوک این تھا مگنانہوں کے لے معاٹی طل بک ر ینا جا ۓۓ _
9 نمازو۔ہ
اور کی ما زکا اما ھی مب بات سے ۔نحخرت الوب رصد لی سے عحد بہث
مدکی ےک رسول ار الیک نے ف رما اک
2
ہرد کے سے لے ے۔
”ما من عٍَ مُوہن یب كت َتوَضَأ قح الطُهُورَ مم يُصَلَ تین تفر اللہ ِا فک“ “(کوئی بھی من بند کنا ہکر بی پل راتچی رح سے وضوکرے اوردورٹ۴نییں پڑ ھے او راید سے مخفرت چا ہے نے اد تھا لی ال کی مففر تفر مادتے ہیں )
ۓ
(مندر امم :۹ئ۵ بش رح التۃ :۵۱/۴ ایض نک ری نما یی ۸ك۱١۱)
(ووق رن وؤوی اببذانذ ہکا آازنمازفو ہہ کرے اور پُھرخو بکڑگڑ اکر ا گتاہہوں
کے سان طلیآرےر ۱ وب )افارہ
اس طر کی فو ہکا اث ونطیہ یہ ےک الد تھا لی ال يکوگناہ سے پا کچھ کٹ مین اوران ےگا و کر بپکارڈونخ مھ یمر د نے ہیں۔
ایک حدبیث بیس ہ ےک سول اللہ مال 22
لإذَا تَابَ الْعبَةُ مِنْ دَنَوَیٍ کے 0 6ق ےق جَوَارِحَهُ و مَعَالِمَةُ مِنَ الأرْضٍ تی بلق الله يومَ الیَامَة وَلیْس عَليِ شا من اللہ بنبو “(جب بندہ اپ ےمناہوں سےتذ کر لیا ےو ال تھا ی اس ک ےکی وانےفرشتوں سےا سکاگناہ چھلاد نے ہیں اوراس کے اخضاء سے اور موب ہش ےس سے اس عال ٹیل طلائقا تکرتا ےکی اس کے خلاف ال دکی جاخب ےو گنا ہکا موا :یں ہوتا) (الت پت لا بن ع کر :۳۵ء الا اص۵۱۳۴)
علامرالمناوگی ا عد بی ٹکی شرب می للکھت ہی ںکہا لک وج یہ ےکنو ایم دنن وا لے ودای دنالی میں اور وو نکر نے وا لو ںکوفہوب رکتے ہیں ء اود ا کی جائب ا نگمنادگاروں نے رج کیا اود اس کے قرب سے اپ گنا ہو ںک یکن دک یکو صا فکیا نو جب ان لوکوں نے ال ری پوند یدیز سے ا کا قرب پایا اذ الڈرکوان پیر تآ لی ےک کوک دوسراان کےکیب وگناہ شع ہمہ ادوابٹی چادر سے ا نک ڈھانپ لیے ہیں ۔( فی القد ٣: ر٭+م)
(ق رک ووی ۰ لو کا ایل واقعہ
ایک جیب واقدامام این ف رون اوراما مخ زالی ویر نے ذک کیا ےک بی اائل مین ایک ٹو جوا فص شی سا یکک عبادت میس لگا رباء تچ رشیطالن نے محتاصی اس کے مل می نکمردۓ اوردوٹڑیں سا لیم کگمنا ہوں میس ڑا باء پچ ایک دنع اس نے اپناچر ہآ ئکینہٹیں دریکھا نے ڈ انی میس ایک پال سفیدلظ رآباء ہا سکو برالگا اورا مت کیک اہی ایس نے ٹیں سا يک ک؟ پگ اطا ع کی اورشیں سال اف ای کی ءاگم ٹیش ا بآ پک جاخب لو آ کول ت کیا آپ ججھےقبو لک۷ر میں گے؟ ان ںنکوغیب سے آواز آکی کہ :”ابا أحنَاكَء وَنتَرَکتَا فَأمْهَلمَاكَء فان رت إِلياقِلَاك “(نو نے جم سے عحب تکی فذ جھم نےببھی مھ سے محب تک اور جب نے میں وڈ دبا ہم نے تھے مبلت دی اوراگ رت دوبارہ ارک جاب رخ کر ےگ نو پ بھی دوبارہ ےق لک لیس گے )(ا میا ءالعلوم :م ر۵اءال را :۳۴)
۹ وضو ںکیشٹیں اوت فوع نی بی و بی فو کیا ے؟ علاء نے فرمای کرت بہ بی تین شرہیسں ہیں: (۱) ایک بک گناہ سے فی الفور با زآجاۓ ء پیک سک یگناہجھی جاریاے اور نذ بھی جاریءا ںکوشرع ان یی ں کت ۔ بللہ ایک عدیث مُل رسول ال مََوئِیيۂ سے حر تعپ راد بی عپاس نے دداییت ےک ہآپ تق ایِک نے فرمااکہ: جوگناہ سے نو رتا
ووڑو“ ےہ ووچ ہے وہ الما ے جیسے اس ن گناہ بی نہکیا ہواورج گناب رق رتجے ہو ئۓے استنغفا رکرتا ےوہ الما سے جیے ال کا مرا اڑ اے والا۔
(الیان ص ۶۱۳۳۸۵۸۴۰ ,:۱۵۹) (۴) دوسری پک دل میں گا پر انی دندامت ہوک ے برالی ہے کیو ںکی ؟ ایک عدیث میس ہےکہرسول ال عأقا کم نے فر ایا کہ الندم الوب “(ندامت بیو ہرے) (این ماج :۲۲۵۲ مٹرامر: :9ء جع ان حان ۳ی[٣٢) معلوم ہو اک اصس لو بای دامتکانام ہےءاکرانمان کے ول می گنا ہپ رات دلپشمانی پیدا ہو جاے او جھ کین .ہہ وگئی ۔ادراگرول می ںکوگی خداممت ہی نی ے صرفز بان سے استغفارکرر ماےلذوجیقی دو انی نو نیس ہوئی۔ )۳٣( تیس ری شراب ےلردوبادہگناہکی طرف نہ چان ےکا عمزم ہویلبذ اللہ س ےکہدرد پا نکر ےک ہب رہ تھا اکا می کرو ںکا اور پور یی ضر یگ ررہو ںگا_ الخ جب ایظر نے بک نےاورانس پرجم جائ نے کو سکرتارے 7 کوئ یگنا درز دنہ ہونے ا ۓے۔ این بر خداکی عنایات جب ال کی جناب می ںکول گناہ گار بندہ تو ہکرتا سے اور ال کا ول ال سمل ہبی سیا ہوتا اذ اتھال کی اس پر بے پناہعنایات ہو می ہیں اورا تھی اس نار ےکوا نے مقر بین میں رک لیتاے۔ ٭ حخرت بشرعا یکا کاواتعہ خی اش ای ایآ ہے الد ےر می 1آ لع ما رن مین
(قؤق بے ووی ان کاشمارہوتا ےء اید نے بے پنادمقبو لیت ےل ازاتھاء جب ال نکااخقحال ہوانذ چم کے وقت جناز واٹھا گیا اور وگو ںک یکثز تک وج ےقبرستا نکوماییت یج نر کا وت وگیاء یتیب وروں برورمنفظر کیرک اما م۷لی بن الد بٹی اورالونصر التار ویرہ اعد یٹ نے ٹ یجنک رکم اکر یرت کے شرف سے پلطے دنا کاشرف ے۔اور کہاگ ران کےکصرکے جنا تھی ا نکی دفات پررور سے تے_ (ال درا والنماہ :۲۹۸۱۰ ءالوائی ٹی الوفیات:۳۸٣)
ا ن گنو کا جیب واق دک یما ےک دہ پیےاہو واب یں بنا رتے سس شراب وکیا بک ینس چق یی ٠ایک بار اپنے دوست احباب کے ات اپنے بی مھ میں شراب وکیاب اورگانے ہجانے می مست ےک کا نے دروازے پر دستک دک ء یش رعانی کا ایک باندی ددوازے پرد بجی ےکوگئی نے وا نےفحس نے اس سپ امہ
”صاحبٔ ہذو الذَارِ مْرّاوْعَبِد؟ ( اگ انال کآزادے پاظلام؟)
الدکی ن کہا کم ریڑئیآزاد سے( کیون ہگ رکا ما لک و آزاددی ہوساما ہے کوفی لا مکہاں ہوسکتا سے )
ان ن کہاکمہ ہا ل تم نے پ کہا ءاگمر دو لام ہوتاعبودیت وغلائی کے آدا بکالیا ظا یکرتاءاورابواح کچھ وڑ و یا ۱
بیلہکر وونٹ چلاگیااودبشرعاٹی جووہاں نشریل مست پڑے ےا افش کی اور پا ند یکی بیشن ر ہے تے۔ دہ جللدکی سے درواز ےکا جا بآ جگروہ تس جا کاتھا۔
وو رن وؤوی با ندکی سے و چھاکمرد ہآ دٹ یکس طر فکوکیا؟ با ندکی نے بتا کہا طرف٠
نو ا ںکی حلاش میس لے اور ایک تہ ال کو پالیاء اود و چھاک کیا آپ بی نے دروازے پر ہا ندگی سے اسیطر ک یکن وکیئھی؟
اس ن کہ اکمہ ہا پش رعاٹی ن کہ اکک ایک با بلاق بات د ہر ائے۔ جب اث کہ اکہ ہگ رو الا اگر ال رکالم ہوتا نذ لاٹ یکااندازاختیا رکرتااوراہوواحب شی شراب وک باب می زندکی شکمتا۔
یک نکر بشرعاٹی تڑپنے گے اور اپ ےککا لی ز من پررکعد ۓے اور کے گ ےک یں ء می ںآ زاوئیسء بل لام ہوں غلام ہوں م ]شی اکا لام ۔اوراسی دن سے تام رکا ر یں اورگنا ہوں ےو کک او رکہاکہاید سےع+بدو پان کے وقت (مھن یو ہہ کے وفت )مہ چیروں میس جو تے بالیس تےء اس لئ ا بگ رگ رای حالی سے رہوںگاءاوراسی لے ا نکانام عاٹی ہڑگیا۔ (التواب٘ن:۱۱٢) ایک یی اسرا نیک یک 9ہ
ضرحاب ارت ا ا٣فال ےد ایک فاحشقورت کے پا گیا ارز کیا اون لکر نے ایک ٹہ رس اق امو شہر سے آواز اٹ یکراےفلاں کیا تھے شرم کی کی ءکیانذ نے اس سے بے ا گناہ سے قو یی ںکر کی تھا ٢ ْ۹" پصس0-9"+7 0 وف زدہہوااورشہرسے کت ہوابا نگ لکیاکہگ مکنا وی کرو لگا مرو ہاں سے د ایک پھاڑپ گیا جہاں بار ہآ دٹی انش دی عبادت یس شخول تہ بیکھی ان میں شائل ہی ۔اس درمیان وہاں تا گی نو دو لوگ نا کی جلاش یں پہاڑ ے از ےاور ای نہ رپ ےگزرنا چا جے ءال سح ن ےگہاک ٹیش وبا چو س1 سا ان عبادت
وق رے ووی گزاروں نے و جاک کیوں؟ سن ےل کردا لکوکی ے جومیر ےگناہ مع ہو جاتا ہے ہقرااس کےسا نے جانے سے تھے شر مآلی ے۔ ولیک ا سکویچموزک رآ کے بڑھ یئ او رض ری جو ندال کرد تہ راساتھی کہاں ہے؟ ان لوگوں نے بتای اکردہ ہا لآنے سے شرماتا سے کیوککہ ہا ںکوکی ہے جواس کےگناہ مع ہو جاجا ہے ۔آ وا زآک یک سان ا اجب تم یل ےکھی کوکئی ابی اولاد سے پا رشن دار ے ناراش ہو چاتا ۓ اور وہای ٦ .2و2 کر لیت ےو تم ما فکرد نے ہو ای ط رح یتہر ا اھ یپچھ یگنا ہکا تب پہوابگر اس نے نو کر پافو میس نے بھی ا سکومعا فک دیا اور یش ال کو چا با ہوں لہذ ائم 00-9-0 (التو ا بین لا من 3ر ام:۹۱) اپ ! ایی اکریم آ ا ج جمارے سا اس قد ررقم وکر مکرتا ے او رہم ا کو کوک شیطان سے د وت یکر لیت ہیں ن ب بھی دو ٛیی ں کی بھول او ربچل .یس محاف ھیکرد بنا ےء اس سک نا خر مالی وگنا ہک کیا شرافت انسالی کےغلا فک یں ے؟
*٭ تحخرت زی کے مانے کے ای کفکنا کا کین برومناجات
تظرت می علی !سام کےز مانے می ای کگمنا وگارٹنس تھاجس سے لوگوں نے پزرار ہکم ال سکواپنے شہرسے کال دیا۔دہ ایک وم رانے ٹم رن لگا تھا اور جب ال سکی مو تکاوقت ہوااور وہ انا لک گیا نے حضر می علیاسلام پر گآ کہ ہمارے ایک وٹ یک فلا مہ وفات ہوگئی ےہ پ ا سکونسل وکشن در ماز جنازہ یھی ءاورلوگو ںکو تاد ی یکر ےنال ما دہ ون دہ او اگراان کے جناے یں اش کیک جو ں تو می ا نکی بھی مخفرتکردو ںگا۔
وق ںےہ ووی حطخرت موی علبی!لنلام نے بی اسرامیل بی اعلا عمکردیاءاو رکش رتحراد مس لوک جع ہو گئے ؛اور جب لوکوں نے ا کی لاٹ کو یکھا ذ ا کو پا نلیا او رکہا سک حرت ا یت2 باگناوگارنٹش تھا اور ہم نے ت کک را سکوگا وں سے کال دیا تھا حطرت موی علینالنلام کیلب ہہوااورای سے سوا لک اکا الی دا کیامابا سے؟ تو ای دکی ویک یکہاے موی !مہ بات ذ کل ےکم گنا ہکا رتھامگر جب ا کی مو تکا وق تآ ا تو اس نے اپنے دانمیں با میں دبیکھان ھکوئی رشددار بادوس تا رٹیل آباءاورخ وکوتاءواکیائسو ںکمیااو رآ سما نکی جاجب نظ را ٹھایا او ر نے لکاکہ : ”یا إلھي! عبڈٌ من عبادِكٔ ء غَریبّ فی بلادِك کت ۳۶ص ٗ0 >َْسْ من مُلكك لَما مَالَْ المعُهرَةً ولیسَ لي مَلجَاً ولا رحاه إِّا أنت و قد سمعث فِمَا أرلتَ أنَككَ قَلْتَ: إني نا العقُورالْرّحِیمُ ملا تيب رََائُ“ (الۓےہرے بروردگار! دو ات وو دو ہے ایک بندہ اور تی بی تبوں ے پڑکالا ہواخحر جیب الین ہہوں ء اگمر یں یہ جا تاکہ مھ عذاب دنینے ےآ پکیعکومت میں کی زار ہوئی ہے یا بے معا فک دتۓے ےآ پک عکومت می ںکی ہوٹی ہے می سآپ سےمخفرتکاسوال شکرتا مرک بناداورامی رکا رکز سوائ ۓآ پکی ذات ک ےکوی یں ء نے ا ےکپ ے ای اش ین ب اڈ کیا ےل چیفنورال چیم جہوں یس می ری امیریس می ناکام نف
وو رن وؤزوڈ ال تھالی نے فرما کے موی !کیا میرے لئ ماک بارش یک شی ال خر یب ال نکوروکردبتا؟ دہ مرے سے وسیلہ یر پاے اورمی رے ساس ےکمگھڑار ا جا (این:۸۲) ٭ ایک نو جوا نکی اش کےتضورمناجات می بن ال وی نے منصور بین نار ےا لکیا ہے ە دہ کک ہی ںکہ یٹس ایک با تک ہو جانے کے خیال سے باہ للا ء اود ھی رات باق یھی لی ٹیس یک گچھوئے سے دروازے کے پاس بی ھگیاءکیاد یکسا ہو ںکہایک و جوان روتے ہو تے الد کےتخمورا سط رح مناجا تکرد با ےکہ: ” وَعِرّنِكَ و حَلَيِكَ مَا أَرَدتُ بِمَعَصِييكَ
ہے سے
"ہی ہہ یخس
سح کن سَوَلَتٌ لی نفسٍي و عَلبتتي
7
تس
شِقُوتي وَعَرَنِي سِتَرُّك الْمُرّی عَلَي ء فَالاد مِنْ عَذَابِكَ مَنْ يَستَقدنِي ٢ و ِحَبْلِ مَنْأَنَصلُ اِن انت ہےںت۔ ٢ وَاسَوْأتهُ عَلی مَا مَطی مِنُ یا فی مَعَصِيَةِ رَبيٰ ء یَاوَیلي كُمُ أنوْبُ وَكَمْ ود ؟ قد حَانَ لی ا أَسُتحْيي مِنْ ربي عَرّوَجَلَ “ ( ترک عزت وجلاا کیم ای نے تیر نافر ای سے تی التف راک نکی لکن ھی ےن ےکن کن ار میرک بش جھ پر غال بآگی اور پک متنارکی کے نے نے بے دم کہ میں ڈال دبا تھا ء یل ا بکو نپ کے ع اب
وق رن ووی
سے بی ہیا سکم سے اور می ںگ سکی ر یکو پک ڑسکتا نہوں ہاگ
ےا کی ری مج سےکاٹ لی ؟ واۓ افسویں
ان ایام پر چوگناہوں می لگ ر گے !ہا می ری خر لی ہشیش
کنٹی بات پرکرتااونٹی بارق ےک رکنا ہی عطر فگووکرتا رہوگا
؟اب وق ت گیا ےک ہش می رے رب سے میا کروں )
حضرت منصوررککتے ہی ںکہاا لک بی مناجا تک نکیل نے رآ یت مڑ ہد دگی: ظ بََبُھا ا 00ت اْفْمکم َامليکُمَ نار وُقوَدمَا الام لمکا 5 لیا ٹاک غِلاظ ٣ مس" الله مَا امَرمُم َيَفعَلوٴنَ مَا يَوَمَرُون پ4 سو رو ری ]٦:
(اےایمان والو! انآ پکواوراپنے ائل وعیا لکودوز خی ان ںآگ سے بھا جس کا اینرین انان اور چھ ہیں ء شس برخت او تن رخوفرش مقر ہیںء سی بات مس الک مخالشت نمی ںکرتے ج سکا ال نے ا نوم دیا سے اود وئی کرت ہیں جن سکاا نکونم د مایا سے )
حطخرت منصورککتے ہی سک جب میں نے بآ یت ب یناو تھے ای کآواز اور سخ تاقط راب سنالی دیاء یش پچل رای ےکام سے چچلاگیاء جب وا لی ںآ با ود باہو ںکہ اس نو جوا ن کا جناز و رکھا ہواے۔ میں نے او چچھا تو معلوم ہواکہ ا سآیت کے سے ۶ ہ0
(ال رای والنہای:+ا/8اء ہن لصف :۲۸۳ ۱۸ءاجیاءاعلوم :۳۷۸۳م ءالتبصر لان الو زی:۱۷) *٭ شاعرابوف ا کین و مناجات عرب کٹ ہورشا عرا بوڈ اس کے پارے می سکلھا ےکا کی دفات کے
وو“ رے ووی بعدر ا سںکوخواب میں دی ھاگیا اود یو چھامگیاکہ الد نےتھہہارے سا ت کیا معام گیا ؟ اکس ن ےکہاکہ اڈ نے مب رکی مفضرت ان انڈعا ری وجہ سکردگیا ج میں نے پیاریی کےٹوں ٹیل مرنے سے پسلے سیے تےاورد+میہرے سے کے جار کے میں ۔ جب اس کے لئے کے ےد ریھاگیانذ ای ککاغذ بر باشعا ریس ہو ۓ لے :
يَ رب ان عَظْمَتُ ذُنوْبي کر
37 در من الَّذِي یَرُجُو الَمَييء المُجْرمْ أدْعَوْك ربی کَمَاَمَرّتٌ تَضَرَّمًا اذا رَدَذُتٌ يَدَيٍ فَمَنْ دا يَرَّعمٌ مَالِي اليْكَ وَسِيْلَةُ ال الرَّعَا وَحَمِيْلعَفْوِكثعٌاَنَي تسم ا اے میرے پروددگار!اگرمیر ےگمناہ زیادہ میں نذ یس بین جانتاہوں کت ری معائی ومخقرت اس سےزیادہ ڑی ے- ۴۔اگ نین یکر نے والا بی تج ریرحت 08ھ ےو وہکون ے شس گنا وکا رججرم بندد امیر رھے؟ ٣۳ - میں چچھھے سی طر عگ ڑاگ ڑ اکر ما لکنا ہوں لی اکب ن عم دیاڑےء ہیں ری یر ےپ نو ںکوروکرد ےل پچ رکون جج پر کر ےگا؟ ۴- تبرکیارحمت سے امیداو رت یی معائی رم رےمسلران ہو نے کے سوا 0 0 ا ا ا ہے ہہ
٥و رب ووچ *٭ ایک نو سرب مناجات
علامہائنالجوزینے اٹ کاب بکراللدموئ می شس یکی یہنظوم مزاجات 2 ہے جو بہت کی ولنداز ورشتٹی پا ار دای ے۶ لی دا ل رات تصصوص] الکو یڑ ول اکر یں نے بڑافا دہ ہوگا:
0 َاجیايَا ذَا لَْعَلال وَعَيبُ الذُنِْ لم يَعطرببَلِئ
إلی مَوْلَاهُيَامَوَلَی الْمَوَالِي وَلَاأَصِیْكَ فِي شُلم اللَالي فا امام فان ببَابك وَاقِثٹ بَا ذَا لُکلال کے کات تی مُحََبِلْعَذب ویالنگال إِنْ تَعَمُوْ فَعَفُوَك أرَتَحی وََحَسُنإِن عَفَوْتَ فیْخْ عَاليٴ ١ اے ڈوا لال !یٹس تتیرے ور ہار میس امیر لج آیا نہوں ۔لیڈ ا مرایرا حال درس تن ادے۔
و(ونق ے ووی
٢-اورمی رےآ قایس نے افسو ںکہاپنی جہاات ےآ پک نافرماٹ یک اورگکناہکی برای کوٹ یکھڑکا بھی میہرے ول بی پیرانیل ہوا۔
۳۔اےس بآ ما وں کےآ مقاا خلا مآخ را ےآ کےسواکس سےاپنا کو کر ےگا
۴ یں ہاۓ می ری خرالپی ا کان شلکمبری ماں می دجلقی اور نس را تکی تار بگیوں میں تبری نافر ما یکھتا۔
۵ اوراے جلال دانے بادشاہ! اب بی تیراادٹی فلام ہایہت را نرہ تیرےدروازے برک ڑا ے_
- بی ں اگ رآپ جھے سزاد میں نو یل عذاب وسزاکا فک ہوں_
ے-اور اگ رپ متا فکرد میں تے میں ا یک امیر رتا ہوں اور مبرابراحا لآ پ کے ما فک نے سے ےیک ہہ جا تن گا-
وب رتے والوں پرال یی عنایات الخرش جب بندہ ہے دل سے 2 ہکرتتا سے تو اتا ی ا ںان ہہ تقو لکرتے ہیں اوراس کے سا تح ایک بلند مق مچبھی ا سکودیا جا ما سے ء ایبامتظام جواالد کے فرشمت ںکوڑھی تصیی ب میں ہوتا- ححضرت موا نا جا تر صاحب پ تا بگ۰ڑعھی نے بہت خوب فرمایا 29 بھی طاعت لکاسرور سے بھی اعتز اض تصورے سے مل ک لوج سکیکیی س تر و تضورمرا تضورے
درعىستی ووزؤو ے٠ وفع دےیسیں معلوم ہو اک ,اس نام صحضوری سےفر حتے بھی ےن رہودتے ہیں جج دل سے کر نے واالو ںکوتحییب ہہوتا ےء پچ رین اوقات دتیا بی میس ان لوگو ںکولوٹ یک رام ت پیل جا ی ے_ رت ایک عرادہش لو با رکا قصہ
علامرائن الجوزیٰ نے لکیا ےک ایک ہذارگ تن ےکہاکہ یل نے ایک لوہارکود یک ارد اپنے اھ سےآگ کے اندر سےلوہا لگا لا سے اور ات کی انگیوں ھی سے اس ںکوالٹ پاٹ کرد ہا ہے میس نے ول دل می لکہاکمہ بوگی الڈددالا ےء چم ٹیس اس کےریب ہوا او رسلا مکییاء ا نے جواب دیاء یٹس ن ےگہ اکم اےسردار ! آ پکوج برک رام ت کیا ہے ۱اس کے ھوانے ےآ پ میرے لئ دعاکردبیی۔
اسان کہ اکہ چھائی اش انیس ہوں لیم آ پور ہے ہیں مان یں انا قص ہآ پکوسناتا ہول ٤ دہ ہشیش بہ تگنا ہکیاکرتا تھاء ایک بارایک مھا نکورت سےسالقنہ پڑاءاس نے جگھھ سےکہاکہالڈر کے لے بک ہو دبیردء دوکورت میرے دل بیس سماگئی یس ن کہ امیر ےگح یرب ء کے انتقادبیدو ںگا جکاٹی ہوجائے ء تا کیرک یی کی دن زدت ہے اک او رک کیک ہے وقت نے مو رکیا ہے اس لے ٹم دودبار چھہارے پا ںآئی ہوں۔
ون سک تا ےکی ا کوک رگ رآ اود ا سکویٹھا اراس کےقریب ہواء وو ار نپ گی جیےتیزہواک کیٹ وں میں شی حکتکرقی ہے ہی نےکہا ککیوں تی ہے؟ اس ن کہا کیل کےخوف ےک یں وو گی اس حالل میں نہ دہ لے لزا اگ وک مود اڈ مکو ردنا شک سے جلا تےگااور تآ خرت میس جلا ۓگا۔
وق ں ووی
کے ہی ںکہ میس نے ا سکوکھوڑ دیاء دہ بن گئی ء اود ججھ پر بے گی طا ری ہوئیء یں نے خواب می دمیکھاک ایگ ہا بی ت من کورت سےء یس نے گوس اک کون ہے؟ اس تن کہ اک بیس الس لک یکی ماں بہوں ء تھے معلوم ہ کہ می رکیالڑکی رسول اللہ یتلم کے نما ندان سے ےء ان مکوجتز اعد ےء اوخ مکوندد تا ش۲ لاگ سے جلاۓ اور ہآ خرت یل جلاۓ وہ کے ہی نکاس کے بعد بیس نے بک رلیاادراادکی جناب یل رجو ہوگیا_ (الرع الف )۱١:٤ رت ایک ثصا بکاواتے
امام اوبمر ب نعبدرایندالھز فی سکتے ہی ںک ہیک قصاب نے ایک باندی سے محاش کیا دو ایگ باراپنےآ ا کےگھروالوں کےکام ےیل ارہ یھی کہ ال نے انس کا پچ ایا ءاور ا سکوپپھسلا ن ےک یکوشت کی ہراس باندکی ت کہا بد ےکوی برا کام نکروبقم ججھھ سےگلئی محب کر تے وہ ٹیل تم سے اس سے اد و عحب تک کی ہوں ہر یھ ال رکا خوف سے بلب ای سکوکی بر اکا می سکرو ںگی۔
قصاب ن کہ اک اگ رو الد ے ڈر ی او می لکیوں تہ الڈدرے ڈروں - ارایش نے کرتا ہہوں ۔ پچ روہال سے وولوٹ دہ تھا کہ اس کوک رٹ یکی شرت سے شمد بر پیا معلوم ہوک ء ہا لت کک بلاکت کے قریب بوگیا۔ یں اس نے دکیھا کہ بی اسراٛل کے پر کےایک تقاصدوہاں س ےگ رر سے ہیں ہ انہوں نے اس سے عال پڑ تھا اس نے پیا کا عال با باء ایھوں ن ےکہا کہ جیلو ہم الڈر سے دعا کر تے ہی ںکالڈو ہیی ایک باد لکا نٹ اسا رع طاکردے۔
اس قصاب ن کہ اکم راکوکی ایا لی ںکمیری دع قول ہہوءآپ ہی دعا یئ ۔ اس قاصد ن کہ اککہاپچھائٹ دعاکرتا ہوں اورم آی نکہو۔ چنا نہیں
(وقٛھ رہ وؤوی 0 ,0 ول رس 30 عطائکردیا۔ بیہاںم کک دو دوٹوں اس سامہ میس چ لکراپنن بیو گئے اور جب دو قصاب اٹ ۓگ مٗ کی جائب مانے لگا تو دوسا بای کےساتہوکیاء دوک را قاصد رفاک ات کت کی ناویا ہا ں تو معلوم مور با ےکہ مرسما رہن تہارک بی وج سے ملا ے ۔لہذ اھےتہارا قضہنا 1ک لیاے؟ تب اس نے اپنی فو برک قصہسنایا نے اس مقاصد ن کہ اک جوف ہک رتا سے وہ الد کے نز دریک ای مقام پچ جا تا سے جہا ںکوٹی دوس انیس بتا۔ (اح ء(لعلوم:٣١٠۱)
اس کے بحدم پیہالش رآن وحد یت اور بز رگن سلف کےاقوال واحوال و افکا کیم بی خ٠ کات از کن اونگ کش ںکون نا کی مات جاتئے ۔امیید ہ ےکرالن سےگنا ہکی عاد تکھوڑ نے یل بدد لن گی ۔
*٭ الڑےشرم وحیاء
کی بات رذ جن ٹیل ون جات ےک ہج رح آدٹی انسافوں سے جاءد شر مکرتا ہے ا کو چا نے دہ اڈ تھا لی ےھ یا ءکمرے بک کوٹ یآ دیی اپنے باپ یا ان ما 2م دغشٹ کے سان گنا :کے فیا وکا نین کک اع انت ماخ ھی سے۔اوراگمرانسا کول تھاپی ےجا ءآ جا ۓ وو وضرورگنا نہوں سے ہج ےگا
وت (ت وون حیاءکی فضیلت ای لئے حدیث میں ےک الحَیاء شُعبَةٌ مِنَ الامَانو“( حیاءایما نکا ایک بڑاشعبرے) اورایک عد یث مل ےگہ:”مَا کان الْحَيَاءُ فی شَی و إلا زَانَه“ بھی ٹس حاءہوقذد دا لکوز ہفت د تی ے) (ت زی :۷ ے۹اءالا دب الفرر:۲۰)
میا کی تقیقت ایک اورعد بیث می ںتحخر تعپ الدب نمس ود ظللہ ےمم روکی ےک رسول اللہ عَآیٰ اذیا بک نےفرمایاکہ: [ھھ تال عق الشیاع ۶( الشضرۓ اس طط رب میا مر دی اس سےحیا مل رن کاتضنی سے ) ا ےن٠ نکیا اکرائمدیل پ تو ایل سے جامکر تے ہیں ءآپ نے فر ۱
ےہ
ا کت نتر اك نت ان تحفظ اراس وَمَاوَغی وَالبْطِنَ وَمَاخوٰی وَلتذگُر لُمَوتَ وَالبلی وَمَن راد الأجِرة رك زِیَنَة الدُنیا فمَنْ فَعَل ذِلِكَ فَقَدِ اسُتحیٰی مِنَ ع الله می و بللہاللد سے حیاءکر ےکا ریہ ےک نے صرادرسریل جو زی (آگھھ کان ؛ ناک ءز بان )ہیں ال نعکوتغو اکمرے اور پیٹ اور اس کے اط را فک چم (شر اہ یرہ باتھ کو تنوفار جے اور
(و”ق رےٰ وؤوی آخرت اور( قب میں عم واعضا ءکی ) پوسید یکو با دکرےء اور جھ مخشآ خر تکو جا بتاے دود نیا کی ز ون تکو تر ککردیا سے یں جس نے بیکام یئ اس نے اکا میا اد اکا ) (تریری:۲۸۵۸ہسندا صا ے۹ ربز ر:۳۹۱۷۵بمتررک۳۵۹۸۳) بے حا یکا نتصان ١ حضرت ان ے رواہت سے لی نون ال مَلنئَلِۂ/ نے را کن ان لوگو ںکو جانا ہوں جوقیامت کے دن تہامہ پپاڑ کے برا کیکتے ہو ے اععمال یر میں گے پس اتی ان کے ان اعا لکویختش دعو لکی طرح بے یقت بناد یی گے۔ خرت ٹوبان نے عت سکیا کہ یا رعول اش قأٰا اتلم !ان لوگو ں کا بٹدھال بناپئت اک ہپھ ھی ان مس سے نو جا نفیں جیپ ا نویس جات ۔ آپ عالذق اتک نے فرما امہ دو لوک تہارے بھائی ہیں جہاری نے مین ادا ٹک نت شال رصانع ہکان پیلک جب الش کی7 امکردہ چچززوں کے سا تجح تھا کی یس ہو تے می تو ا نک یا مال 002.۶ زاین ماج :۴۲۴۵ ءشھماوسیا:٣٢٣١٠) شیع تر نی نے روابیت کیا سے ےک حرت بر بی نحیعم اپ والد ے اوروہ اپنے داداے روابی تکرتے ہی ںکہ میس نے پی پچ امہ بارسول الا جھا ریش رمگاہوں سکیا بحمکر سے ہیں او رکیا می ںکھوڑد بنا ے؟ حخرت رسول اش حَاوقایی کک نے رما اکنہ :انی وگ اور با ندی کے علادہ سے انی شرمگا و وتفوظ رکھنا۔ دہ کے ہی ںکہ یں نے سوا لک اہ :او رکچ ھا
وق رہ ووی ہوں؟رسول اللہ حاذ فا تلم نے فرما یہن چلراللد زیاد ہشن ےک اس ےط ا اتب (امتیا کہ 7رمكٰ:۲۸) الفرٹش اس حدیث ےتصصود یہ بتانا ےک الف سے حیاء بی ےک انان گنادو بےحبائ یکی بانذ ںکوسچموڑ دےءاوراپنے قمام اخضا وکنا ہوں سے اور بے یئ کی بافوں سے بچاۓ۔ میا کی د ہیں امام بن نصرالھروزیی اٹ یکتاب' تعظیم قدر الصلاۃ بی فرماتے یسک :حیاء دو مکی ہے: ایک اللد سےجیاءاوردوسر ے بنارولی سےحیاءء اور بن رے کے لئ زیادہ قا ٹل لیاظط الد سے حیاء سے ۔ او رگم الد تی نخلوقی سے میا رک ویک پب رم حلقی دق ارد تے تو جیا کا ایر کے سواکوکیمشن ضہرہوتا ءکیوک نٹ ونقتا نکا نان ےن گی ین سک ےن اک پک کے ےکی الک دوسرے سے جیا کم می اورایک دوسرے کے یو بکو چیا یں ۔ ) مت لص 2 ۳) اورفقیہ ابو اللیث حعرقنزی کے ون حا ءکی وڑمیں یآ ا تیرے اورلوگوں کے ما بین سے اور دوس کی حیاء جوتیرے اورایڈد کے درمانع ےج حیاءتیرےاورلوکوں کے درمان سے وریہ ےکن ان باٹوں سےآلکھ بنرکر نے چھ علا لی ء اور جو حیاء تی رے اور الشد کے درمانع سے د٥مہ ےکے ا سکی انت ںکو جانے اوراا کی ناف می سے شر مکمرے۔ ( نے لزاظلین )٣۳٣:
وھ ۰| وؤوڈ یاء یراک بر کےاٹوال (ا) ری خیبل بن موا شی ہی ںیم ددواز ہہ دک لمت اور پردہڈال لے اوراوکوں سے جیا کر تے نان ا لق رن سے جیائءوئی کر تے جوسیبنرمیں سے اور پیل سے جیا سکرتے مس پوکوئی ےنیس ۔ (رجے لوڈلین:٣۳٣) () حضرت امام ان الی اللد نیا کت ہی ںکیجنت تلماء سے و اگ اک : ”ما أنفع الاو (حب بے بز کرٹ لی جیا وکیا )تک اک مال سے اپنی پندگی چچززما گےےاورا سک نا فرمالی کےا مکرنے سے شر مکرنا۔ (الت لا من ا ی الد یا:۳١) (۳) فتہ ابواللیث ناف لکیا ےک ہنی ہذرک نے اپنے ٹٹے سےفر مایا کہ :اگ رتیرلش٣ سک یکنا مکی رہکی تھے دثوت د ےا پل انی گا ما نکی طرف ڈال اوراں ذات سے حیاءکرجھ وہاں ے اوداگرنٹس نہ مانے فو رز می نکی طرف لگا کر اوران لوگوں سے جیا مکرجوز ین میس ہیں ۔اگرفوتہآسمائن دانے سے ڈ رت ہواور نز ین والوں ےتشر مکرتا ہو اہی ےآ پکوجانوروں میں سے بھنا۔ ( ےل و لین :٣ے٢) (۴)اماماین عطاءاسکدری کے ہی سک سلف سےمنقول ےک :کر گنا ہکرنا ہولو اڑکی تہ جاک رکرن چہا لکوئی تھے شرد سیر ا ہوء یں جوخنس الد کے ۲ یھ سے حیاء نر ہاور اپنے مول کا سای ا ےکر ے لوا نک یر تک یآگھدائ ری ہویچگی ے۔ (ایقاظ اللھمم :ے۲۹)
٭ذ(وحھ بت وؤزوچ (۵)امام نی رعلامہ بضاوی کے 00.: الد سے حیاء د ہیں سے جوم کھت ہوء بل دہ ىہ س ےک انسان اپنے قمام اعضاءکو ال کی نا عرضیات سےتفوظط رج (بر یق گحودیتش رط قش یہ ہ:۱۵۳/۳) )١( رت سفیان بن عینہ کچ ہی ںک الحَیَاءُ حَي التقوٰی وَلا اف البَدُ تی یَسُتحبي وَعَل وَجلِ لَھُل التقوٰی إِلا مِنَ الْحَيَاء“(حاء وی ماتی ہےء اور فدہ اس وق تک شو نی سک رت : کو کا ا کے اورائ لق کی حیاء ا یکی وج سے وڈ رتے ہیں ) (بر قد 2-- 0+ ۷۳۴"( رتا بن الس اک اس سلملہ میں بباشعار بڑھ مر تے تھے : ا مُذيِنَ الُنٍْ أُمَا تَسْتَحَی تقو مك إِمهَالَهَ کک ٠ت (ا گنا ہوں پر اععرارکرنے وا نے !کی تو خلوت میں( ایند سے )نیل شرما تا ججسددددہال تر ادوس راےء جھوکوتیرے پر وردگار سے ا سکی ڈشیل نے مضرور کمردیاے اور کی سارک نے تیر ےگنانہو ںکو بے ھادیاے )
ہعارے نی حا نات ییحیاء
عارے ھی حخرت مجر مال ذ اتک کی حیاء بیاظی رحیاء سے لوگوں ےکھی اوراید گی ۔حعثرت ال وسحدخددیی ری لیدع کت ہی سک ہ :کان ا
رےسی ٭وو رن ٭ووة ۷ ) حَيَاء مِنَ العَذرايِ فی رما “(اللد کے بی ا اکرولڑکی سےزیادوحیادار تھ جواپنے بردے می گنی ہوئی ہو) ( ہاری :۳۵۷۹۲ سکم :٤ے ا٦ء من رام ۱١ے۱١) اور ال عدیث میں ےہ جب آپ مَِنکيْۂ بہت ا2ا 2ظاس 2غا کھتنا پکو دنہ ےنت (ایوداود:٣ مض ن تارق :۹۳ء ابن مر_:۵٣۳) رڈ آ پکاشع دجیاءانسافوں سے ہے اوراید ےت شر کا عال بی ےکہ ۔ آپ مَاوٴلزئیّيۂ/ بت الفلا جات اورضرورت کے لے اپ نےکپپٹرےاتارنا جا نے اس وفقت کت ک عم ےکپٹرے نداجارتے جب ت فک ز مین سےقریب نہ ہوجاتے۔ حضرت ای عمراورمضرت ال س کیچ ہی ںکہ: ۱ 7 الیبی “ عَالفقليتم کان إِدا َرَادَ حَاجَة لا یَرُقع تَوبَه تی يَدُلوَ مِنَ الأرْض“ (حطرت بی عَاؤلنقايت جب قضاۓ عاج ت کا ارادہکرتے تو اپۓ کپٹرےااس وشت کک شراجارتے ج بک ککہز بین تر ریب شرچوجاتے ) (ابوداود: اءتر نرگی: ا مم ن مل لٰ:۸۱٦۹) یہاں جس حیاءکا کر ےنہر ےبد ولوگوں سے حیا یں کیو ہآ پ و اس فھراوگوں ے وور می ں کول یہاں ےآپ پکو دہ بی میں سکم کر بی حیاء کیوں؟ یر دداصل اللہ سے حیاء ہے ۔اودایآ پک ال سے جیا مک ذکردرج ڈل عد یٹ می لگھی ے۔ حفرت ما ئیشصید تہ شی الع اکپٹی ہو کی 0*03“'ئ*ئ]+
إوؿػ ے1 ووی تح رضول الہ عَلا کیم وط (مس نے تھی ال کے رسول صأذقاِ .کم کی شرمکایں دیکھی) (ابین ماج:۹۹۴ء رام :۲۵۹۰۹ ہی٠ نتاہقی :ےك۸٥۹) بعد بیٹگگھ یآ پکاشرم دحیاءکی ایک نادرشال سے ء اور بجی الد سے شر کیا بات ہے ودنہ ظا ہر ےکہ وی ےکوی شر می ھی بگراس حال نی لبھ یپ ال سے جیا مکرتے ہو بھی اپ ہیوئی کے سا بھی میس ہوئے ۔
ضر ت1 و مکی حیاء حضرت ای بی نکعب اذہ گے ہیں کہ حطرت وم علین انام ے جب خطا موی ےآ پک شرمگاہ نا ہ رہوگئی ؛اورآپ ججنت س ےگ لک پھاگنے گے ء ال ایک ددشت تاس کے تے لیک ڈھایینے گے
اللدتھا لی نے فرما کہ :” فراراً نی بَا آدمم؟ ( کیا ھ سے فرار ہونا اج ہوءاےآ(م!)
ر0 0ئ جثت بد“( یں ءاے مہرے رب! بل ہآپ سے اور جوکامم یل ےلان ےش رم کرت ہوئۓ)
اورحضرت ان المنکد رفرماتے ہی ںکہرج بآ پکوجنت سےأُہارد مایا تو آپ برابرددتے ر ہے اورالڈدتھالی سے معاٹی ما گت رے۔
آپ رما ہی ںکہ”ٴ مَا رَفَعْتٌ طرّفی إلی السَمَاءِ حَیاءَ مِنَ الله
7 بی
تعَالٰی رھت ض یت “(یٹیں نے جوخطا گیا اا لکی دجرے الد سےحاء
(قق ےت ووی کرت ہو ےھ یآ سا نکی جاخب اپ یآ نویس اٹوائی | (نتظم 3 رالصل :۲ رم ۳۴-۸م۸۴) تطرت اوسفٹ علیی الام گیاحاء ضرت بسف علینالسام کو جب ز لا نے بہہکانے ویھسان ےکی کون کی نے اس وقت ز لیا نے وہا سکھرے یں ر کے ایک بت پہ پردہ ڈال دیاء حضرت اوسف علبیالنلام نے لو اکب ہکہوں ڈال دیا؟ نز لیا نے جواب دیاکہ ےا بت ےش مآ یا کہا حال میس دہج رھ ۔حقرت بیسف نے 0ھ بر بی زیاد ہشن ہو ںکہرالدے شر مکروں۔ تق القرشی :۱۹۹۹ء قش وکا ی:۳ر×) رت را ور علی الام کیاحاء حضرت اعد الد الد کی ححخرت سینا دائؤد عبیفالنلام کے پارے میں کے فی ںکہآپ نے ال سے جیاءکی وجہ سے مرتے دمح ک پگ یآ سا نکیا جانب مر ۳۷و0 (الت لا بنا پارک:۹۲۱)
رت ااوبکروالو موی ایاحاء
حخرت الوب رص لئ ری انان ہت مدکی ےک اپ نے ایت خطلب من ف ما اکہ:اےلوگو! اش سے حیاکروء بااشی رٹیل جب بیت الا جا تا ہہوں نے اپناسر الد سےھیا ءکی وج سے ڈ ہانپ لیا ہوں-
اور نحضرت الو موی اشعری مَوَلْسْمَنٴ ے روابہت ےکی نع تپ اندعیر ےکمرے می ںپچھ یٹس لکرتا ہو ں تو ج بک ککیٹڑے شیج نلوں اتی بپےکو ار
(وؤق ت ووی سےحیاءکی وج سے سیر ایی ںکرتا( ملح سید اک انی ہہوتا کش مرکا ونظرت ہآ ے۔ ) لمت ضر :۲۲))
ایک جیاءدارکاواتے
ای کت کک کو ناما ددرت نے ہیل نماز یڑ حر پاے ءلوگوں نے اس سے لاک و مسچد میں داشل ہوک رکیوں مازییں پڑہتا؟ نو اس ن ےکہاکمہ ھے ایند سے شر مکی ےکی یں ا کی محصیت 0+900 یس رات ہل۔ (رسالترى:۹۸)
پ٭ ار کے حا ضمرونا ظ رہہو نے ےکا لین
گناہ کےکچھوڑ نے کے لے دوس اسنہ یہ ےک ایر کے حاض رونا ظ رہن ا ٹن پیر اکہرے۔ جب بندہ ال دکوحاضرو نظ ر ےکا اور ا س کا ۴ نکر ےکا گناہ کرت ہو ال ںکوشر چھ یت ۓےگی اورخوف بھی ۰او را سکی وج سے لوت وی می ںگھ یگمناوسے بنا آ سان ہوجا گا
اتا لی ن ےق رآن میں اس یکیاعلیم کے لے فرمایاکہ:
طائع بَغلم بائ اللہ بری چا لم۱۳ (کیادوانمان جا نانی ںکہ اد ور اے)
ایک تک ا تا فرماتے ہیں:
یَعلْ عَابَةَ اللَغَیْن وَمَا تُحْفی الصُدُوْرکەڑالغافر: ٢(وہ الیل رانگھو ںکی خیاخ تکوجا ضا ے اور لکواھی جوینوں میں پ شید دے ) ایک اورسوقعہ پرارشاد ےکہ:
وقيىق ری ووی ظوَللہ عَِيْمٌ ٠ بذاتِ لصاو ری 1ل عمران:۵۳٣](اورالڈرسیدکی ا ںوی جات والا ے ) او رخ فآ بات می الد تھا لی کے بارے میں فر مایا گیا کہ دہ تمہارے 1 سر ہے اوراانع سے باخجر ہے میسمادریآیات بقارعی ہی ںک ایک مسلما نکوااس با تکا کان ہونا جات ےکہ اید تھی ہردفت اور ہرد میہرے ہرکا مکو
دع ے۔ رت مو نا عگیم انت صاحب دامت برک مکاشعرسے جو باو رکھنے کے قائل ے:
لٹ
ہکرت ہے نج پکرائل جہاں سے کوکی یکنا سے تھے آاں ہے مرا کہاں ے؟ ایک وائعم تر تک پدادم نا :نیڈ کا ایک بار بین کے باہ کیچ ےگ رہو رہاتھاءادرآپ کے شاگردواسححا ببھ یپ کے سا تجھھ تھے ء ایک مہ ہی ھک ران سب نےکھان کھا یا ءامی اشجاءیش ری نے وا بکرہاں نیکرواں ےرا ضرت این عمربت اون نے ا کو د موک رلطورا مان اس سے ف رما اک کیا ٹم ا نج بییں یں س ےی کباری یں ہے کت ہو؟ اس ن کہ اکیکجیس ؛کیوکہ یدنگ یاں میرک این یں ہیں ء پیل صرف ا نکواجحرت پر چا ہوں ء بیدوسر ےک جیا ہیں- صضرت ام نیک رر تن نے اس سے بطورامخا نک اک تی و جلیگر دواوراس سے ےکہدد :اک بھی لے نے برک یوک ھا لیا۔ بک نکر دہ ایک دم سے تچ اٹھا اور کے آگا:”فَايْنَ اللہ ؟ کال رکہاں
(و]ٴو رت وؤوی ے؟ مت یکا یٹس دکیور ہا ے؟ ضرت اہ نگم را کی ری بات گگھردرونے گے۔
(اسدا لا 1۵۳۳ء تار الاسلام :۳۹۵/۸ رجا رم ذش۳ ر۵٣۸٣) ری سذ عم رکا خداجاىتا ہے
ضر تگمررشی ادڈرعنہ نے اپنے دورخلا فت می لم لگاد کہ دوددھ شی ال ن مایا جاۓ ٦اس کے بت ایک رات مد بین میں کش تک تے ہو جار سے ےکلہ ایک کور تکوسناکرد دای بی س ےکہردای ےک ہودنے مجارنی سے کیا نو دودھ پا یکس ما ی ؟
لڑکی نے ما ںکو جواب دی اکہ مم کیسے دددھ بی پالی ملا نول خچبلہ امیر ا مذنژشن نے کردا ہے۔ مال ےگ لیک ہوک و ملاتے ہیں نو بھی ملادے مرک کیا بعد چےگا؟
لی ےکی ان نان رآ زع وا ما نگ ال وق نی عَن “(اگ میں جات نکیا ہوا) عم رکا خدانذ جاہتاے ۔لہزا ٹس پیکاممی سکرو گی یکجمرنے اس سے عکردیڑے )
جب حر تممربت نا نے می با تاپ انس لمڑ یک ینضل بج بک نے کے او رع اپنے بے اص کو بلک ری کے لئ بھی اک و کون لی سے؟ معلوم ہوا کو لا لک ایک لڑڑکی ہے ۔ پچ رحفرتعھرنے اس لک یکا نکاح اپنے بے عاعم سےکردیا۔اوراس لی سےحضرت اص مو ایک کی ام اسم پییرا ہو اوراس سے ححفر تم بن عبدرالزیز کے وال رمبد الیکا باج ہوا۔ اس ط رح بیلکی ضر تر لن الفطا بکی بہواورجر تع ری نعمبدال کی نال ہوٹی ہے۔
وه لی فوچ
( سیر عری نعبدالع بابش این ھب دالنکم ۲۳٣ شزرات ال زحب :۱۱۹۸۱) ایک درواز دای یکھلا ہوا ے
اک یی نے ئا فورت نے رای کا ناوت من گیا اور اس ےہ اکددروازے بنا رکمردے ١ اور پردہ ڈال دے۔ اس نے دروازے بن کر دئۓ اور پردے ڈاللد ۓ جب دہ ا ںعورت کےقر یب موا نے ال ن کہ کہ ایک درواز وا یکھلا ہوا سے ۔ اس نے لو چھاکہکونسا ؟ کہ اکددہ درواز ہ جو تیرے اور رب کےدرمیان ہے۔ بی سنا اکر دو خوف خدا سے ایک ٹن ارااورروح پردازکر 01 (ال زع النا )٣٣: س01
ابراڈیم افو ائس کے ہی ںکہ می قبروں کے پا بہت زیادہ جا ارتا ےک زنیرلواورائ سکواس میں داش لکرواور گے تصہ سے ائ کو ہا الو ہا ورمی تی ےکراے رب !کیا می شف رآ ن یں پڑت تھا ءکیائٹل ہما ہیں پڑت تھا کیائیش نے نی کیا تھا ؟ اس کے جواب می ایک کے وا چنا ےکہ ہاں !مان جب نے خلوت وتہاکی میس ہوتا گنا ہکرت ہہو ۓ ممبراخیال وم را قیکئی سکرتا تھا
(ا لم الفماے لا ین الجوزی:۸)
ایک ال روا ل ےکی شبحت بد الئویل نے اہن گن ساتھیوں س کہ اک نمححت کے ۔انہوں نے
وو رت وؤزوو کہ اکراے بھا کی اج ب تم یہ جات ہو ت گنا دکر کاڈ مکود یور اہو تم نے ہیی جرا تک مم نتم انی جہالت سے پیا نکرتے کرد وڑیں د کور اے۔
(الت رع الا لا بن الو زی:٣۳)
ہم
٭ ال رکا خوف ٥ہ
گنا ہوں سے ںی ےکا سب سے بڑ اسب خوف وخثیت ہے اور بے نوٹ یگزاہ کاسب سے بڑاذر لج ہوتا ے ملبذابندوکود شیا وآخرت میس الد تھا یکی پک ومواغز وکا خو فآ جاۓ .لوا کوگناہکچھوڑ نا آسمان ہوجاۓ ۔اوراگرانسالن ےےخوف ونڑر بتا رےاورائشد کے دشیاوخرت میل م از دے لا پرداہ ہو جا ذوہ ہزم کےگنا ہروں مس ما ہوسلااورر سکیا کے خوف وختی تک فضیلت
ای مل قرآن میں ف رما اگیاکہ: ہا وَامّا مَنْ خحاف مَقَامَ رَبْه وَنَهَی النفْس عَن الْهَوٰی فَاَِ الْحَنَة ھی المَاوٰی پ4(النازعات:۸٥-ا٢]
زکوے ارب لم نا ے ہو ےکا خو کھا با اورخوا کش یس ےر کگیا اس کا کا ناججنت ے )
ححفرت این عپاس اورکی کے ہی نک بآ ات الن لوگوں کے پارے میں نازل ہوکی ہیں جوناہ کے وقت ایر کے ساس ےکھرے ہو نے کےخوف سےگاہ سے ہاڈرے۔ (قرشی:۰۸۱۹۰٥)
ایک سوقعہپرارشادد بای ےط لع خحاف مقام 7 یہ (۷٦ رچورب کے سام ےکھڑرے ہہون کا خو فکھاے ال سکودوی نویس ہیں )
7 ٰ4 ٭ھ
ويق ری وؤوی ا ںآ ی تی میں حقرت ما رکجے ہی کم راد دوس ہے جومحصی تکا ارادہکرتا سے پچ ارک یادک کے ا کون ر کرد یا ےء اس کے لئ دوج تق کا وعدہ ے۔ ( ہنا ری :نف رسور و اشن ءا الس لدد یورگ :۱۵۸۸۳۴) اور عریث .ُل ےکلہ رسول ال مَلنئَلِۂ/ نے فرما اکسا تاگم کےلوگو ںکوقیامت کے دن الد اپنے ساہی می مہرد پگا جس دا نکی اور سا نہہوگا ءنچھر انا کم کےلوگوں بیس سے ایک ہدیا نکیاکہ:
7 س دَعَتَة 1 ذاتٌ متصب و جمال ءفُقال اَحاف الله “ کے کو 72ر/ اص سا۷ کرت نت ین ران ا کی ں لو ا ڈرے ڈرتاہوں)
( ابی ٦۷+: سکم :ے۳۴۲ مت نی :۴۳۷۹ ءنمائی :٭ ۵۳۸م دراھ:۹۷۷۳) 1 عریث ہیں حخرت الہ ہرٍہ ے روابہت ےک رسول الد ضبآی لِم نے ف رما اکمہ ال تھا لی نے فرا اکہ:” و عِوّنی لا اَحمَعٌ عَلی
عَبّدِيٍ خوقیْن و أمُتین ء إِذا خاقبی فی الدڈنیا امنتةهُ یَومَ القيَامَة وَإِدا انی
ن3
فی الڈُنیا أُحَفْتَةُ فی الآحرَ'“ .
(میبرکی عز تک یھ مکہ بی میرے بنرے پر دوخوف اور دو امن جع نی
کرو ںگاء الد ناش جو ے فو فکر ےگا یس فی مخت می ان سکوامسنع دو گا اور اگرددد ٹیس جو سے بے توف ہوگا فو میس ا سکواخرت می خوف ژدوکرو ںگا)
(چ ابن ضبان :۰۹/۳ شحب الا یمان :۳۲۳۳ء التخیب وال زحیب )٠۳۱۸۳:
ا نآیات داحاديیث ےخوف وخ تک فحضیل تکاصم ہواکہ ا سک وج
سے ایک و انسا نگزاہ سے اورخواہشرا تن سے پ جا ا سے او ربچ را کی جاخب
(ٛق رن وؤوی سےا کو ایک ہیں دویشفی خطا کی جائی ہیں خوف غداب ما کےاقوال
حخرت ابوع شی کے ہی ںک:”الحَوف یراج القَبِ یہ بصرمَا ند ماحیر وش“( خوف دو ل کات ا ہے جس سے انسان دی کے اندر کے شر درکود بے )
اورتضرت زوالونمصری سے ھا گ اہ ہترہ پرخو فکا راس رپ آ سان ہوتا ہے؟ فرما کہ :جب :ند ہخودگو بجر کے درج میں ججھے جھ ہریز سے پرہیز ان خوف سےکرتا ےک ہیں بہار طول ن یڑ نے-
اورصضرت ذوالنون مصرکی بی نے فرما کہ : لوک رات پرقائم و ہیں کے جب تک خوف ان ےل جن ہوگا اور جب خوف زائل ہو جا گراہ +وجاشیں گے_
اور حضرت ابر ڈیم ون شیباان سکتے ہی ںکہ :جب خوف دل میں عچلہ نلیا ے قذول کے ائدشہوات وخواہشات کے موا غکوجلا دیتا ے_
(الرمالہ: خر .:۵۹-٭٦)
ححخرتجسن ری ےکی نے پہ چھاک ہب مک اکم میں ؟ کیا ایی لوگو ںکی صحبت اختیارک یس جو یی خوف دلاتے ہی ںن کہ ہمارے دل بی سیینوں سے اٹ نے کت ہیں ؟ آپ نے فر ما اکہ: خدا یکم !اگ رقم نے الکو ںکی صحبت انت کی ء جو مکوخوف دلاتے یں بیہا ں٠ کک ہآ گے لکرت مکوام ن تعیب ہ گیا ان لوگوں کی حبت سے کر سے جو مکو بے خوف ور بناتے ہیں بیہا لک کک ہآ گے ت کو خطرات لائقن ہوجانشیں- (احاءمعلوم:٣۲٦۱)
(وق رن ووی ال 2ھ
جح حد یٹ می کفل نا می یک با اسرا ئک یآ دیکات ہآیا ےکحخرت نی کیم قآی فا کم نے فرمایاکہہخی اس رائیل میس ای کآ دی یکل نا مکاتھاءجھ ہر مکی برای یش طاق تھا ءایک دن الس کے پاش ای کعور تآ گی اوراس نے اس سے کہا اگرق مھ امت رو نے دیدوہلذ جس اہی ےآ پ ہار ےجو ان ےکردو ںگی اور ت مکوہجھ سے اپٹی خواائش پور یکر نے اط ہوگا۔ و وشن پیل ہی سے برا یکا مادی تھاء اے ریم وق نیم تلظ رآیا اورا نے اکور تکونم دب ۓکا وع رہکرلیا ءاوراں سے ات فقمانی خوائنش پور یکر نے کے لن ےکس یکھررے میں کے کات با تا وقتآ با نذودکورتکا یی کی اوراس برخوف ووہشت طاری ہیی -
اکس نے ال کورت سے لو اکن کیو خوف ز دو ہے او رکاپ ری ے؟ کک رین تی نی گی مک تن کی او ان تام دنا جائ کا مکواس ل ےکر ناپ ہا ےک میرے ہج ےگھممی ں کچھ کے پیا سے ہیں اورا نک کوئی شی کی ےاورکھان کا اکوئی سا مان یں ء یل انچاکی مجبورہوکررسو نے گل یک ںکیاک رسکی ہوں .مر ےذ ہن بی ںآ کہ بی انی حصصست اور ای پیاکدائ/ٹ یکو راس سے جو درو نے حاصل ہوجا نہیں ءاس سے ہچوں ک ےکم ار ےکا ا ظام کمروں اس لج یں نے اس برا یکا اراد ہکا ہمگر مھ الیکا خوف بود سے اوراس لئے جک طازی سے
عورت ول سے با تکرح یھی ءنذ دل پراٹڑ انداز ہوئ ؛اورگور کا بے داسنزا نک نک اور ا سکا اید سے بیخوف دکوکرہ الس رد کے ول می بھی اڈ کا ڈراور خوف پیداہوگیا اور سکنے لا کین صرف ایک با گنا ہکا صرف اراد وک کے ءال سے اس
ووؿق ۳۰ ووی فو فکردی سے اورمیبراعال یہ ےک ٹیل نے پپادکی نکی ا کی نافرماٹی یش اورمحصیت می ںگمز اربی ہےء یھ الل دک تج سے زیاد خو فک نا جات ءا لے میں برک رتا ہو ںکآ جع ےئگ یگنا وی سکرو ںگاء او کن ایس نے جومھ سے رتم دی ےکا وعر گیا ہے دوجھی جھوکودو گا ۔ چنا مجر اس نے اس عور تکوٹم بھی رے دگی اور برائی سےا بک یکرکی اورددکورت دہاں ے وا یش ہوگئی۔
بآ دک اس کے جانے کے بعد مامت کے ساتجھ اید کے سا روکرء گگڑ اکر اہ ےگمنا ہو ںکی محائی ما گنن اکا اوراسی حالت میں ای رات ا کا اتال ہوگیا۔
تی اسر اتیل میس الڈدتھا کی ایک سنت جارئیاش یک جو دی امھ ہوتا ءا سکی اسجمائی دی رت سے اس کے درواز ہ پلک دکی جای او اگ رکوئی برا یکرت تو اس کے درواز برا کی برائ یکا ذکرکردیا جا تھااور یکل نا نیف ذ تا برا تھاکرال کے ددوازے پردوزانہ ھتہ ھا کی برائیاگھی ہوک ہوٹ یش یج اس نے زنا اد اس نے شراب دوگ ھئ کی .ساد ےش رم1 لک وق وق اورسب لوک سکتتے ج ےکہ ہکا برا آ دٹی سے اورلوگ ای وجہ سے اس سے ڈر تے اوردورر تج ے_
بی اکم قای فلس فرماتے ہی ںکہرا تکوا سکاانقال ہوگیاءاور لوک اٹھکر د یھت ہی ںکہ اس کے دردازے پرکگھا ہوا ےک_'” قد غَفْر الله کڈ “'(ا رتا لی نک لکی مقر تکردی) اور گے پڑھے ہودۓ جارے ۓےڑرے 7 4س
تےکراس کے دروازے پدیھی جو بھی پھوکھا ہوا تھا ہگ رآ نع جیب بات ےک
”و (۱ ووپی اس کے دروازے اون ےک لکی مفظر تک ردیی“ “کا ہو امے ملک ینہ گ ےک آ اس کےسا تح کیا محاملہہ و اک اننام ا آدٹی ۱ اتناش رمیدفانست یآ دٹیءاورائڈند نے اس کی مفقرت کروی اجب لوگوں نے خشبن کین اس عور کاو جمعلوم ہوا ہو دحورت نآ کر با اکررات الما ایا داقعہہواتھا ءتب لوگو ںک وج بی ںآ کہا نے سی لئے ا ںکی مخفرتکردی-
(ترنری :۲۲۹۹ء مسنراجےےے"ء من بزرا: ۵۳۸۸ مسٹرا وی :۲۷ ےن۵ مت درک ح اکم :۴۸۳۴۰ شب الا مان :۹ رے ا٣ء بن ہا ن :۱۸۳) ایک عابدکا مکنا اورخوف سےا بک رنا
علامائکنالچوزکینے اپٹ یکناب ”ذم الھوری “می سککھا ےکا لوکعب نے ضزیضن دیاش لک ایآ فا کت مات تن وش گی ج ایک سود ینارلیکر برا یکرا ی تا ۔ ایک عابدوزاہدکی ایک باراس پر جونظ رڑ یتوہ اس کےعشق میس تل ہوگیا اراس کے پا جانے کے لے سود ینار کر نے لگاء اورکام دا مک کےا نے سود ینا رش کر لئ اورایک دن اس س ےک رم سکیا اوراپنا مگ بی ںی کیاءال ےمم :ار نے لئ او رین سو رکرتیار ہوک راس کے مل ےکی ار ےت مائان کے از ائ یکر نے کے آراوۓ یت ملا ا یکو کے ماع جواب دہ ہو ن ےکا خیا لآ گیا اوردہ الد کے خوف ےکا یئ لگا اور ا کی شکہوت و خوا ہش بی مرئی۔
اسان ےکہاکہ مھ کھوڑ دے تک میں بیہاں ےنگل چا کول ٤ اور ید ینار ھے می دید تا ہوںل اس فاحشعورت نے گب س کہا ک کیا ہوا؟ نو نے نو بی عحنت سے مدد برع یئ تھے اورمیس جھے ہن اگ یھی ءاورآ جع جھے موق لا سے
ووقخػق ۳٢ ووی اور ا کوھو کر جانا چا رتا ہے؟ اس ن کہ اکمہ یئن کےخوف اورائس کے سا نے کھڑڑے ہو نے کے ڈ کی وجہ سے سے اس عورت تن کہا کہاگ یہ بات تیرگا کا ےا سو اۓ تی رے می راک وی شو ہیں ۔
فرش ددوہاں ےلگ لآیااوراپنےگھ چل گیا ءاوردوکور ت بھی بک کےء اس عابدکا پن:معلو مکرتے ہو اس کے پا کٹ گی ؛ جب اس کو تا گیا فلا تم کول چتت ہو آکی اذ دہ ر یکر بے ہو ہوگیا او چرم رگیا۔ (ذم الھوری:۹٥۲)
تب فلام نو فکاواتعہ
ماک بند ینار رص اڈ د کے سن نے تفلا مکو ایک دن جختسردی سکمٹڑےد بیکھا اور کو پبیہآر ہاتھا۔ میس نے پچ اک کیوں یہا ںکیٹرے ہو؟ تو کہا کہ اے سردار! اس جلہ یش نے اپینے ر بکی محصیی تک گیا ۔ پھر ىہ اشعار ھھے:
ہا
رخ بالتوْبِ وَبِالمَعَاصٍی
و لی يَوْمبُوعَط بالتواصی
وناق 0اجع ا گنی
ورَبٌ العَالَمِیْنَ عَلَيْكَ حاصيٴ ( ناو معاصی پرخوش ہونا ے اوراس د نکویجمول جانا سے جس د کہ پشانیو ںکوپلنڑاجا ۓگاء اور جات بو جح گنا +کرتا سے اور ا سک یکو کی بروا ہیں کرت اکرترےاوپ رب العالزگراں ے ) (الع انا :۵۵)
(ويىق نن ووی اکم اضف وق
کوفہ کے ابد بن یں سے ایک حطرت سسعیدزابدگزرے ہیں انہوں نے 1 ےک کوفہ می ایک لو جوائن مایت عابروز اہ رتھاج ییش سد می ر بتنا تما ء اور تین ول تھا۔
ایک عورت نے ا سکودیکھا نو اس تی میں نکی : زان نے راتۓ می سکنٹرے وگال کو پیمسلا نا جا ہا۔ جب د ٥سس جار ہا تھا قذ اس نے اس سے کہاکہراےٹو جوان !میرک ایک با تن لو کگراس نے ا سکی طر فکوکی نو یں ول ا ا ا ا می رکی سن لوہ پچ رج چا ےکرنا۔ ال نو جوانع ن ےہاک میعام راستنہ ہے ججہاں بات کرن بت سے نال ی کی اور میس ال کو پین را ںکرت اک خوا ہو اہ اپنے او بہت ا وں_۔
دوکورت سکننےگ یک می بھی اںکو جا ہول اورھہارا وسقام سے دی بے معلوم ےکتم عابدوزاہدلوک ایک شش کی رع ہوءجنس پرایک مم ولی سادعیہ بھی ا سکوعیب دار بناد ینا سے مگ شف ربا تکہنا جا ہق ہول ٦ دہ یہ س ےک میرے ارے میں ذراااد سے ڈ دو میرراروال روا ل تما ری عحبت میں گرقارے۔
یر نکردونو جوان اب ےگھچلاگیاءاورنماز مڑھنا جا با یج یل می ںآیا ک یسا پڑ ھھے؟ اس نے ای ککائ اٹھا یا اور اس عور تکو ایک خاھا اور با پاٹ دیکھاد٤و می ںکنڑرکی ہےء اس نے دو خط ا سکودیاءاوراپ ےگع رآ گیا۔
یں کنا 7 ریت اوانع ےن نب الک اٹرال اول مرتت ہکرت ہے و وہ ا سکومعا فگرو تا ہے اور جب دوسریی پا رکرتا ےو ا کی
وق رن وؤوی سار یکرتا سے اور جب تیسرکی با رکرتا ےل اس پر اس فد رخخصہہہوتا ےک ہز ین و آسمائن بجر پپاڑ ءاور جانورسب کے سب اس برننگ ہو جاتے ہیں مہ کون الد کےخصکو پرداش تکرسکتاے؟ بوں گر حبت والی بات جو کہرردی ےوہ غلطد ے نو میں کے قامتکا دددن بیاددلا ا ہوں ینس د نک ہآ سمان اور پہاڑ روٹی کےگالوں کیرب ہو جائمیں کے اور لوک اود جیا شی مک یلم کی وجہ سے اب ےکھشٹوں کے لچ لک رآ میں کے اوراگر دہ بات پل ےکتارواں روا ل محبت می ںگر ار ےت یس کے ہدایت دسیے وا لے بی بک جاحب رچ٘نمائ یکرتا ہوں جو ہرم کے زتموں اورردو ںکاعلا جکرتا ے اوروہالٹ رپ العا می نکی ذات ے۔
ہبذااسی کے در ہا ریس جاک راس سے سوا لک ہ میں نے تیرے سے ہہ فکمرااس آیت میں شخول ہو ںک۔: هاوَآندِرَمُمْ يَوْمَ الاِفَة اذ القلوْب لَدّی الّحَناجر وَمَا تُحْفْی السَدُوْرزالغافر:۱۹-۱۸]
(لوگو ںکواس ری بآ نے وانے داع سے ڈرائ چیہ کیج (خوف ووہشت سے )م کور ے ہہوں گد ان ال ال اکر ووگھٹ رے ہوں کے نت کو رت وک مکی فا تی فی نکی ات لی ےا و نکی ا2ت جانا ےاورا سکوڑھی جوبینوں میں اہ شید دے )
ال آبیت سے بھا کفکرکوئ یکہاں جاسکنا ے؟ کے می سکہددعورت بی 009 چندونوں کے بحدآکی ؛اورراتت رکم 99 2 دریکھا تق دورہی سے اپ ےگ روائیں ہو نے لگا اس عورت نے اس ےکہاکہ اے نوع اش فا 7ن4 لگ اق منل رات ل۔
وو ر٤ وؤوی بر بہت ردگی او رکنےگ لیک یکوئینشیحت کیجئے۔اس نے ال سکوشےح تک یک
اپنٹ سک اط تکرناءاوربیآیت پڑی: هرَخو لَذِیٰ مرکم بالبل وَبَعلمُ َا جَرَحْتْم بالنَارِ مم یَْعَنُْمْ فَیّہ لِْقَطی اَجَلْمُسمٌی مم يہ مَرْحمُکُم تُمم مم ما نم تعَملون پ14الانعام:۹٦](اللکی ذات وہ سے جوغمکورات میں اپنے قضہ یش نے تنا ہے اورتم جو یوون می لک تے ہوا سکوجا تا ہے ء پچ رون یل ت مکواٹھاد ہے کیم ررہمرت ایا دی ہوجاۓ ء پچ راس کیا جا بت مکولوٹا سے پھردہ مکوجتا ےگا خمکیالز ٹل رت چے )
دہخورتص چھکاک تی ری ادر چیہ سے زیادہ اس پر کا کم می طارگی ہہوگیا بل رافاقہ ہوا تو اپ ےگ ئی اوراس نے اڈ ےت بک اورک رکولازم یکڑلیااورعیادت شخول ہو اوراکی برا کی وفات ہوئ- (الزع انا :۱۳) ایک و جوا نک فا بی ےترک گناداو عو تکاواتھ
امام این عس اکر نے اپئی تار بی ذک کیا ےک ححفرتگ مہوت نین کے زمانے میس ایک نو جوان بڑاعباد تگمز ارتھاء جوز یادہترممچ یر باکرتا تھا رت ینان ا لکو بہت بین دکرتے تھے ۔ اس نو جوا نکا بوڑ ھا باپ ھا جشس سے لے دوعشاء کے بعد جا اکرتا ھا اود اس کے اس رات پر ایک کور تکاگھ تھا ءاس نے ائںپو جوا نکودبیکھاقذ اس پرف ریت ہوگئی اور سکواپٹی جاب ا لکرنے کے لئے انت میں بن سو رک رکیڑی ہوئیٹھی۔
ایک رات دونو جوان ال عورت کے پاش س ےگ راپ ودعورت ال ںکو کان ےکی تی کردو اس کےفریب میں لا گیا اور انس کے تی اس کک کی رف جیےے لگا۔ یہا ںک ککاس کے دردازے پچ گیا اور جب دوعور تگ میں
(وق رن وؤوی دائل ہوئی فو اس نو جوا نکواللد یا دآگمیاءاورا کی ز پان بر یآ یت جاری ہوگئی:
ل إَِّ الَذِيْنَ اتَقوْا اِذَا مَسهُمْ یِف يْنَ الشَیْطن تَذکروْا فَاذَا مُمْ ,رن پ4( الاعراف :۳۱] (بلا شب جولو تق کی رسکنتے ہیں ء جب ا نکوشیطاان وسوس سے پڑتا اود یکو یا دک رت ہیں یں وود یھن گت ہیں )
روونو جوان بے ہش ہوک رگم پڈاء اس کورت نے انی باند یکو بلایا اور دہ دونوں ا ںکواٹھا اکر نو جوان کے پاپ کےگ رک 0-7 2 02: دیکھاکرددمے ہویش ےا لوگو ںکوتاون کے لے بل یا ا ورلوگوں نے ا کو ٹھا َ کے ان جاٹچایا۔
جب را تکا ایک بڑا ہگ رگیا و ان کو ہش لآ یا ء اپ نے لے ماک ہکیا ہوان کہاکہ تر ہے۔ باپ نے معاحمہ و پچھاء اس نے قصہسنایاءباپ نے دوپار٥وہ آبیت اس ےکا ءدونو جوان ال کو یڑ ہ کپ ہے ہویش ہوگیاء جب ال ںکو پل گیا عمرچنکا تھا۔ الش نل ولشع د ےکردرات میں بی ا کو نکردہاگیا۔ اور نعضررت عحھر بین کوا سکی اطلاغ ہوڈی نیت کے مل ۓننش لیف لا ۓ ء اورااس کے پاپ مےف ما ایی ںکیو یں جناز ےکی الا کیا ؟ اس کہا کررا تکاوقت تھا حطر تر باقن کہ اک لوا سک قب رب جانیں ے۔
نآ وپ کے اش ہے جفت من نے ان نو جوا نک وخطیا ب کر ک ےہاک اے فلا ! ق رآن مل ے: ہل وَلِمَنْ خاف مَقَام رہ نان ہ14 ان :۷٢](اورجورب کے سا ےکھڑرے ہو ن کا خو فکھاۓ ا لکودوچقیں ہیں ) نے قیرسے اس نے جواب دیااکمہ ہاں ! شھے اد نے دونو ںگشتیں عط اک ردیی ہإں- (شضرتارںع زشن:+رے٠۱)
”و ر١۰۰ ووی ٭ امت خراوند یکا ا خضار گنادے بازدرتے کے لے ایک چجربیہمل می ےکا یتو لکوس ہے
اوران ورک ےکہاس مالک نے میرے او نیت کی ہیں اور برا ہکرتارہتا ہے بللہ ا لکیاتقیں نے انمان پر اس ط رح نازل ہوردی ہیں جیے موسلا دہار بارش ہوہکوئی وقت ان سے نا ینیل ۔ کچھ رس ےکماس ماک ککی ناف ماٹی کا میرے لے کوکی وج جواز ے؟کیااس ما کیک صمت مکی غلاف ورزی ونا خر مال یکنا سکی نت ںکی اکر و نا فک ر یی ؟اگرانسان کے اندرتھوڑبی ببہ تھی شرافت ہوگی نو وضرور گمنادونافر می سے با زآ جا گا برا ڈیم بن ادہم کے پاتجھ برای کگمنا وکا رک ہہ
یح حرتابراعیم بن ائم کے پا ںآیا او کی اکم ضرت !ٹیل گنا ہوں سے پچنا جا بت ہو گرب یں پا ا ءک کرو ؟کوی ای بات ارشادفماے آ۔ ےگا ہروں ە-ه+]/ لی ہو؟
ححضرتابرا ڈیم من الیم نے ف رما کہ :جب تب رااراد ہگن وکمر ن کا ود بنا اکا دیا ہوارز قی شکھانا۔ااسل نع کیااک پچ رم لکیا اور سر حکھاوں ء یہ جوگھی ز ۳ن پررزقی موجود سے وہ اد یکا عطاکمردہ ہے؟ آپ نے ف رما اک کیا کے شر یسل یکن ارز قکھا تا ہے اب کی ناف رما یکنا جابتاے؟
رتحضرت ا برا ٹیم نے ف رما اک گر گنا ہک نای اتا اذ ایی اک رک ای زین سے باہ رچلا جا اوردہا ںگناءکر نے ۔ اس نے عو کیااک رت ا کے ہہوسلتا ہے مج سار یکا ات ای الیدکی ہے؟ آپ نے فرما کل رکا ھے شر سی س1ل یکلہ
وق ووی اید کیا ز ۲ن پررتے ہو ۓ ال سکی محصی تک ے؟
جحفرت ابا ڈیم ت ےکہاکہاپچھا اکر تج ےکنا ہک نا ھی ہے می ای لہ چلاجا ہا ںکوٹی تھے نہد بنا ہو۔ اس ن ےک اک حقرت !کے ہوسکتا ہے جیکیددہ الد ہر وت ہمارےساتھ ہے۔آآپ نے فرما کہ کیا تھے شر می ںآلی کہ خحداکے اس فرر قر۔ بت ےا ن ینار ا کےا
رف رما یاکہ: اگ رق گنا ءکرنای چا ہنا سے جب نر تع زراننل رو ٹیش کر نے1 میں فذ اع مس ےکبد بن اکہ شف ]رن ےکک ڈراسبلت و میں۔ اس ات کہا کہ یکیسے ہوسا ہے؟ حفرت ابراڈیم نے ف رما کہ :پل رکا ھے شر می ںی کک نک وآ نے اوت کی ئن ح الیم تکازن ون
چلرف رما کہاگ رن گنا ہر ن کیا ارادہ رکتا ہے نے ای اک رکہ جب پأنم کے فرش ز با قیامت کے روز تھے پک جم میس نے جانا جا می نو ان سے ییہکہد بنا 0 بس 90وہ ۔اں نے عر سکیا کر حضرت ای وو حم چھوڑد میں کےاورمی ری بات مالن لس گے؟ فر ماک پچھرت بی ضا تکسے ہوگی ؟ کمن اک ہراے ابر میم ا یشبح تکاٹی ےکاٹی ہے۔ می سذ برکرتا ہول او رح رکرتا ہو ںکہ مھ یمناوہی سکرو ںگا_ (الت این لا بن قرامہ:۵ ۲۸ء ادب الاسلام:۹-۸ءانھلا قی الم وش ن:ے٭۱۰۸-۱)
نت خداوندیی کے احسائس برای کتشرا یکا ہہ
سن ضو وروی کن سررو را ہی سکہ میں سیاحت کے درمیان حضرت ذو النون ممصرکی کے سا تجح تھا کہ الاب کے ار می نے دریکھ اک ہ ای ک کال بڑا سا مھ ور ہا سے میں ین ا سکم کا
ووژؿي رت وؤوی ہوگیاء ان میں ایک مینڈک پالی سےُھلا اورا کچھ کے پا ںآ با درا کو اتی بپشت رھ اکر ایک طر فک جن ے لگا۔
رت ذو الٹون نے فر مایا کہ اس کچھ وک اکوکی اص معارلہ ے ٠ جمارے سا لوہ سکتے ہی ںک ہم اس مینڈک ویو کے خی نہ گےء بیہاں کفکمد ایک درشت کے پا لآ شس کے چچے ایک لو جو ان شراب کے نشہمیں مست سویا ہوا ہے ۔اور ایک مڑاسانپ ا لک نا فک جاب سے تڑ تا ہوا سن کی طرف جار با ہے۔ نی انس مھ نے سایپ کےم رپھہکیااودا سک لکردیاء پچھرمینک کے پا لآبااورای جا بکودہ لے گے ججہاں ےآ ئۓ تے۔
حخرت ذوالنون سکجتے ہی ںکہ مشھے بڑ انب ہواکہ ایک شراہ یکو چان ےکا خدائی اظام دیجم وکیا ےوہ کے ہی ںحفرت ذوالنون نے ا سٹو جوا نکواٹھایاء تووداٹیآ نمو ںکو متا ہوا یرارہوا ذانہوں نے ا سکو بتاک دکھٹ ذذ خداکی نافربانیٰ کرد پاے اوروہ اس ط رح تی کی تفاخقتکرر بے کت ہی ںکحضرت ذوالنون نے بشحارشی پڑ ھھےلہ:
ص۶ 287087 یھ" من کل سُوو یگُود في الطُلُم
کیک ا الف لع مك يَأِيْكُ مِنهُ فَوَائدُ الیم
زا ےا ےا شی نکی 90 سی تارییوں می کر پاے توری ہیی اس ما لک سے اعرائ کر سےکیسے سوحتی ہیں نن سک جانب سے ےنھمتوں کےفو انچ ر سے ہیں )
پیک نکر دوفو جوان سی لگاکہ یاالی !یآ پکا معامممہ ایک ناخ رمان کے ساتھ ہے ہچلرتیرےفمانبردار بنندوں کے سا تح تیرارقم وکر مٴس در ہہوگا ؟ پچ رکہا
ووٴق ر۳۰ ووی تنا کان ایی ۂ مات لک او رق ل ابچ اکیا۔ ۱ (النواڈین:۲۲۴۰ ھعظم ف۵۵-۲۵۳٣) اس سےمعلوم ہو اکہ ایک شریف انما نکواگہ برا سال ہو جا ۓےکہائس بے ارک یس رٹنیس میں تو دداس پر خداکی نافرماٹی ےتاتب ہو جا ت ےگا اورانس کے شر می ںگنا نک ارگ اسی لے زرگان وین سےمنقول ےک ہانہوں نے شک رک یتحریف ہی مکی کال کی تو ںکوا سکی ناف مالی میس استعال نکیا جاۓ ۔حخرت جنید بفرادگی کی ہی ںک ایک مر حفرت ری لی نے جھ سے پو چا شر سے کت ہیں ؟ وی ےکی ان 7 سان نوز فک ال قا لکل ناد“ (الل یک ینخت سےا کی نافرماٹی یس مددنہلی جاۓ )حضرت سرکیانے لو چھاکہ یہ باتک مکوکہاں سے معلوم ہوئی ؟ حطرت جخی کے ہی ںک یش نے عون شک اک ہآپ یی ماس سےمعلوم ہوکی ے۔ (رسالتے:۸۱)
٭ موت أروضشر کے ہہولناک احوا لک مراقہ ترک گناہ کے لئ ایک انا کی مث ذر یہی ےکہموت اوراحوال برزں وآخر تکا دعیان دع اق کیا جاۓ ای لف رن وحد بی میں “یی الع احوال واعوا لکی جانبتوج لا یگئی ے- قرآن ید ارشاد ال ےک : وھ ےد ےۂ ہو ول ٭۔ درگر ر(لورہاردہر ور سو ظط کل نفس ذائِقة الَموتِ "”وَاِنمَاتوفونَ او رکم یَوم الَقِمَة
سی وو ٢ ووچ !یں
2+۸
فمَنْ رّخْر عَن النَاروَادَخجل لُجَنَة فَقَذ فَارَ”وَمَالحَوهلْدنیا ِا مَتَامُ الغرُور 4ل گران:۱۸۵]
و کا مہ کمن ےء او ہیں قیاممت کے د نتہارا رات دیا جا ےگا ء یں جس سکودوز رخ سے بال یا گیا اور جنت ٹن داخلرد بل با گیا و ہکا ماب موگیاءاوردنیوگی ز نی صرف دوک کا سا مان ے )
ایک اورموقعہ برغ رما اگییاے:
ھا انس اقوا رَتكُمْ وَاحْشَوامومَا لا بَعَرِی وَالد عَنْ لِم وَلّا مَوْوْدِهُ هُوَ حَازِ عَنْ وَايِدِمِ شَيْنَاہ زلقمان: ۳۳]
(اے لوا اپنے رب سے ڈرواورائش داع سے دوجس دانع شہ پاپ یچ کے ا مآ ےکا اد رنہ بنا پاپ ک ےکا مآ گا
ایک بج ارشادےلہ :
فَإذًا حَاءَ تِ الصّاعة یَومَ يَفرُالمرّءْ مِنْ اَحِيه وَآيّہ وَابيْه وَصَاحیته وَبَیه ء لکل امریٰ مِنهمْ يومَيٍ شا لَعَييه ء وُجوْة يَوْمَیزِ
ظء 2 كہ*٭“++* َومَيِْ عَلَيهَا غبرة ء ترَحَقّھا فتَرةٌء
کم لکقرۂ لپ جس ٤
(پچھرجنس ون کاو ںکوپہرا کرد ین والماشور بد پا ہوگااس د نآ دٹی اپنے بھاٹی سے انی ماں سے اپنے باپ سے اوراپٹی ہیوک اوراولاد سے بھا گ ےکا ء ہرآ دی یکو ایک ایبامشغفلہہوگا جوا سںکودوسروں شف یکردےگاء بہت سے چہرے اس روز ر وشن ء خناراں وشماواں ہوں کے اوریہت سے چچہروں بنظلمت ہوگی ء ان پکدورت چائی ہوگیء یلو ککافروفاجھ یں )
وؤيق ۳ ووی ان سار یآبیا تکامتصودانما نکوا مو رآخر کی جاب متوج کنا اورآخرت ا( رو نے ایک عدیث میں ححطرت الوسعیدخدرکی متزن نا ہے ھروکی ےک ایک ار رسول الشد ح فلت اپنے صلی میں داحل ہو ق ےت نیول کو ںکود یک ھا کیا دوڈسر سے ہیں- 7ھ 7/۶ مَاوْم لات “یجنی لذتو ںکڑٹن مگمرد نے والی پھر 7ا از رن لان جو ون سے دو رگمر د بح ۔لہز ا ھاذم اللذات گوکثرزت ےپاوگرو_ (رزی:۰٢٦٢۲) اور تر تعپرایڈد می نگم تن تم ردگیا ےہایک پار بے قص ٹن لآیا کہا کےرسول عل اذا تک مس کے لے باہ رکھلے۔ آپ نے دریکھاکہ لوک با خی لک۷رد ہے ہیں اودرا نکی بات امیا سے جھ گی پیداکردی ے۔ آپ ا دنق یکم کھڑے ہوگے اور فربایا کہ :”اد کرُوْا عَاومَ اللذذات:الموت“ (لزق کوک مرد نے والی یش مو تکویاوکرو) اس کے بحدآپ پھر باہر نے پیولوک بانوں اورٹی میں مشخول تھے , × سس ا مان با نو ںکو جات جویس جا ہا ہو ں تو مکم نت اورزیاددروے) (الطالپ العال:۳۷۱۲۹) یز ایک اورعد بیث میں ححطرت الو الدرداء تنا سے مروی ےکلہ
وی ری ووی رسول اد لیذ ایک نے فرمایاکہ: ری ی کٹ تت لصعُدَاتِءتَعْارُوْن لی الله رو جَلْلاتَرُون تَجُون أول تَجُون“ (اگرم ان با نو ںکو جا ن لوجچنبھیں بی جاہتا ہو ں تو تم ضرورزیادورو پاکرو اور نس اککرد کے اور ای دکی پناہ سے ہو ۓ جا تکی طرف ٹل جا کے ب نہیں جات کمنجات پا کے بانجات میں پا گے ) (مسنراعر:۰۵ءے) اورجخرت اپوزر مَيَْدْمَنزے روایت ے کہ رسول الش قَاوٴلِقَلِک/ نے ما اک م"م"+""0و تا اعم سَحکتم لن و لَكِتم کْ راو لَمَاسَاغ لگم الطَعَام والشْرَابٔءولَمَا یِمیْمْ عَلَی الفرّش وَلََحِرتمٍ السَاء و لَحَرَحتمْ تو اقترا ات 032 خَلَقنی می کس (اگرتم ان چیزو ںکوجانلوجو میں جانا ہو ںوت ضرو رش یکم اوررونازیادہ کردواو میں نکھان خوشگوارمعلوم ہونہ پیناءاو ریم پستزوں بس و اوریم انی کورنوں سے جدائی اختارکولدءاور پناوڈعونرتے اورروتے ہو ۓ جنگرا تکی جانب لکل بڑوء اورشیل جابتا ہو لکہمشیش ایک درخت ہوتا جم کوٹ لیا جا تم (متررل :۴ )٠٢۲۷ ایک حد یٹ میس ےک حول الد اتک نے فرمایاکہ: 7 ٹھب 9 08 الّحَيِيْدُ إِذَا 00 2 مل :ا رَسُولَ الله ! وَمَا جَلا تھا ؟قَالَ: ور المَوْتِ وَبَلاوۃُالقرّآن “ .
وق رت وی ( وب اىی طر زنک کپ لے ہیں جس طر لوہ بای لک جانے سے زک کک ڑ لپتا ہے :کھاہرنے و چھاک برا سکیا صفائ یک سط ہوگا؟ آپ نے فرما اک ہمو تک یاد اورٹ رآ نی خاوت ے ) (شحصب ا مان :۳۹۲۳ منرالشہاب:۱۰۹۰) رت تماد جع یاص نون سے روابیت آلی سےکہ :حطر تآ تقائۓے نامدار نی کر مھ عر لی حا لذ اتک نے فرا کہ :” فی بِالْمَوتِ وَاعِظأوَ کحظی بالیین غنیٗ وَححظی بالعبَادِ شع“( لھبحت کے لے موتکائی سے اور مالمدار یکیلے لق نکائی ےاور شغخولی کے لے عباد تکاٹی سے ) (شحب الا مان :۱۳ ۱۳۷۸ءا مامح الصخٍ:۲۶۵٢٠٥) اورصخرت رب بین الس تن ن ےکہا کر حضرت بی عر بی مھ کی دی أی ایک نے ف رما ما/ہ: ۶ ۰۰ 8۴ م٠ (موت دنا سے ہے رفبت بزانے او رآشثر تک رقبت پیداکر نے کے مل کاٹ ے) (ابن ا لی ش:۴۶۹ ۳۵ شحب الا مان :۱۳۵/۱۳) او اف ےآ فک رظان راتفر تک نارق کے لل ماد ہک رن مقصود سے ۔لہذاانسال نکو چا ےک دو وت اورم١وت کے بعد کے راصل ہق روسوال وجواب نیز تشروآخرت کے احوال پرفورکرتا ر سے ۔ اس سے گنا ہوں سے بنا سان ہوجاۓےگا۔اورجی اگکرنے میں ہہولت ملوم ہی ۔
یم سے کی یادرےتحضرتعثان بتاپن' گر عد بی کی ردایات می سآ تا ےک حطرت پان گنی رطق جب سیق رپ
دے سی 8و ےو بقع در 2ں کھڑے ہہوتے پببہت دو اکر تے ےک یک آ پک ڈاڑی تر ہوجا یھی پآپ سے اس سلسلہ میں معلو مک اگ اک ہآ پوف اھ کے نواڈ یرت اورشی رپ راس فررروے ہیں؟
تفر ما اکہ ہاں ارول اش اذ اتل نے فرمایا ےک ہ:
2
بر أَوّلَ مَتَازل ےد و اسر مِنهء و إِنْ لم کے ست تار مہ من “(قرآخر تک منزلوں یں سے اول ےء ٦ 2 ۹ییٌٰٰ۶۶ٔ "مم اس ےےغجا تی پاب اس کے بعدکی مز 8ھ ,1ءء
اور زرسول اللہ الہ ۳ر
الله ری منظرافط وَالقبْرأفظم ِلۂ*“(مس نےکولی منظرقیر خزیاددخوف ناک یں دیگھا)
(ترنری: ۱۳۰۸ء اہین ما :ے۲۲۷۹ ءمراجر:۲۵۳ءمتررل :۸۱ك٤) ہز ران امت کے ارشادات
حضرتسفیان نو ری سے ہی سکیس نےقبراوکشرت سے بادکیاد ہا یاقجرکو نت کے بانخوں میں سےایک با بات ےگا اوجٹس نے ا کی یاد ےفل تک وہ نو مظن گءظئ ئ0
)٥۸۷۸۳:مولعااماحا( ۱
حطرت بشرحائی کا قولی ےل ہ:
ال ہہ فی أمُرِ الآحِرةِ تقُطع حُبّ الدُنیا و 90س ؿ سس ۲تس0ھ0۶9 شا تکو
وھ لی وؤزوی ےس اما تے) (غزراتالزعب:٢۷٦) ن مرا تکاقول ےک : ”جا لِمن يَعْرگ 1 التركع ا کیٹ بفرخ ٢ و عَعا لِمنْ یعرف : ان انار حَیٌ *كیْت يَصْحَك ء و عَعَب لِمَنْ رای تَقلَم الدُنيا بأهُلِهَا کیف یَطْمَْن إِليْهَّا ؟ و عَجَبا لِمَنْ يَعلمُ اك القَذَر حَىٌ ء ( تب ساس بج جانا ےکممو تک ےپرد کی ے خوش ہوا سے؟ وجب ہے اس بج جات ےک دوز )جن مرو وکس طرں ڈنتنا ے؟ جب ہے اس پر جو دنا کے الٹ پٹ ہو ےکودپکھنا سے ء پچ روہ کے میا سےسمکن ہونا ہے؟تجب ساس پ رج جا نا ےک نقذ یق سے پچمرد ہکیوں خو وکا جا ہے؟) ( کات القلوب:ءے۵٥) حضر گرب نعب لت زی کال رآخرزت حفرتعم رین عبدالع زی لگ رآخرتکا ڑا غیرد ”ا تھاء لیک مرج ہآ پک ایک باند یآ اوراسں نے سلا مکیاء بچ ایک جان بکھرے ہوکرااس نے نماز پڑھی اور یٹگئی اس پر نین کا غلہ ہوااورآ یرف ق۴ سرہےقر چمردہ ہیدار ہوٹی اون لکیاکہاے اھ رالم ین !میس نے خواب میں ایک جیب منظردریکھا ہے۔ لو اک ہکیادبیکھا؟ ن کبن یگ یکیش نے دیکھاکردوز خ ےاوردوائل دوز رز ورز ور ےآ داز یں کال ربی ہے پھر بی صمراط لا گیا اور دوز را کو اد ماگیا_ حفرت امیر لسن ےک ابچ رکیاہوا؟ ےگ یک ہپ رامی راو مین عمبر
وق رن ووی الیک من مرداا نکولا گیا اود ہی صراط پر ڈالگیاءاوردہ نی دوراس پر جے تےکہ گل صصراط جن کگمیااوروہ جم میک رئے۔
تحفر تع جن عمبدالزیز ٹ ےگ اکپ رکیاہوا؟ سیگ یک پچ راھی الم مین ویر بن عبدالمل ککولا گیا اور بل صراط پر ڈالاگیاءاوردہگھی بکدجی دوراس پر مہ ےک پل صصراط چک اور دنم می شک گئے
تفر تمرم نعبد الع یز ن ےہاک بج رکیا ہوا ؟ کن ےگ یک بپچھرامی الم مین سلیمان بن عبدالل ککو لا گیا اور بی صعراط بر ڈالاگیاءاور دہ گنی بی دو راس پہ
چے تھےکہ پل صرامط رکا اورو جم یکر گئ ۔ جحفرت عرربن عبرالزیز ن گہاک ہپ رکیا ہوا ؟ نگ یک ہپچھراے امیر لم ین !7آ پکولا ہاگیا۔
اتا ضنے بی انہوں نے ایک تن مار اور بے ہو ہوک گر پڑے۔دہباندگی ان کےےکان بی نکی ری کہا امیرالمو مین ا خدا یمم وو ڈ 6رہ آپنجات پا گے ؛خدا مم + پ جات پا گے ۔داوی کے ہی ںکہ با نک تو انقی پا ہیی اورعمرین عبدالزی کی یی کنل رب یچیں اوروہ ابنے رو لکوز من پ
آڑر یارے ت۔ زایا ءالعلوم:۳ر۱۸) عمربج نب امت زی کا ایک اورواقعہ
حر مم نعبد ال زی نے ایک ہار اہین جن حاض رین سےفرمایا 2 آوصر اد ۷ر 21 کن گت ۷ ا
رم می تکوا کی ریش شن دن کے بعد یقاس سای لی بد ت تک الس و صبت ہو نے کے باوجووقم اس سے وہشن تکمروگے اورقم ایک ایی اگ رد یھو گے جس
وق ر۰ ووی می سکیٹ ےگوڑ ےپ رر ہے میں اود پییپ بہددیا ہے اورالس می تکوکیٹروں نے چر پھاڑدیاےاوراسی کے ساتھ بد بواورکش نکی پوس دگیبھی ہے جیلہاس سے پھلے وہ کت می شکل وصورت بعر خوش بواورصاف خر ےکیٹروں ٹیل ہہوتا تھا یہک آپ بے وو کرک پڑے۔ (احیاءلعلوم:۸۷/۳م) امام ااوطیفہاورتو فآخرت
امام ااوحیفہ رحمتۃ الیل علی کا خو فآخر بھی بے مثال تھا ہآپ کے ش ارد رشیدامام زی ین الکمیت کت ہی ںکہ ایک دی بین اسان الم ڈن نے ععشا کی ماز میں سور و اذا زلزلت “ینعی ء امام ابوعپی بھی یہ تے ء جب لوگ نماز پڑ ھکر لے نے ٹیس نے امام ااوعیفہکودریکھ اک ہآ پ کی بات میس شنطک ہیں اورسانس پچوگ ر ہا ہے ۔ کے ہی ںکہ بیس نے دل می سکہاکہ بے یہاں سے پچلنا جا نے اک ہآ پکو می رکا وجہ سے پر ای دہوء کت ہیں کی دہاں سے ری لکو بوں بی یھو کر چلا آیاء اور قتقریل می ںتھوڑاسا تل تھا۔ جب می سکع صادقی کے بح رس رکآ یا و د یک ھا کہ امام الوخذیہکھنڑےہہوے انی ڈا نج یکو پلک ربہر سے ہی ںکہ
اےدوذات جو ہ رت رکا بدل تر سے اور پرشش رکا بدلشر
سے ہق سے لتمان (میامام ابوعیفہکا نام سے )کودوز کیک
سے بچا لے ا وراپنی رحمت میں داش لکر لے"
زی بن الکمیت کے ہی ںکہ میس نے اذان دگی اور اندر داشل ہوا تو امام صاحب نے لپ چا ک کیا قندیل بھانا جات ہو؟ میس نے عو کیا کیا اذان گی ہے ۔ف ربا ری جکیفیتتم نے دیشھی ہے ا سکولوکوں سے چھیاۓ رکھنا۔ کت میں کہ رآپ نے سنت نجر وورکضنیس می اوراسی عشثاء کے وضو سے بمارے
وق رت ووی 7 کی نمازاداٹر اٹی۔(وفیاتالاعمیان :۲۱۷۵ء اط بقات لسن ٹی تا جماحعفی ۳۷۷) حخرت رب ین می مکا ال
حفرت رب بینم نے اپ ےگھعمیں ایک قی رکھود رک یھی ؛ اور ج ب گیا دہ اپنے دل بیس قماوت پاتے فو ا لق میس دائل ہوتے اور لیٹ جات اور جج کک لاج اس یل رج ہل ر(دہ بات جو قیات م نکفار ال ےککیں گے وو) کرو کرس سی کر مامت 2ھ :المرَسرن
)(]٢۱٢٢-۹: اے میرے رب !جج ےکو پچ کے رت ٤ مشھایلھ یس مھ چھلا ام
کر وںءاس بی جو بیس نے کچھوڑاے)
اور ہہ بار با رککتے جاے ؛چھرا نف سکوجواب دی ےکر اے رت ان نے ے دی سکیا ےہا اب تیکت لکرنا۔ (احیاءامعلوم:۱۸۷۸۳) سلیمان ہ نکپ را ککاواتع
اوزکر ای کی ہی ںک ہیک مر رام ومن سلہمان بن ید الیک سور تام میں تھے ءان کے پاس ایک پچھ لا گیا نس بپرت اش شک پجوککھا گیا تھا یں اہوں نے اسے پٹ ھن وا نل ےاوطل بکیا حضرت وححب بن مض ہکولا گیا ءانہوں نے ان سکو یڑ ھاءیٹس می ںککھا تھا:
”بن اَدمَاِنْكَ لَوْرَأیتَ قُربَ مابقي من أحلِكَ لَمَدُتَ فِي طولِ أمَلِكَ و لَرَغِبّتَ في الزيادَةِ ِن عَمَلِكَ ء وَ لَقَصَرّتَ مِن جرصِك و حِيَلِكَ ء و إِنما يَلقَاكَ َدا نَدمُكَ لو قد زَلّتُ بكَ قَتمْكَء وَأسْلَمَكَ أُلَكَ وحَشمُك ء وفَارَقَكَ الوالدُ والقریبٔ و رَفَضَك الولَُّ والنْيِیبٔ
ونحي ىہ وون َال أَنْتَ إإلی دُنيَاكَ عَائِڈ ولا فی عَسَنائِك زَائِڈ ء فَاعمَللِیْوم القيَامَة قبل الحَسَرةِ والِندامَۃ“
(اے ای نآ دم !اگ تھے تی بقع رکا قریب ہونا معلوم ہوچا نے سی آرزوں شی لگ یکردےاوراےعل می زیادی کیا جانب راخب ہو جاے اورابٹی مس وہو ںکوشرکردے اور تھے بڑمی شرمنددگی لای ہوگی اگ یرے ق رم مچسل زا تین تھے ای دغ ال او د دنت اضمات کے ٹف کے وا ےکر کے الین ہوجا یں او رھ سے تی راباپ اوررشنددار جدا ہوچا یں اور بنا وراحہاب کو کر لے جانکیں ۔ یں پا رذ نل تیریی دنیائیش وا لی ںآ گا اورنہ اپ اعمال می سکوئی زیاد یکر گا ۔لہزا قامت کے دن کے لے صرت وشرمنرگی سے پل بی تار ررے) پر نکر امیر ال مین سلیمان ہن عبدالمیک پر شر تکاگم بی طارکی ہگیااور
دوروۓ رے۔ (ا میا ءامعلوم:۵۵/۳م)
پارون ال شید کا خوفآخزت تارم
ایک م رجہ تحخرت اہن اماک جو بڑے بۂ رگ اور غلفاء کے بیہاں ایک خائصس مقام کے حا لک رے ہیں ءاخبوں نے امب ال ین پارون ار یشبح تکی اور رما اکہ:
پکو الد کے سان ےکھڑا ہونا سے او ری ایک کان ےکی طرف جانا ہے۔ ہن اد کچ لی ناک ہآ پکا وکا اکیاے جشت سے بادوزٔ ؟“
بی نک بادشاءکو بت رونا آیاادردہ پے تھا شمارونے گے بد کوک ران کے
تق ٣۲٥ ووی یس خوائ رات نے عو سک اک ام رالھ سن اذ رااپنے او ررقم سکیئے و حضرت این اماک ن ےکہاکہ امب رالم ون نکوئچھوڑ وک دہ روتے روتے رجا یں جاک کہا جا ۓےک۔امیرالھ سن اللد قوف سے م رجئے۔. (اخوم الاہرہ:ا/۸ء١) عبدایڈر بن ھرز وق کیک رآخزت
عبر ال جن ردق چیہ بڑ ےآ زاون اوراہولحب میں وشراب وکباب میں شفول رت تےء ایک پاروہ امب را نین مہدرکی کے سا تھ تھے .اورک نے ہججانے کےساتح دوب شراب فی کی اورنشہ میں مست پڑےرے ہا ںیت ککظ بر ومصرد طزے(زا7ن ےم لیا تد2,1ذاد لہا2( لو نہیں جے_
جب حنشاء کا وفقت ہوا با کین ےآ کک ایک چنگا رک اوران کے پر پرلگادیاءاس کےاٹر سے ود ا ٹے اورپ چا کیا ہوا؟ با ندکی نہ اک مد نیا یگ ہے؟آ پآ خر تک یآ ککوکیسے برداش تک یں گے؟
یکنا دنوب ردتے ر سے اور ھکر نماز گیا ء با دک کی بات ان کے دل یی اکر یھی ء یل دہ کچ دم ےکیحجات ٹڈ صرف ای میس ےک یش بی سار ےکام کچھوڑدوں مس میں بتاہوں _
لزا انہوں نے اتی سساری باحد یو ںکوآزادکردیا اور جن جن سے معاملات ان سے معاملات صاف کے اور جو مال باقی بچاا ںکوصدقہ دید یاءاورت رکا ریو زی زار کرنے گے۔
اف رت اح کو ص وآ کے کل جن عیائش ان کے اس گے دریک ھاکردہ لے ہیں اورس رکے ایک ارینٹ سے ۔ححضرت مفیائنع نے و تچھا
(قيق ۳ ووی کیکوکی بندہ جب اش کے سل کوک چزھوڑ د یا سے ادا سکوا سکاکوئی عون عطا کرت ہیں ادن ےت مکوکیاعطاکیا؟ نے فرما کہ :اید نے بس حال می ںپبھی بے رکھا ہے اس پر داضشیا رہ ےک نٹ عطا کی ے۔ (التواٹن:۲٦٦)
بی چندا ہم امور ہیں جج نکی جاب نوج دنینے سے الن شاء ال گناہ سے بنا آ سان ہوجانۓگا-
2, 2,
٭ پت ہمت لوگکوں کے لے شیع الام تکا ایک نا یا سے“ شفاء
ابآ خ ریس یت بمتلوگوں کے لے وکنا ہ٥ مچھوڑ نا جا جن ذ ہیں جگران سے لیس ت جم کی وج ےگناہ جوا گج ء ایک نایا ب مہ شا نر ت حم الاممت مرو الملت موزانا اشر فی تھان دی رت الشرعلیہ کے مطب روعا یٰ سے نی ںحکرتا ہن کول مال اتکی صا کے ئا سآنف رئیم ےلین فو ں غرم ا تھااورلاکھوں انسا نو ںکوان سے پدابی گی اورددارادراست پگ زین ہو گئ _
ححضر تجگیعم الامت مبردالملت مولا نا اشر فی تھا وی نیکیڈ لی نے ان ایکٹش پوردعنا علت ابرا یی سم ہم ت گنا بگاروں کے لئ اصلا نیک سان ےنجب کیا ےمم س کا خلاصہ یر ےکہ:
”نروزانرسوتے وقت خلوت وتٹہا کی تمس تراغ کلک کے دو رکحعات لم زنذ .کی نیت سے بڑحواو را ںط رح ال تھا لی سے دعا انگوک:
ووق”ق رت ووی اے اللہ ! مم سآ پ کا خت نا فرمان بندہ ول ء مل فرمانبردارک یکا ارادہکرتا یں جنیر نے آزاے سے ھن بنا اورآپ کے ارادے سے سب پیج ہوسکتا سے ء میس جا تا ہو ںکہمیرکی اصلاع ہوہمگر ہمت نیش ہہو کی ءآپ بی کے اخقیار یش مبریی اصلاح سے اے الللد! ٹیش خت ٹالال ہوں بت فی ہو کا جن ہش نفولن من زنر اون آپ دی مب ری مددفرمایے می رقاب یف وکمزور سے گناہوں سے ٹپ ےکی فقوت و طاق ت یں ءآپ می قوت وطافت دہج ء میرے پا ںکوٹی سا مان جا ت نیل ءآپ کی خیب سے میرک جا تکا سامائن پیراکرد تچ اے الیل اجوگناہ ٹیل نے ا بتک کے ہہوں مکی و اپٹی رعت سے معاف فرمارے؟اگمر چرشیل یے نی سکپن اک ہآ تندہ ا نگمنا ہو ںکو کرو گا ء میں جاتنا ہو ںہ آنتمدہ رکرو گا یکن پھر موا فکروالو ںگا_'“ رت تھا وی تہ ہی کہ اس رح سے روزانہ ول بارہ منٹ اپۓے گا ہو ںکی معائی اور کا اخ اراوراپٹی اصلاج کے لے دھا کرو ءاوراپٹی نا لئ یکو وب اپنیاز پان س کہا اکردءک یس ایا نال ہوں ء یس الما حجییث ہول :یبا برا نہوں نت شخوب برا چھلا اہی ےآ پک لی کے سام کہ اہمرو۔ خرت مکی لئ ففرماتے ہی ںکہ ماما كمخہ ےک جس سے شآ پک تجار ت کا تصصانع ے نآ پک یآ مد ی بجحھک ےکی ء نآ پکاشان دشوکت ٹیل رھ فرقآ ےگااورا رٰسخ ےاگر چک عحت نہہوگی مرخ بھی نہب ڑتھگا۔
وق رت وی ران شا انتا لی یا ش رکا وق تآ پکا کا م تھی بن جاد ےگا ۔ او زمحت بھی ہوجاو گی ۔(خطبا تجکیم الامت :۰-۳۸۹۹ ۳۹) رت تھا دکی بیڈ لن کے اس لا جواب وت رہ مد فضنےکا حضرت موا اعم ظز صاحبدامت رکا ام (خلحضرت اقرس مرشدی موم ناابرارائن صاحب نکیل )نے ”نوم تج کیا ہے نس کو بیہاں می ںکیا جانا ے۔
اعلا ں کا آسانز
نٹ کردو: تن مو نا تیعم اخ تر صا حب دامت برکاتم
خاطب سے مرا دوگ مکردو راد حے یا نے گمدیا ہو اہ کے آوا مع وا کی ++ز کلت جس میں پر ہی کی گی نہ ہو دہ مالیں بندہ پر دہ سے بڑے عارف مجن کا ٹن سے وہ جھ تھے مرد وٹ زاں دہ ٹھانہ مھون دی زاں ر ےگمشو یق میں شب وروزمصست یش زا ضس امت ہے ہت سز عر رتاز آزار خخن کی محمد باک سے تیک بت نہیں رات و نگم رل کیائھی بدی گر اصلاب امت کی گی دہ مولاۓ اشرف می شاو دمیں دنن زہے ھمر بجھر راو وی
ویج ےی ووچ
اٹھی کا بے ے اصلاع کا سے نہ بہت مل وآسان سا وضوکر کے دو رکعتییں تم بڑعو دھا کے لے پاتق ھکو پچھر اڑھا البپی گے گار بترہ ہیں مُں بہت خت مج کین ہوں میں ندقو تگمناہوں سے ری کی سے 2 یو ار ار زے ر4غ ہی غیب سےکوئی سماما نکر ات زی ین انان کے ال نی رج ہو چادہ گر یس بندہ تیرا ہیں جن نام کا لون عزاٹتی میری شخ مر لا آر کے ور رو ئل رو یپ س ےک ری رہ ری وکا خیب نس تھا زا خوارت ریم سے خطاؤ ں کو تو عوکر یق گن بے ے ہوگکے ضرور خر سو ان طرخ آزار سز
غدا ے فتظ ے وہ الفاں کا ۰۰ یت اس میں فو ہک یکر کے مڑھو دا سے رو کرگرے ات را پا مُا اور گندہ ہوں میں گناہوں کا گوا ز ینہ ہیں میں نہ مت گل تی کک رن ےکی ے .991 و گمناہوں سے گے کو آسمان کر وانے ہویۓ نف سکی پچال کے ق چرس وشیطاں سکیا جج ےکوڈر بنادرے گرم ہج کے کام کا مرخ زم کو او عط زم کر را درد ہوجاۓ بے آپ 7 ری بندگی سے ہوعزت مری پا اپنے تُردے کوآب حیات گنانہوں کے انپار کو 7" کرالوں گا پی فو انا تصور
نثزامت کا ہر روز اظہار ہو
جب کیابہت جلد ان کا گرم عطاکردےفوات خیب سے نہ بقہ گے گا تیرکی ان میں اکر جم را زرا ہو علیل 0 و سے ً٘ پا سے کو مراواۓشن میں پو لو بچست سے تڑی عقل ریا میں کیا کرگئی نہ خود اٹی وگر را ںآڑے بڑے ش مکی بات سے و ہوکہل اس سےصور تکوگی کیا
ووھ رت قوج
ہرابہت کا سامان کردے 2 ہو نصرت تی پدہۃٗ ٹیپ سے ندفرق آینا یج تیکی آن میں عیموں کی سنا ہے نے بے دیل خوفامر ظمیبیوں کی کرتا سے تو مرکا ایماں مم سکیوں ست سے گم دن میں وہ کہاں 7 دا گیا ہدابیت کو چیا ں کمرے کہ اتی بھی بت يہ تم کرو د- ہا ہیما بعر افرت بھلا اس سے آسان ہو راہ گیا
آفخ می اس جا تکا ذکرمناسب ےک ححقرت مرشیدریی وم وا کی مو( نا شاو ابراران صاحب بیز ڈا لیذ نے اپتی حیات کے اواخ میں ان ت می نکو ایک تصسونسی خویاروان کیا تھا اوران کے پام کچھ یآبا ا ءاس میں حضرت نے وھ ھا ا کا خلاصہ بتاک ہآ نج امم ت صا ب :فن شی لگعریی ہوکی ےء اود ہرطر عکی پر ینانوں می ںگرقار ہے اورا لک وتصرف ہر ےک گنا ہو ںکی وج سے ال نے اتال یکونارائ کرد باےءاودال سکاعلارع اس کے سوا بن ںسکبام تاذ کرے
ووق”ق رت وؤوی اورگناہہوں سے با زۓ لہ اعلا ود ہنی خدا مکوائ سک یلک رکرنا جات ےکہام تکو گزاہوں سے پازر کے او نین انکر اکا مکی جائے۔
ہز اجحخرت والا کےا ارشا دکی ر فی می سض رات خلا رکرا مکی مد مات عالیہمیش ماق رعن ضکرتا ےک دہ ام پالم روف وٹ یجن اکر کی جا ہب خحصضی تجردیں !بیو ہج اس سےنفلت و لا بروا ی کی وجہ سے امت ٹیل مگکرات و وت یک یکرت دِکھائی دے ری تنک نین امک ہکولیگ متروب د برا ھن گے ہیں اوراس اچم ت بین فرب ہکوتار تک ڈگاہہوں سے دبکھا جار ا ےء بل تجر تک بات یر ےک ٹین امنکر کا نام تن رود گیا سے اور جولوک ا ںکابیڑا اٹھاتے ہیں ا نکش نکہا جا تا ے جیب بات ےکمرائن لوگول کے نز ویک محر کام وگنادنذ نزیس اور برا یکو براکہنا اوراس ےش کنا منک مہ وکیا سے ۔فیامی الله المشتکی۔
اللہ سے دعا ےکددہ ہم س بکوگنا اہول سے نے اور امم کو اس سے پان کاگکرعطاءفرماے۔آ ین بارب الھا لین
2 خیپ اللر
ھ
اھ۸ َ ا +7
5٤ 8 آالتاھ 1و لا 2 85۶ ال18 82 7 ' 8 8 ا ساوق اےیں .ا35
7ھ
8141737 ۲۳:۵۶0-412037170 .×آلاد7ہھ1 .5 ...9035707512 : 1(فم ۸9 تد 2200319۰